Page Nav

TRUE

Left Sidebar

False

تازہ ترین

latest

رفع ‏یدین کے حوالہ سے

مفتی صاحب اسلام علیکم ۔گزارش ھے کہ رفع یدین کے حوالہ سے مکمل حدیث جاھئے۔عربی متن مع ترجمہ اور حوالہ۔ مسئلہ رفع یدین وجوب وعدمِ ...




مفتی صاحب اسلام علیکم ۔گزارش ھے کہ رفع یدین کے حوالہ سے مکمل حدیث جاھئے۔عربی متن مع ترجمہ اور حوالہ۔



مسئلہ رفع یدین وجوب وعدمِ وجوب سے متعلق نہیں ہے؛ بلکہ صرف سنیت وافضیلت سے متعلق ہے، جن علماء کے درمیان اس مسئلہ میں اختلاف ہے، تو ان میں دونوں طرف کے لوگ اس بات پر متفق ہیں کہ رفع یدین واجب یا لازم نہیں ہے، ان کے درمیان اختلاف صرف اس بارے میں ہے کہ رفع یدین سنت اور افضل ہے یانہیں؟ لہٰذا یہ بات پہلے سے ذہن نشیں ہوجانی چاہیے کہ رفع یدین نہ کرنا ان کے نزدیک بھی گناہ نہیں ہے، جو رفع یدین کے قائل ہیں، اسی طرح رفع یدین کرنا ان کے نزدیک بھی گناہ نہیں ہے جو عدمِ رفع یدین کے قائل ہیں، مسئلہ صرف حصولِ ثواب وفضیلت سے متعلق ہے۔ 

اس تمھید کے بعداحناف کے نزدیک تکبیر تحریمہ کے علاوہ نماز میں کہیں بھی رفع یدین نہیں ہے ، اُن کے نزدیک رفع یدین کی احادیث منسوخ ہوگئی ہیں، اس لیے کہ احادیث سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام نے رفع یدین کو ترک کردیا تھا اور صرف نیت باندھتے وقت ہاتھوں کو اٹھاتے تھے ، ترمذی شریف میں ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا میں تمھیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز نہ پڑھاوں؟ پھر آپ نے نماز پڑھائی اور صرف پہلی مرتبہ دونوں ہاتھوں کو اٹھایا:
 عن علقمة قال: قال عبد اللہ بن مسعود ألا أصلی بکم صلاة رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، فصلّی *فلم یرفع یدیہ إلا فی أول مرة* (ترمذی: ۳۵/۱، ابواب الصلاة) '

علامہ ابن حزم نے المحلی میں اس حدیث کو صحیح کہا ہے ، امام احمد بن حنبل، دارقطنی، ابن قطان، ابن تیمیہ اورامام نسائی کے نزدیک بھی اس کی صحت مسلّم ہے ، یہ روایت ابوداود، نسائی، شرح معانی الآثار میں بھی متعدد طریق سے مروی ہے ، اس کے علاوہ حضرت براء بن عازب، عبد اللہ بن عمر، ابن عباس، ابوہریرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بھی متعدد احادیث مروی ہیں، جن میں یہ صراحت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف شروع نماز میں رفع یدین کرتے تھے ۔ اس لیے احناف کے نزدیک رکوع میں جاتے اور رکوع سے اٹھتے وقت اور تشہد کے بعد تیسری رکعت کے لیے اٹھتے وقت رفع یدین منسوخ ہے اور نہ کرنا اولیٰ اورافضل ہے۔

[30/05, 05:02] Mufti Mahmood Ul Hassan: