NotoSansArabicFont

تازہ ترین

latest

حج میں فحش کلامی اور گناہ

  صحيح البخاري # ١٥٢١  Sahih Bukhari # 1521  سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْ...

 


صحيح البخاري # ١٥٢١ 

Sahih Bukhari # 1521 


سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : «مَنْ حَجَّ لِلهِ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ رَجَعَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ»  .


Abu Hurayrahؓ  reported that the Prophet (ﷺ) said: "Whoever performs Hajj and does not commit obscenity or commit any evil therein will go back (free of sin) as on the day his mother gave birth to him."


حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وآله وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے حج کیا اور اس نے (اس دوران) کوئی فحش کلامی اور گناہ نہیں کیا تو وہ اس طرح (گناہوں سے پاک) لوٹتا ہے جیسے اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔“


فحش کلامی اور گناہ و معصیت اگرچہ تمام حالات میں منع ہیں، لیکن حج میں اس کی خصوصی ممانعت سورة البقرة کی آیت 197 میں بیان فرمائی گئی ہے۔ حج میں کسی نہ کسی طرح کی سختی اور آزمائش آ ہی جاتی ہے اور شیطان کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ حاجی غصے یا تکلیف میں کسی نہ کسی طرح کے جھگڑے یا ناشکری میں مبتلا ہو جائے۔ کتنے خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو حج کے ان چند دنوں کو توبہ اور شکرگزاری میں گزار لیتے ہیں اور اس حدیث میں دی گئی خوشخبری کے مستحق بن جاتے ہیں۔ اللہ سبحانہ وتعالٰی ہمیں بھی ان خوش قسمت لوگوں میں شامل فرما دے۔ آمین)