Page Nav

TRUE

Left Sidebar

False

تازہ ترین

latest

قربانی کے فضائل و مسائل

  *=== قربانی کے فضائل و مسائل ===*           (✍ : مفتی سفیان بلند)   *(((((  اہم قسط  )))))* جانور ذبح کرنے سے متعلق بعض امور لاز...

 
*=== قربانی کے فضائل و مسائل ===*
          (✍ : مفتی سفیان بلند)
 
*(((((  اہم قسط  )))))*
جانور ذبح کرنے سے متعلق بعض امور لازم اور ضروری ہیں کہ ان کے بغیر جانور حلال ہی نہیں ہوتا، ان کو *شرائط* کہتے ہیں، بعض امور مسنون اعمال سے تعلق رکھتے ہیں، ان کو *سنتیں* کہتے ہیں اور جو امور شریعت کی نگاہ میں پسندیدہ ہیں، ان کو *مستحبات* کہتے ہیں اور جو امور ناپسندیدہ ہیں، ان کو *مکروہات* کہتے ہیں، بعض چیزیں عوام میں
*توہمات* کے درجہ میں عام ہیں، ذیل میں انہی کے متعلق *اہم مسائل* پیش خدمت ہیں۔
 
 
* ذبح کی آٹھ شرائط:*
١- ذبح کرنے والا عاقل ہو، مسلمان ہو۔
٢- ذبح کے وقت تسمیہ (بسم اللہ) پڑھے، اگر بھول گیا تو ذبیحہ حلال ہے۔
٣- متعدد جانور کی صورت میں ہر ایک پر علیحدہ علیحدہ تسمیہ پڑھنا ضروری ہے۔
٤- تسمیہ پڑھنا جانور ذبح کرنے کی نیت سے ہو، کسی اور کام شروع کرنے کے قصد سے نہ پڑھے۔
٥- تسمیہ پڑھنے کے بعد مجلس تبدیل کرنے سے قبل ذبح کرنا ضروری ہے۔
٦- تسمیہ اور ذبح کے درمیان معتدبہ فاصلہ نہ ہونا شرط ہے۔
٧- آلہ ذبح کا دھاری دار ہونا ضروری ہے، چاہے وہ دھاری دار چیز لوہے کی ہو یا لکڑی کی۔
٨- چار رگوں میں سے تین کا کٹنا لازم ہے، البتہ چار کا کٹنا بہتر ہے۔
نوٹ : *وَدَجَانِ* یعنی دو رگیں گلے کے دونوں جانب ہوتی ہیں، اس سے خون دماغ میں جاتا ہے، *مَرِئُ* یعنی تیسری کھانے کی نالی ہے اور *حلقوم* یعنی چوتھی سانس لینے کی نالی ہے۔
●  اگر ان چار میں سے تین کاٹ دی جائیں تب حلال ہوجائے گا، اگر اس سے کم کٹی تو حلال نہیں ہوگا، کیونکہ اکثر رگیں نہیں کاٹی گئیں اور اگر گردن کی جانب سے ذبح کیا گیا اور یہ رگیں کٹ گئیں تو حلال ہوجائے گا لیکن ایسا کرنا مکروہ ہے۔
● اگر گردن کی جانب سے کاٹا اور ان رگوں میں تین نہیں کٹی تو حلال نہیں ہوگا اور اگر گردن کی جانب سے کاٹا اور مرنے سے پہلے تین رگیں کاٹ دی تو جانور حلال ہوجائے گا۔
 
 
* ذبح کی چھ سنتیں*
١- ذابح کا قبلہ رخ ہونا۔
٢- جانور کا منہ قبلہ کی طرف ہونا۔
٣- بکری اور گائے میں ذبح کرنا سنت ہے اور اونٹ میں نحر کرنا سنت ہے۔
٤- چھری سے ذبح کرنا۔
٥- جانور کو لٹانے سے پہلے چھری تیز کرنا۔
٦- حلق کی جانب سے ذبح کرنا۔
 
 
* ذبح کے گیارہ مستحبات*
١- دن میں ذبح کرنا۔
٢- دھاردار لوہے سے ذبح کرنا۔
٣- حلق کی طرف سے ذبح کرنا۔
٤- خون کی دونوں رگوں کو کاٹنا۔
٥- جانور کو سیدھی کروٹ لٹاکر اس کے اوپر پاؤں رکھ کر ذبح کرنا۔
٦- خود ذبح کرنا۔
٧- ذبح کرنے میں جلدی کرنا۔
٨- ذبح سے قبل جانور کے ساتھ نرمی کا معاملہ کرنا۔
٩- ذبح سے قبل کچھ کھلانا پلانا۔
١٠- ذبح کے بعد جانور کے ٹھنڈا ہونے سے قبل کھال نہ اتارنا۔
*59- ذبح کے بارہ مکروہات*
١- جانور کا منہ قبلہ کی طرف نہ ہونا۔
٢- بکری اور گائے میں نحر کرنا اور اونٹ میں ذبح کرنا۔
٣- چھری یا دھار دار چیز کی بجائے دانت یا ناخن سے ذبح کرنا۔
٤- جانور کے سامنے چھری تیز کرنا۔
٥- ایک جانور کو دوسرے جانور کے سامنے ذبح کرنا۔
٦- گدی کی جانب سے ذبح کرنا۔
٧- رات میں ذبح کرنا البتہ اگر روشنی ہو تو مضائقہ نہیں۔
٨- خون کی دونوں رگوں میں سے ایک کو کاٹنا اور ایک کو چھوڑ دینا۔
٩- ذبح کے بعد جانور کے ٹھنڈا ہونے سے قبل کھال اتارنا۔
١٠- پاؤں سے کھینچ کر ذبح کی جگہ تک لے جانا۔
١١- حرام مغز تک چھری چلانا۔
١٢- ٹھنڈا ہونے سے پہلے جانور کا سر الگ کردینا۔
 
 
* ذبح کرنے کے متفرق احکام*
١- کتابی یعنی یہودی یا نصرانی کا ذبیحہ حلال ہے، کتابی وہ ہوتا ہے جو سابقہ ادیان سماوی پر واقعةً ہو، اگر کوئی کتابی جانور کو بسم اللہ پڑھ کر ذبح کرتا ہے تو اس کا ذبیحہ حلال ہے اور اگر بغیر بسم اللہ کے ذبح کرے تو اس کا ذبح کیا ہوا حرام ہوگا۔
٢- غیر مسلم بسم اللہ پڑھ کر بھی ذبح کرے تب بھی حلال نہیں ہوگا۔
٣- اگر مشین کے ذریعہ ذبح کیا اور اس پر بسم اللہ کا ٹیپ لگا دیا تو حلال نہیں ہوگا کیونکہ مسلمان نے حلال نہیں کیا اور نہ اس پر مسلمان نے بسم اللہ پڑھا۔
٤- حلق اور سینہ کے درمیان جو ہڈی ہے اس پر چھری چلا کر ذبح کرے ۔
٥- اگر جانور کو کرنٹ دیکر یا پانی میں ڈال کر بیہوش کیا، لیکن مرنے سے پہلے ذبح کردیا تو حلال ہوگا اور اگر مرنے کے بعد ذبح کیا تو حلال نہیں ہوگا ۔
*نوٹ :* بیہوش جانور میں زندہ ہونے کی علامت یہ ہے کہ وہ سانس لے رہا ہو۔
٦- کسی بھی تیز دھار دار چیز سے ذبح کرنا جائز ہے، مثلا چھری،بلیڈ وغیرہ، جو چیز دھار دار نہ ہو یا دھار دار ہو لیکن تیز نہ ہو اس سے جانور کو تکلیف ہوتی ہے، اس لئے اس سے ذبح کرنا مکروہ ہے۔
٧- جو جانور بھاگ گیا ہو اور قبضے میں نہیں آتا ہو اس کو بسم اللہ پڑھ کر دور سے نیزہ مار دے، یا تیر مار دے اور زخمی کر دے یہ نیزہ کہیں بھی لگے، اس سے وہ مرجائے تو حلال ہوجائے گا کیونکہ یہاں مجبوری ہے۔
 
 
* قربانی سے متعلق چند توہمات اور ان کا ازالہ*
*١- قربانی کے خون میں پاؤں ڈبونا*
○ بعض لوگ جب قربانی کرتے ہیں یا صدقہ کا بکرا کاٹتے ہیں، چھری پھیرنے کے بعد جب خون نکلنا شروع ہوتا ہے تو وہ اپنے دونوں پیر خون میں ڈبولیتے ہیں، سو یہ ناجائز ہے کیونکہ یہ خون نجس ہوتا ہے، اور نجاست سے بدن کو آلودہ کرنا دین و مذہب کی رُو سے عبادت نہیں ہوسکتا، اس لئے یہ اعتقاد گناہ اور یہ فعل ناجائز ہے۔
*٢- ذبح شدہ جانور کا گوشت میں لگا ہوا خون*
○ گوشت میں جو خون لگا رہ جاتا ہے وہ پاک ہے، اس سے کپڑے ناپاک نہیں ہوتے، البتہ بوقتِ ذبح جو خون جانور کی رگوں سے نکلتا ہے وہ ناپاک ہے۔
○ قربانی کے جانور کا بہتا ہوا خون بھی اسی طرح ناپاک ہے جس طرح کسی اور جانور کا، خون کے اگر معمولی چھینٹے پڑجائیں جو مجموعی طور پر انگریزی روپیہ کی چوڑائی سے کم ہوں تو نماز ہوجائے گی، ورنہ نہیں، البتہ جو خون گردن کے علاوہ گوشت پر لگا ہوا ہوتا ہے وہ ناپاک نہیں۔
٣- *بغیر دستے کی چھری سے ذبح کرنا*
○ خالص لوہے کی یا کسی بھی دھات کی بنی ہوئی چھری کا ذبیحہ جائز ہے، اور یہ خیال بالکل غلط ہے کہ چھری میں اگر لکڑی نہ لگی ہو تو ذبیح مردار ہوجاتا ہے۔
*٤- ذابح کی مغفرت*
○ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ذبح کرنے والے کى بخشش نہ ہوگى، سو یہ محض غلط ہے۔
*٥- چاقو کی کیلیں*
○ بعض لوگ کہتے ہیں کہ جس چاقو سے جانور ذبح کیا جائے، اس سے حلال ہونے کى شرط یہ ہے کہ اس چاقو میں تین کیلیں ہوں، یہ بھى محض غلط ہے۔
*٦- ولد الزنا اور عورت کا ذبیحہ*
○ مشہور ہے کہ ولد الزنا  کا ذبیحہ درست نہیں، یہ بھى محض غلط ہے۔
○ بعض عوام عورتوں کے ذبیحہ کو درست نہیں سمجھتے، سو یہ محض غلط ہے۔
*٧- بقر عید کا روزہ*
○ بعض عوام کہتے ہیں کہ بقر عید کے روز قربانى کرنے تک روزہ سے رہے، یہ محض بے اصل ہے، البتہ اپنى قربانى سے کھانا مستحب ہے، لیکن وہ روزہ نہیں ہے، نہ اس میں روزہ کا ثواب ہے، نہ اس میں روزہ کى نیت ہے۔
*٨- خصی جانور کی قربانی*
○ بعضے لوگ بدھیا (خصّى) جانور کى قربانى درست نہیں سمجھتے سو یہ محض غلط بات ہے بلکہ خصی کى تو اور زیادہ افضل ہے، *ہمارے محبوب اور آقا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے خصی دنبہ کى قربانى فرمائى ہے۔*
*٩- گوشت میں ہڈی*
○ بعض عوام کہتے ہیں کہ اگر گوشت میں ہڈى نہ ہو تو وہ گوشت مکروہ ہو جاتا ہے، یہ محض بے اصل ہے۔
*١٠- معاونِ ذابح کے لئے تسمیہ پڑھنا*
○ عوام میں مشہور ہے کہ ذبح کرنے والے کے ساتھ جانور کو پکڑنے والے اور امداد کرنے والے پر بھى *بسم اللہ اللہ أکبر* کہنا واجب ہے، سو یہ محض غلط ہے۔
*نوٹ :* ایک ہے *معاونِ ذابح* جو کہ جانور کو پکڑتا ہے مگر وہ ذبح نہیں کرتا اور ایک ہے *معین فی عمل الذبح* جو کہ ذبح بھی کرتا ہے، اب مسئلہ یہ ہے کہ ذابح پر بسم اللہ پڑھنا واجب ہے، اسی طرح *معین فی عمل الذبح پر بھی واجب ہے اور معینِ فی عمل الذبح حقیقةً وہ ہے جو چھری چلانے میں مدد دے* مثلاً ایک شخص کمزور ہے اس میں چھری چلانے کی پوری قوت نہیں تو دوسرا آدمی اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر قوت سے چھری چلا دے تو اس پر بھی بسم اللہ پڑھنا لازم ہے اور جو آدمی جانور کے پیر وغیرہ پکڑے وہ حقیقةً معینِ فی عمل الذبح نہیں بلکہ معاونِ ذابح ہے۔
*١١- معاون ذابح کافر ہو*
○ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر ذبح کى اعانت کرنے والا مثلاً جانور کو پکڑنے والا کافر ہو تو ذبیحہ حلال نہیں سمجھا جاتا، یہ سمجھنا بالکل غلط ہے۔
*١٢- حرام مغز تک چھری مارنا*
○ بعض لوگ ذبح کرتے وقت حرام مغز (وہ سفید غدود جو گردن کى ہڈى کے اندر ہوتى ہے) کاٹ ڈالتے ہیں، حالانکہ ایسا کرنا مکروہ ہے اسى طرح بعض لوگ ذبح کے وقت گردن کو توڑ دیتے ہیں یہ بھى ٹھیک نہیں ہے، اس سے جانور کو زائد تکلیف ہوتى ہے، حدیث شریف میں اس سے منع آیا ہے۔
(مستفاد از فقہ الحلال کورس و ثمرة الفقه و فتاوی یوسفی و فتاوی محمودیہ و اغلاط العوام)
*ناشر: دارالریان کراتشی*