*صحيح البخاري # ٢٣٨٧* *Sahih Bukhari # 2387* عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، *عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ...
*صحيح البخاري # ٢٣٨٧*
*Sahih Bukhari # 2387*
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، *عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : «مَنْ أَخَذَ أَمْوَالَ النَّاسِ يُرِيدُ أَدَاءَهَا أَدَّى اللهُ عَنْهُ ، وَمَنْ أَخَذَ يُرِيدُ إِتْلَافَهَا أَتْلَفَهُ اللهُ» .*
Narrated Abu Hurairaؓ that *the Prophet (ﷺ) said: "Whoever takes the money of the people (as loan) with the intention of repaying it, Allah will repay it on his behalf; and whoever takes it in order to squander it, Allah will destroy him."*
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ *نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص لوگوں کا مال (بطور قرض یا کاروبار کیلئے) لے اور اس کے ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف سے ادا فرما دے گا؛ اور جو شخص ان (کے) اموال ضائع کرنے کی نیت سے لے تو اللہ تعالیٰ اسے ضائع کر دے گا۔“*
_*(جو شخص واقعی اپنے قرض کی ادائیگی کی نیت رکھتا ہو اور اسے اتارنے کی پوری کوشش کرے تو اللہ اس کیلئے راستے پیدا کر دیتا ہے، اور اگر وہ زندگی میں نہ بھی ادا کر سکے تو نیتوں کو جاننے والا رب اس کی نیت کے مطابق اس سے معاملہ فرماتا ہے اور قرض خواہ کو اپنی طرف سے بدلہ دے دیتا ہے۔ البتہ اگر کسی شخص نے بدنیتی سے پیسہ ہڑپ کرنے کی نیت سے قرض لیا یا کاروبار میں کسی کا مال لگوایا تو ایسے بےایمان کی نیت کی خرابی اسے دنیا میں بھی مال واپس کرنے سے عاجز کر دے گی اور آخرت میں بھی حساب میں اللہ اسے تباہ کر دے گا۔ اللہ سبحانہ وتعالٰی ہمیں لوگوں کے اموال اور حقوق میں خردبرد کے گناہ سے محفوظ رکھے۔ آمین)
