جامع الترمذي # ٢٣١٥ Jami Al-Tirmizi # 2315 عَنْ [مُعَاوِيَة بْنُ حَيْدَة الْقُشَيْرِيُّ رضی اللہ عنہ]، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلّ...
جامع الترمذي # ٢٣١٥
Jami Al-Tirmizi # 2315
عَنْ [مُعَاوِيَة بْنُ حَيْدَة الْقُشَيْرِيُّ رضی اللہ عنہ]، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «وَيْلٌ لِلَّذِي يُحَدِّثُ بِالْحَدِيثِ لِيُضْحِكَ بِهِ الْقَوْمَ فَيَكْذِبُ، وَيْلٌ لَهُ وَيْلٌ لَهُ» .
Narrated Mu'awiyahؓ bin Haydah al-Qushayri: I heard the Prophet (ﷺ) say, "Woe to the one who talks about something to make the people laugh, in which he lies; woe to him, woe to him."
حضرت مُعَاوِيَةُ بْنُ حَيْدَةَ الْقُشَيْرِيّ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا، "تباہی ہے اس شخص کے لئے جو لوگوں کو ہنسانے کے لئے کوئی بات بیان کرے اور اس میں جھوٹ بولے؛ اس کے لیے تباہی ہے، اس کے لیے تباہی ہے۔"
_*(ہنسی مذاق بذاتِ خود منع نہیں، بلکہ سنت سے ثابت ہے؛ لیکن اس کی حد یہ ہے کہ اس میں سچ کا دامن نہ چھوٹے اور نہ ہی کسی کی دل آزاری ہو۔ آج کل جو 'کامیڈی' کے نام پر پیش کیا جاتا ہے، اس میں کئی چیزیں حرام ہیں۔ مثلا جھوٹے قصے گھڑنا، دوسروں کی جسمانی ساخت یا ان کی زبان و قوم کا مذاق اڑانا، کسی قوم یا قبیلے کی تحقیر یا جگتیں، وغیرہ۔ مستند علماء کے نزدیک تفریح کے وہ تمام طریقے جو جھوٹ، دھوکے، خوف یا تذلیل پر مبنی ہوں، اس حدیث کی روشنی میں مذموم اور گناہ ہیں۔ تفریح صرف وہ جائز ہے جو سچائی اور باہمی احترام کے دائرے میں ہو۔ اللہﷻ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین)
