NotoSansArabicFont

تازہ ترین

latest

یہ مشروب آپ کے گردے ٹھیک کر دے گا. واقعی؟

تھمب نیل نے کہا “علاج”: ایک وائرل اسموتھی کیسے انہی لوگوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے جنہیں شفا کا وعدہ کرتی ہے تھمب نیل وہ چھوٹی سی تصوی...

تھمب نیل نے کہا “علاج”: ایک وائرل اسموتھی کیسے انہی لوگوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے جنہیں شفا کا وعدہ کرتی ہے

تھمب نیل وہ چھوٹی سی تصویر ہوتی ہے جو یوٹیوب پر ہر ویڈیو کے ساتھ نظر آتی ہے، اور ویڈیو کھولنے سے پہلے ہی بتاتی ہے کہ اس میں کیا ہے۔

تصور کیجیے، پچاس کے پیٹے میں ایک شخص ہے۔ ڈاکٹر نے اسے بتایا ہے کہ اس کے گردے کمزور ہو رہے ہیں، اور وہ پریشان ہے۔ ایک شام ایک تھمب نیل پر اس کی نظر پڑتی ہے: ایک مسکراتا ہوا یوٹیوبر، ہاتھ میں چمکدار سبز گلاس، اور تصویر پر موٹے حروف میں لکھا ہے: “یہ مشروب آپ کے گردے ٹھیک کر دے گا!”

وہ کلک کرتا ہے۔ ویڈیو خوشگوار اور پُراعتماد ہے۔ کیلے، کھجوریں، پالک، شہد، ناریل کا پانی، سب بلینڈر میں ڈالیں اور پی جائیں۔ وہ روز صبح یہ مشروب پینا شروع کر دیتا ہے، اور ویڈیو اپنے بھائی اور دو دوستوں کو فیملی گروپ میں بھیج دیتا ہے۔

ویڈیو نے اسے کیا نہیں بتایا

کمزور گردوں والے افراد کو اکثر پوٹاشیم کم کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے، اور اس گلاس کی تقریباً ہر چیز پوٹاشیم سے بھرپور ہے۔ جو گردہ پوٹاشیم خارج نہیں کر پاتا، اس کی وجہ سے یہ خون میں جمع ہونے لگتا ہے، جو دل کی دھڑکن بگاڑ سکتا ہے۔ کھجوریں اور شہد اس کی شوگر بھی بڑھا دیتے ہیں، اور ذیابیطس خود گردوں کی خرابی کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔ وہ گردے بچانے نکلا تھا، مگر اپنے دل اور شوگر پر دباؤ ڈال بیٹھا۔

یہ شخص فرضی ہے، مگر یہ کہانی نہیں۔ ہر روز لاکھوں لوگ صرف ایک تھمب نیل، ایک عنوان اور ایک پُراعتماد چہرے کو دیکھ کر صحت کے فیصلے کرتے ہیں۔ تو اسے کس کو روکنا چاہیے تھا؟ ویڈیو بنانے والے کو، پلیٹ فارم کو، حکومت کو، یا خود اسے؟ سچ یہ ہے کہ چاروں کو۔

اصل پیغام تھمب نیل ہی ہے

زیادہ تر لوگ ویڈیو آخر تک نہیں دیکھتے، اور بہت سے تو دیکھتے ہی نہیں۔ اسکرول کرتے ہوئے وہ صرف تھمب نیل اور عنوان دیکھتے ہیں، اور یہی ان کے ذہن میں رہ جاتا ہے۔ اکثر ناظرین کے لیے تھمب نیل ہی پوری ویڈیو ہے۔

ویڈیو بنانے والے یہ بات خوب جانتے ہیں۔ تھمب نیل چیخ چیخ کر کہتا ہے “یہ غذا کینسر ختم کر دیتی ہے!” جبکہ ویڈیو کے اندر بہت محتاط بات ہوتی ہے: “کچھ لیبارٹری تحقیقات کے مطابق اس کے بعض اجزاء کینسر کے خلیات پر اثر ڈال سکتے ہیں۔” اگر کوئی اعتراض کرے تو وہ اپنے محتاط الفاظ کی طرف اشارہ کر دیتے ہیں۔ دعویٰ لاکھوں لوگوں تک پہنچ چکا ہوتا ہے، اور باریک الفاظ دعویٰ کرنے والے کو بچا لیتے ہیں۔ یہ رجحان صرف صحت تک محدود نہیں؛ راتوں رات امیر بننے کے خواب بھی اسی طرح بکتے ہیں، جیسا کہ ہم نے یوٹیوب ویڈیوز اور جادوئی دولت میں دیکھا تھا۔

یہ بڑے وعدے تین طرح سے نقصان پہنچاتے ہیں:

  • خود نسخہ نقصان دیتا ہے۔ قدرتی ہونے کا مطلب بےضرر ہونا نہیں، خاص طور پر اس شخص کے لیے جو پہلے سے بیمار ہو۔ پھلوں اور شہد سے بنی “صحت بخش” اسموتھی شوگر کو آسمان تک پہنچا سکتی ہے۔
  • اصل علاج میں تاخیر ہوتی ہے۔ جو شخص سمجھے کہ ایک مشروب اسے ٹھیک کر رہا ہے، وہ چیک اپ چھوڑ سکتا ہے، دوا بند کر سکتا ہے یا ٹیسٹ ٹال سکتا ہے۔ سنگین بیماریوں میں ضائع ہوئے مہینے جان لے سکتے ہیں۔
  • اعتماد ٹوٹ جاتا ہے۔ جب “علاج” ناکام ہوتا ہے تو کچھ لوگ ہر طبی مشورے کو ناقابلِ اعتبار سمجھنے لگتے ہیں، اور یہی بےاعتمادی ان کے اگلے فیصلوں میں بھی شامل ہو جاتی ہے۔

جب تھمب نیل ویڈیو سے زیادہ یقین سے بات کرے، تو سمجھ لیجیے کہ بنانے والا خود جانتا ہے کہ دعویٰ سچ نہیں۔

محترم یوٹیوبر: آپ کے ناظرین تجربہ گاہ نہیں

اگر آپ ویڈیوز بناتے ہیں تو آپ کے پاس اصل ہنر ہے: کہانی سنانا، ایڈیٹنگ، کیمرے کے سامنے دلکش انداز۔ ان میں سے کسی کے لیے یہ جاننا ضروری نہیں کہ گردہ کیسے کام کرتا ہے۔ یہ بالکل ٹھیک ہے، جب تک آپ اسی ہنر سے ایسے طبی فیصلے نہ بانٹنے لگیں جنہیں پرکھنے کی صلاحیت آپ کے پاس نہیں۔

صحت پر ویڈیو بنانے والے ہر شخص کو یہ لکیر یاد رکھنی چاہیے:

تجربہ بانٹنا خوش آئند ہے: “میں نے سبزیاں زیادہ کھانی شروع کیں تو خود کو زیادہ توانا محسوس کیا۔” “یہ اسموتھی مجھے پسند ہے۔” “ایک تحقیق میں یہ سامنے آیا، اس کا لنک یہ رہا۔”

نسخہ تجویز کرنا درست نہیں: “یہ آپ کے گردے ٹھیک کر دے گا۔” “یہ پی لیں، دوا کی ضرورت نہیں۔” “یہ کینسر کا علاج ہے۔” کوئی انفلوئنسر، بلکہ سچ پوچھیں تو کوئی اکیلا ڈاکٹر بھی، لاکھوں اجنبیوں سے ایسا وعدہ نہیں کر سکتا۔

اور وہ بات جو ہر اس یوٹیوبر کے لیے اہم ہونی چاہیے جو دیرپا چینل چاہتا ہے: چونکا دینے والے دعوے اس ہفتے کلک دلاتے ہیں، مگر اعتماد برسوں تک ناظرین کو جوڑے رکھتا ہے۔ اپنا تھمب نیل ایمان دار رکھیں، بتائیں کہ آپ کو کون پیسے دے رہا ہے، بیمار ناظرین کو ڈاکٹر سے مشورے کی یاد دہانی کرائیں، اور غلطی ہو تو کھلے عام درست کریں۔ جو ناظر آپ پر بھروسہ کرتا ہے، وہ لوٹ کر آتا ہے۔ جسے نقصان پہنچا، وہ سب کو بتاتا ہے۔

حکومتیں جاگ رہی ہیں

کلینک کھولنے کے لیے لائسنس چاہیے، مگر لاکھوں لوگوں کو بیماری کا علاج بتانے کے لیے کچھ نہیں۔ جب ایک ویڈیو سو اسپتالوں سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکتی ہو تو اس خلا کا کوئی جواز نہیں۔

کچھ ممالک نے یہ خلا پُر کرنا شروع کر دیا ہے۔ چین اب طب، قانون، مالیات یا تعلیم پر بات کرنے والے کانٹینٹ کریئیٹرز سے اپنی قابلیت ثابت کرنے کا تقاضا کرتا ہے، اور خلاف ورزی پر تقریباً 14 ہزار امریکی ڈالر تک جرمانہ ہو سکتا ہے (Fortune)۔ متحدہ عرب امارات سمیت کچھ ممالک پہلے ہی معاوضہ لے کر اشتہار کرنے والے انفلوئنسرز کے لیے لائسنس لازم کر چکے ہیں۔ بےلگام دعووں کا دور ختم ہو رہا ہے۔

بہترین قوانین شخص کو نہیں، دعوے کو نشانہ بناتے ہیں:

  • جو کام طبی پریکٹس جیسا ہو، اس کے لیے لائسنس لازم ہو: ذاتی مشورہ، بیماروں کے لیے معاوضے پر ڈائٹ پلان، اور کسی بیماری کے علاج کا کوئی بھی وعدہ۔
  • عام تجربات بانٹنے کی آزادی رہے، تاکہ مریض اور والدین اپنے تجربات بتا سکیں۔
  • تھمب نیل کو ہی دعویٰ مانا جائے، نہ کہ نویں منٹ میں چھپے باریک الفاظ کو۔
  • سزا نظر بھی آئے۔ لوگ بڑے جرمانے سے زیادہ پکڑے جانے سے ڈرتے ہیں، اس لیے حقیقی کیسز سامنے لانا کسی بھی تنبیہ سے زیادہ سکھاتا ہے۔

پلیٹ فارمز: سب سے اونچی آواز کو انعام دینا بند کریں

سفارشی الگورتھم اسی چیز کو آگے بڑھاتے ہیں جو لوگوں کو اسکرین سے جوڑے رکھے، اور ایک ڈرامائی “علاج” تقریباً ہمیشہ اس ڈاکٹر سے جیت جاتا ہے جو کہے “یہ صورتحال پر منحصر ہے”۔ پلیٹ فارمز نے کچھ ابتدائی قدم اٹھائے ہیں، جیسے مستند ماہرین کے لیے صحت کے لیبل اور گمراہ کن کلک بیٹ کے خلاف کارروائی، مگر انہیں مزید آگے بڑھنا ہوگا:

  • عنوان، تھمب نیل اور گفتگو میں “علاج” اور “شفا” کے دعووں کی نشاندہی کریں، اور ان کی رسائی یا کمائی کم کریں۔
  • تھمب نیل کا ویڈیو سے موازنہ کریں اور دونوں کے فرق پر سزا دیں۔
  • جب کوئی کینسر، ذیابیطس، گردے یا دل کے بارے میں تلاش کرے تو مستند آوازیں پہلے دکھائیں۔
  • غیر مصدقہ طبی دعووں والی ویڈیو شیئر کرنے سے پہلے ایک ہلکا سا وقفہ دیں۔

آپ کا کردار: تیس سیکنڈ کا وقفہ

زیادہ تر ناظرین اس کہانی میں بےقصور ہیں۔ ایک پریشان مریض سائنسدان نہیں ہوتا، اور کسی کو بھی چمکدار گلاس اور پُراعتماد مسکراہٹ سے متاثر کرنا آسان ہے۔ مگر آخری دفاعی لکیر بھی آپ ہی ہیں، اپنے لیے بھی اور اپنے فیملی گروپ کے ہر فرد کے لیے بھی۔ صحت سے متعلق کسی ویڈیو پر یقین کرنے سے پہلے، اور خاص طور پر آگے بھیجنے سے پہلے، تیس سیکنڈ رکیے:

  • جوش کو فیصلہ نہ کرنے دیں۔ اگر ویڈیو دیکھ کر لگے کہ “آخرکار حل مل گیا!”، تو یاد رکھیں کہ ویڈیو یہی احساس پیدا کرنے کے لیے بنائی گئی تھی۔
  • پوچھیں کہ وہ کیا بیچ رہے ہیں۔ کوئی پروڈکٹ، کورس، یا ڈسکرپشن میں لنک؟ اس سے طے ہوتا ہے کہ مشورے پر کتنا بھروسہ کیا جائے۔
  • “علاج” اور “شفا” کو خطرے کی گھنٹی سمجھیں۔ کوئی ایک غذا نہ کینسر ختم کرتی ہے، نہ ناکارہ گردے ٹھیک کرتی ہے۔ کینسر کو صحیح طرح سمجھنے کے لیے پڑھیں: کینسر: علامات، بچاؤ، ٹیسٹ اور علاج — ایک آسان اور مکمل رہنمائی۔
  • تھوڑی تحقیق کریں۔ دیکھیں کہ اسپتال، وزارتِ صحت یا معتبر طبی ویب سائٹس بھی یہی بات کہتی ہیں یا نہیں۔
  • پہلے اپنے ڈاکٹر سے بات کریں، خاص طور پر اگر آپ کو پہلے سے کوئی بیماری ہے یا آپ باقاعدگی سے دوا لیتے ہیں۔
  • صرف وہی شیئر کریں جس پر آپ کو واقعی یقین ہو۔ آگے بھیجی گئی ویڈیو کے ساتھ آپ کا نام اور آپ کے گھر والوں کا اعتماد جڑا ہوتا ہے۔ اگر آپ کو یقین نہیں کہ یہ محفوظ اور سچ ہے، تو مت بھیجیں۔

مشترکہ ذمہ داری

ویڈیو بنانے والے نسخے بانٹنا بند کریں۔ حکومتیں واضح حدود مقرر کریں اور ان پر سب کے سامنے عمل کرائیں۔ پلیٹ فارمز سب سے ڈرامائی وعدے کو انعام دینا بند کریں۔ اور ہم میں سے ہر ایک یقین کرنے اور شیئر کرنے سے پہلے رکے۔

سبز اسموتھی والا وہ شخص صرف اپنی صحت بچانا چاہتا تھا۔ اس سلسلے کے ہر فرد کے پاس اسے بچانے کا موقع تھا، اس دوست سمیت جس نے ویڈیو آگے بھیجی۔ اگلی بار وہ دوست وہ ہو جو رک جائے۔

یہ مضمون انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔


یہ مضمون صرف عمومی آگاہی کے لیے ہے، طبی مشورہ نہیں۔ اپنی خوراک، دوا یا علاج میں کوئی بھی تبدیلی کرنے سے پہلے کسی مستند ڈاکٹر سے ضرور مشورہ کریں۔