کیا ہم بھیڑیوں سے بدتر ہو چکے ہیں؟ ایک سماجی رویے کا جائزہ سوشل میڈیا پر ایک مشہور بات بیان کی جاتی ہے کہ سخت سردیوں میں جب بھیڑیوں کو شکار...
کیا ہم بھیڑیوں سے بدتر ہو چکے ہیں؟ ایک سماجی رویے کا جائزہ
سوشل میڈیا پر ایک مشہور بات بیان کی جاتی ہے کہ سخت سردیوں میں جب بھیڑیوں کو شکار نہیں ملتا تو وہ ایک دائرہ بنا کر بیٹھ جاتے ہیں، اور جیسے ہی کوئی کمزور بھیڑیا بھوک سے گر جاتا ہے، باقی سب اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔
اگرچہ یہ واقعہ سائنسی طور پر ثابت نہیں، مگر بطور تمثیل اس میں ایک گہرا پیغام ضرور پوشیدہ ہے۔
اصل سوال: کیا ہم بھی ایسا کرتے ہیں؟
سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا انسانوں کے معاشرے میں بھی کچھ ایسا ہی رویہ نظر نہیں آتا؟
ہم دیکھتے ہیں کہ:
-
جو شخص مالی طور پر کمزور ہو، وہی دھوکے کا سب سے آسان شکار بنتا ہے
-
جو حالات سے ٹوٹا ہوا ہو، اسی پر مزید تنقید کی جاتی ہے
-
جو جذباتی طور پر نڈھال ہو، اسے سہارا دینے کے بجائے مزید تنہا کر دیا جاتا ہے
-
جو سماجی طور پر کمزور ہو، اسے ہی استحصال کا نشانہ بنایا جاتا ہے
کمزور پر وار کرنا کیوں آسان لگتا ہے؟
انسانی نفسیات میں ایک پہلو یہ بھی ہے کہ بعض لوگ اپنی برتری ثابت کرنے کے لیے کمزور کو نشانہ بناتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ طاقت کا اظہار اسی وقت ممکن ہے جب سامنے والا دفاع نہ کر سکے۔
یہی رویہ:
-
دفاتر میں نظر آتا ہے
-
کاروباری دنیا میں دکھائی دیتا ہے
-
خاندانی معاملات میں بھی جھلکتا ہے
-
حتیٰ کہ تعلیمی اداروں میں بھی دیکھا جا سکتا ہے
اصل طاقت کیا ہے؟
حقیقی طاقت یہ نہیں کہ آپ کمزور کو مزید گرا دیں۔
حقیقی طاقت یہ ہے کہ آپ گرتے ہوئے کو سہارا دیں۔
اسلامی تعلیمات ہمیں یہی سبق دیتی ہیں:
-
مظلوم کا ساتھ دو
-
یتیم کا خیال رکھو
-
مسکین کی مدد کرو
-
کمزور کو دباؤ نہیں، سہارا دو
ہمیں کیا بدلنا ہوگا؟
اگر ہم چاہتے ہیں کہ معاشرہ بہتر ہو تو ہمیں:
-
کمزور کو موقع دینا ہوگا
-
مالی طور پر مجبور شخص کا استحصال بند کرنا ہوگا
-
مشکل میں گھرے فرد کا مذاق اڑانے کے بجائے اس کی رہنمائی کرنی ہوگی
-
طاقت کو ظلم کے بجائے خدمت کے لیے استعمال کرنا ہوگا
نتیجہ
بھیڑیوں کی کہانی شاید حقیقت نہ ہو، مگر انسانوں کے رویوں کی حقیقت ہمارے سامنے ہے۔
ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہم طاقت کا استعمال کمزور کو گرانے کے لیے کریں گے یا اسے اٹھانے کے لیے۔
اگر معاشرے میں ہر شخص ایک کمزور کا سہارا بن جائے، تو شاید ہمیں کسی بھیڑیے کی مثال دینے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔
