اختلاف کرنے کے آداب! امام شافعی رحمہ اللہ سے سیکھیں یونس کا غصہ اور استاد کی عاجزی امام...
اختلاف کرنے کے آداب!
امام شافعی رحمہ اللہ سے سیکھیں
یونس کا غصہ اور استاد کی عاجزی
امام شافعی رحمہ اللہ کے شاگردوں میں سے ایک شاگرد کا نام یونس تھا۔ ایک مرتبہ کسی مسئلے میں یونس کا اپنے استاد امام شافعی رحمہ اللہ سے اختلاف ہوگیا۔ یونس نے اپنی رائے کا اظہار کیا، مگر گفتگو کے بعد وہ غصے میں اٹھ کھڑا ہوا، کلاس ادھوری چھوڑی اور سبق مکمل کیے بغیر اپنے گھر چلا گیا۔
رات ہوئی تو اچانک یونس کے دروازے پر دستک ہوئی۔ یونس نے دروازہ کھولا تو سامنے امام شافعی رحمہ اللہ کھڑے تھے۔ وہ اپنے استاد کو رات کے اس پہر اپنے گھر کے دروازے پر دیکھ کر حیران رہ گیا۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا:
"اے یونس! سینکڑوں باتیں ایسی ہیں جو ہمیں باہم متحد کرتی ہیں، اور صرف ایک مسئلہ ایسا ہے جس میں ہمارا اختلاف ہے۔"
دل جیت لینا بحث جیتنے سے زیادہ اہم ہے
پھر فرمایا:
"اے یونس! تمام اختلافات میں اپنے بھائیوں سے جیتنے کی کوشش نہ کیا کرو؛ کبھی کبھی دل جیت لینا، مناظرہ اور بحث جیتنے سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔"
اختلاف کا مطلب یہ نہیں کہ تعلق ختم کر دیا جائے۔ جن لوگوں کے ساتھ ہم نے زندگی کے خوبصورت لمحات گزارے ہیں، ان تعلقات کو محض ایک اختلاف کی وجہ سے تباہ نہیں کرنا چاہیے۔ ہوسکتا ہے کہ ایک دن ہمیں انہی لوگوں کے پاس واپس جانا پڑے، انہی کے ساتھ بیٹھنا پڑے اور انہی کے تعاون کی ضرورت پیش آئے۔
غلطی سے نفرت، غلطی کرنے والے سے نہیں
ہمیں غلطی سے نفرت کرنی چاہیے، مگر غلطی کرنے والے سے نفرت نہیں کرنی چاہیے۔
معصیت سے دل سے نفرت کریں، مگر گناہ گار کے لیے اصلاح، معافی اور رحمت کا دروازہ بند نہ کریں۔
کہنے والے کی بات پر تنقید کریں، مگر کہنے والے کی عزت اور ادب کو ملحوظ رکھیں۔
اختلاف کرتے ہوئے یہ فرق ہمیشہ سامنے رہنا چاہیے کہ ہمارا مقصد کسی انسان کو شکست دینا نہیں بلکہ غلطی کی اصلاح کرنا ہے۔
ہماری کوشش بیماری کو ختم کرنے کی ہونی چاہیے، بیمار کو ختم کرنے کی نہیں۔
اختلاف اگر علم، اخلاص، ادب اور خیرخواہی کے ساتھ ہو تو وہ دشمنی نہیں بنتا؛ بلکہ حق کی تلاش کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
یاد رکھیں!
ہر اختلاف تعلق توڑنے کے لیے نہیں ہوتا، بعض اختلافات تعلقات کو مزید سمجھ داری، وسعتِ ظرف اور حسنِ اخلاق عطا کرنے کے لیے بھی آتے ہیں۔
اللہ ہمیں اختلاف کے آداب سکھائے اور باہمی محبت عطا فرمائے۔ آمین
