Page Nav

TRUE

Left Sidebar

False

تازہ ترین

latest

اگر کوئی نذر مان لے کہ اگرمیرا فلاں کام ہوجائے

السلام علیکم  مفتی صاحب اگر کوئی نذر مان لے کہ اگرمیرا فلاں کام ہوجائے   میں ساری زندگی زندگی روزہ رکھونگا ظاہر ہے کہ ساری کوئی روزہ نہی...


السلام علیکم  مفتی صاحب اگر کوئی نذر مان لے کہ اگرمیرا فلاں کام ہوجائے  میں ساری زندگی زندگی روزہ رکھونگا ظاہر ہے کہ ساری کوئی روزہ نہیں رکھ سکتا
اب یہ کیا کرے کہ اسکی نذر پوری ہوجائے وضاحت فرمائیں


الجواب حامدا و مصلیا'
اسلام نے ہمیں نذر ماننے سے روکا ہے کیونکہ آدمی نذر پر بھروسہ کرلیتا ہے جبکہ ہرچیز کا اختیار اللہ کے پاس ہے ، وہی جو چاہتا ہے ہوتاہے ،اس لئے مسلمان کو اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہئے اور مشکل سے مشکل وقت میں اس کی طرف رجوع کرکے صدقہ، دعا، استغفاراور نیکی کے ذریعہ آسانی کا سوال کرنا چاہئے ۔ اللہ تعالی بندوں پر نہایت ہی مہربان اور بڑا ہی شفقت کرنے والا ہے ۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے :
نهَى رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم عن النَّذرِ ، وقال : إنَّه لا يرُدُّ شيئًا ، إنَّما يُستخرَجُ به من الشَّحيحِ( صحيح النسائي: 3811)
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ نذر ماننے سے منع کرنے لگے اور فرمانے لگے کہ وہ کسی ہونے والی چیز کو پھیر نہیں سکتی، البتہ اُس کے ذریعہ سے کچھ مال بخیل سے نکلوا لیا جاتا ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہواکہ اولا ہمیں نذر سے پرہیز کرنا چاہئے لیکن اگر کسی نے نذر مان لی ہے اور اس نذر میں اللہ کی معصیت بھی نہیں ہے تو پھر اسے پورا کرے اور یہ پورا کرنا فرض ہوجاتا ہے ۔ اللہ کا فرمان ہے :
{ ثم ليقضوا تفثهم وليوفوا نذورهم } {الحج : 29}
ترجمہ: پھر وہ اپنا میل کچیل دور کریں اور اپنی نذریں پوری کریں ۔
اور نبی ﷺ کا فرمان ہے :
من نذر أن يُطِيعَ اللهَ فلْيُطِعْهُ ، ومن نذرَ أن يعصِيَه فلا يَعْصِه(صحيح البخاري:6696)
ترجمہ: جو شخص اس بات کی نذر مانے کہ وہ اللہ تعالی کی اطاعت کرے گا تو اسے اللہ تعالی کی اطاعت کرنی جاہیے یعنی نذر پوری کرنی جاہیے اور جو شخص نذر مانے کہ وہ اللہ تعالی کی نافرمانی کرے گا تو وہ اللہ تعالی کی نافرمانی نہ کرے۔
کوشش کے باوجوداگر کوئی نذر پوری نہیں کرپارہا ہے یا حالات کچھ ایسے پیدا ہوگئے جن کی وجہ سے مانی ہوئی اطاعت والی نذر کا پورا کرنا دشوار ہوگیا تو ایسی صورت میں نذر کا کفارہ ادا کردے تو نذر پوری ہوجائے گی ۔ نذر کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے ، نبی ﷺ کا فرمان ہے :
كفارةُ النذرِ كفارةُ اليمينِ(صحيح مسلم:1645)
ترجمہ: نذر کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے۔
اور قسم کے کفارے کا بیان قرآن میں مذکور ہے ، اللہ کا فرمان ہے :
لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَٰكِنْ يُؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُمُ الْأَيْمَانَ ۖ فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ ۖ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ۚ ذَٰلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ ۚ وَاحْفَظُوا أَيْمَانَكُمْ ۚ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ( المائدۃ: 89)
ترجمہ: اللہ تمہاری بے مقصد قسموں پر تمہارا مواخذہ نہیں کرے گا لیکن جو سنجیدہ قسمیں تم کھاتے ہو ان کا مواخذہ ہو گا، پس اس (قسم توڑنے) کا کفارہ دس محتاجوں کو اوسط درجے کا کھانا کھلانا ہے جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا انہیں کپڑا پہنانا یا غلام آزاد کرنا ہے اور جسے یہ میسر نہ ہو وہ تین دن روزے رکھے، جب تم قسم کھاؤ (اور اسے توڑ دو) تو یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو، اللہ اسی طرح اپنی آیات تمہارے لیے کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم شکر ادا کرو. 

گویا ایسی منتیں جن کا پورا کرنا اختیار سے باہر ہوں اس کے لئے نذر کا کفارہ ادا کردے جس کا ذکر اوپر والی آیت میں ہے یعنی دس مسکینوں کو کھانا کھلانا، یا انہیں کپڑا پہنانا، یا ایک غلام آزاد کرنا ، ان تینوں میں سے جس کی سہولت ہو کرسکتا ہے اور ان تینوں میں سے کسی کی طاقت نہ ہو تو تین روزے رکھے ۔
(مفتی عامر عباسی، ادارہ تدریس الاسلام انسٹیٹوٹ)