NotoSansArabicFont

تازہ ترین

latest

نعمت کے وقت باجے (موسیقی) کی آواز؛ اور مصیبت کے وقت ہائے وائے کی آواز

*السلسلة الصحيحة # ٣٢٨٠* *As-Silsilah As-Sahihah # 3280* عَنْ أَنْسِ بْنِ مَالِكٍ مَرفُوعاً: *«صَوتَانِ مَلْعُونَان ، صَوْتُ مِزْمَار عِنْد ...




*السلسلة الصحيحة # ٣٢٨٠*
*As-Silsilah As-Sahihah # 3280*

عَنْ أَنْسِ بْنِ مَالِكٍ مَرفُوعاً: *«صَوتَانِ مَلْعُونَان ، صَوْتُ مِزْمَار عِنْد نِعمَةٍ ، وَ صَوت وَيْلٍ عِنْد مُصِيْبَة» .*

Narrated Anasؓ bin Malik, in *a report raised (to the Prophet ﷺ): "Two voices are cursed: the sound of a musical instrument (flute/pipe) at the time of a blessing; and the wailing sound (of woe) at the time of a calamity."*

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً *(نبی کریم ﷺ سے) روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دو آوازیں ملعون (ملامت زدہ اور محرومِ رحمت) ہیں: نعمت کے وقت باجے (موسیقی) کی آواز؛ اور مصیبت کے وقت ہائے وائے کی آواز۔“*

آپ ﷺ نے واضح فرمایا کہ جب اللہ کوئی نعمت، کامیابی یا خوشی عطا فرمائے تو اس کا شکر عاجزی اور بندگی سے ادا ہونا چاہیے، نہ کہ آلاتِ موسیقی، باجوں، ناچ گانے اور لایعنی اودھم کے ذریعے جو انسان کو صاحبِ نعمت ﷻ سے غافل کر دیں۔ اسی طرح جب کوئی مصیبت، صدمہ یا موت واقع ہو، تو صبر اور استرجاع یعنی "إِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ' کہنا مؤمن کا شیوہ ہونا چاہیے، نہ کہ جاہلیت کی طرح کپڑے پھاڑنا، منہ پیٹنا اور ہائے وائے کی صدائیں بلند کرنا۔ یہ فرمان ہمیں جذبات پر قابو پانے، شکر و صبر کا امتزاج بننے اور ہر حال میں اللہ کی رضا کے دائرے میں رہنے کی تاکید کرتا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہمیں خوشیوں میں شکر گزار اور مصائب میں صابر رہنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہر قسم کی ملعون ایجادات و خرافات سے ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے۔ آمین۔)