Page Nav

TRUE

Left Sidebar

False

تازہ ترین

latest

مام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی خوش اخلاقی کا واقعہ

 خطیب نے ایک واقعہ نقل کیا ہے کہ ایک موچی امام  ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے پڑوس میں رہتا تھا، دن بھر بازار میں کام کرتا اور رات بھر شراب...



 خطیب نے ایک واقعہ نقل کیا ہے کہ ایک موچی امام  ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے پڑوس میں رہتا تھا، دن بھر بازار میں کام کرتا اور رات بھر شراب کے نشے میں شور مچاتا رہتا، امام صاحب کو اس کی حرکتوں سے بہت تکلیف ہوتی، عبادت وریاضت میں خلل ہوتا، لیکن کبھی بھی اس سے شکایت نہ کی،

ایک دن پولیس موچی کو پکڑ کر لے گئی اور جیل میں بند کردیا، رات بھر امام صاحب نے اس کے شور وشرابے نہیں سنے ،پتہ کیاتو معلوم ہوا کہ پولیس پکڑ کر لے گئی ہے، امام صاحب اپنے بلند مقام کا خیال کئے بغیر سیدھے کچہری پہونچے، کچہری میں کھلبلی مچ گئی ، حاکم جو آپ کا شاگرد تھا  خودبھاگا ہوا باہر آیا اور دریافت کیا کہ حضرت یہاں قدم رنجہ فرمانے کی کیا وجہ ہے؟ فرمایا کہ میرے محلہ کا موچی جو میرا پڑوسی بھی ہے پولیس والوں نے اسے گرفتار کرکے جیل بھیج دیا ہے، اسے میری ضمانت پر رہا کردیا جائے، چنانچہ اسے جیل سے رہا کردیا گیا، 

موچی جب جیل سے باہر آیا تو دیکھا گیا کہ امام صاحب اس کا ہاتھ پکڑے ہوئے فرمارہے ہیں کیوں بھائی! میں نے تمہیں ضائع ہونے تو نہیں دیا اس پر موچی سرجھکائے کہہ رہا تھا نہیں میرے سردار! میرے آقا! آج کے دن سے آپ مجھے ایسی حرکتوں میں مبتلا نہ پائیں گے، جن سے آپ کو اذیت ہوتی تھی، امام صاحب کے اخلاق کی بلندی کا حال ملاحظہ فرمائیے، جس موچی نے امام صاحب کو ہمیشہ تکلیف پہونچائی اس کے ساتھ بھی آپ نے کس قدربلند اخلاقی کا مظاہرہ کیا۔ 

(خطیب بغدادی، تاریخ بغداد۱۳؍۳۶۱ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱۹۹۷)
امام صاحب نہ صرف خود اخلاق کی بلندیوں پر فائز تھے؛ بلکہ اپنے کارندوں اور ملازموں کو بھی خوش اخلاقی کا سبق دیا کرتے تھے۔