جامع الترمذي # ٢١٨١ Jame Al Tirmizi # 2181 عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّ...
جامع الترمذي # ٢١٨١
Jame Al Tirmizi # 2181
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُكَلِّمَ السِّبَاعُ الْإِنْسَ، وَحَتَّى تُكَلِّمَ الرَّجُلَ عَذَبَةُ سَوْطِهِ، وَشِرَاكُ نَعْلِهِ، وَتُخْبِرَهُ فَخِذُهُ بِمَا أَحْدَثَ أَهْلُهُ مِنْ بَعْدِهِ» .
Abu Sa'eed Al-Khudriؓ narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “By the One in Whose Hand is my soul! The Hour will not be established until predators speak to people, and until the tip of a man's whip and the straps on his sandal speak to him, and his thigh informs him of what occurred with his family after him.”
حضرت ابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہو گی جب تک کہ درندے انسانوں سے گفتگو نہ کرنے لگیں، اور جب آدمی سے اس کے کوڑے کا کنارہ اور اس کے جوتے کا تسمہ گفتگو نہ کرنے لگے؛ اور اس کی ران اس کام کی خبر دینے لگے جو اس کے گھر والوں نے اس کی غیر حاضری میں انجام دیا ہے۔“
_*(آج سے کچھ عرصہ پہلے تک، جب IOT جیسی ٹیکنالوجی دریافت نہیں ہوئی تھی، منکرینِ حدیث ایسی احادیث کا مذاق اڑاتے تھے، لیکن اب سائنسی ترقی کا رخ اسی طرف جا رہا ہے اور ان میں سے کچھ باتیں عملی طور پر واقع ہوتی نظر آ رہی ہیں۔ اللہ سبحانہ وتعالٰی ہمیں احادیث کا فہم اور ان کے احکام پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین)
