NotoSansArabicFont

تازہ ترین

latest

  پاکستان، انڈیا اور بنگلہ دیش جیسے ممالک میں جب کسی بیٹے کی شادی ہوتی ہے، تو یہ صرف دو افراد کا رشتہ نہیں ہوتا، بلکہ پورے گھر کا ڈھانچہ بدل...


 

پاکستان، انڈیا اور بنگلہ دیش جیسے ممالک میں جب کسی بیٹے کی شادی ہوتی ہے، تو یہ صرف دو افراد کا رشتہ نہیں ہوتا، بلکہ پورے گھر کا ڈھانچہ بدل جاتا ہے۔ یہ والدین کے لیے فخر کا لمحہ ہوتا ہے، لیکن ساتھ ہی بے چینی کا بھی۔ وہ والدین جنہوں نے اپنی پوری زندگی اپنے بیٹے کی تعلیم اور تربیت پر لگا دی، جن کی راتوں کی بھوک، محنت مشقت اور محدود وسائل میں قربانیاں اس بیٹے کی کامیابی کی بنیاد ہیں—جب ان کے گھر بہو آتی ہے تو اکثر وہ اسے اپنے بیٹے سے محبت میں رکاوٹ سمجھنے لگتے ہیں۔

یہ جذبہ حسد یا کنٹرول کی صورت میں نکلتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ خوف ہوتا ہے کہ کہیں ہماری محنت بے معنی نہ ہو جائے، اور ہمارا بیٹا ہم سے دور نہ ہو جائے۔

اس مشکل صورتحال میں توازن قائم رکھنا ہی واحد راستہ ہے۔ ہمیں والدین کی قربانیوں کا اعتراف کرنا ہے، بیٹے کی خود مختاری کا احترام کرنا ہے، اور بیوی کے حقوق کو بھی فراموش نہیں کرنا ہے۔ اور سب سے اہم بات، اسلام نے اس معاملے میں جو راہنمائی دی ہے، وہ انتہائی واضح اور متوازن ہے۔

والدین کی قربانی: ایک ناقابل فراموش حقیقت

ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہمارے معاشرے میں والدین، خاص طور پر متوسط اور نچلے طبقے کے والدین، ریٹائرمنٹ فنڈز یا آرام دہ زندگی کی سہولتوں سے محروم ہوتے ہیں۔ وہ جس گھر میں رہتے ہیں، وہ ۲۰، ۳۰ سال کی محنت کا ثمر ہوتا ہے۔ بیٹے کی تعلیم کے لیے زیورات تک بیچ دیے جاتے ہیں، قرضے لیے جاتے ہیں، اور ڈبل شفٹ کی نوکریاں کی جاتی ہیں۔

یہ قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ والدین کا یہ احساس کہ انہوں نے اپنی زندگی بیٹے کے نام کر دی، جائز بھی ہے اور قابل تعریف بھی۔ لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب یہ احساس "حق" میں بدل جاتا ہے کہ بیٹے کی شادی کے بعد بھی اس کی زندگی پر مکمل کنٹرول ہماری مرضی سے چلے گا۔

اسلامی تعلیم: اللہ تعالیٰ نے والدین کے ساتھ حسن سلوک کو عبادت قرار دیا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے:

"اور ہم نے انسان کو اس کے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے کی تاکید کی ہے۔"  )

والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بیٹے کی شادی کو اپنی کامیابی سمجھیں، اپنی محنت کا پھل سمجھیں۔ جب بیٹا اپنی بیوی کے ساتھ باہر جاتا ہے، یا اسے تحفے دیتا ہے، تو اس میں والدین کی بے عزتی نہیں، بلکہ یہ اس کی ذمہ داریوں کا حصہ ہے۔

اسی طرح، بہو سے یہ توقع رکھنا کہ وہ اکیلے پورے گھر کے کام کاج کرے، ہر چیز کی نگرانی کرے، اور ہر وقت خدمت پر مامور رہے، نہ تو اسلام کی تعلیم ہے اور نہ ہی انصاف۔ گھر کے کام میں تعاون ضروری ہے، لیکن یہ ایک مشترکہ ذمہ داری ہے۔ والدین کا غصہ، طنز، اور ماحول کو کشیدہ رکھنا کسی بھی گھر کے لیے تباہ کن ثابت ہوتا ہے۔

بیٹے کی ذمہ داری: پل کا کردار

مشترکہ خاندانی نظام میں بیٹے کی حیثیت "پل" جیسی ہوتی ہے۔ وہ اس گھر میں رہتا ہے جسے اس کے والدین نے محنت سے تعمیر کیا، اس لیے اس پر والدین کی خدمت اور ان کی توقعات کا پورا کرنا فرض ہے۔ لیکن ساتھ ہی اس کی بیوی اپنا پورا جہاں چھوڑ کر اس کے گھر آئی ہے، جہاں طاقت کا توازن اس کے خلاف ہوتا ہے۔

بیٹے کی سب سے بڑی ذمہ داری ان دو فریقوں کے درمیان انصاف اور توازن قائم کرنا ہے۔

۱۔ ماں کے ساتھ خصوصی تعلق:
اسلام میں ماں کا مقام انتہائی بلند ہے۔ صحیح بخاری کی مشہور حدیث ہے کہ ایک صحابی نے پوچھا: "یا رسول اللہ! میرے سب سے زیادہ حسن سلوک کا حق کس کو ہے؟" آپ ﷺ نے فرمایا: "تمہاری ماں کو۔" پوچھا: پھر کس کو؟ فرمایا: "تمہاری ماں کو۔" پوچھا: پھر کس کو؟ فرمایا: "تمہاری ماں کو۔" پوچھا: پھر کس کو؟ فرمایا: "تمہارے باپ کو۔"

یہ تین بار ماں کا ذکر اس بات کی دلیل ہے کہ بیٹے کو اپنی ماں کے ساتھ نرمی، محبت اور تعظیم کا برتاؤ کرنا چاہیے۔ عملی طور پر اس کا مطلب یہ ہے کہ:

  • وہ ماں کے لیے وقت نکالے، ان کے ساتھ بیٹھے، ان کے مسائل سنے۔

  • انہیں تحائف دے، ان کی صحت کا خیال رکھے۔

  • ان کی بڑھاپے کی توقعات کو سمجھے اور انہیں یقین دلائے کہ وہ اس کی زندگی میں اہم ہیں۔

لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ماں کی ہر خواہش، چاہے وہ بیوی کے ساتھ ناانصافی ہی کیوں نہ ہو، مانی جائے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

"تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہترین ہو، اور میں تم میں سے اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہوں۔" (ترمذی)

۲۔ بیوی کے ساتھ انصاف:
بیٹے کو چاہیے کہ وہ اپنی بیوی کو تحفے دے، اسے گھر سے باہر لے جائے، اور اس کے جذبات کا خیال رکھے۔ یہ سب اخلاقی طور پر ضروری ہے۔

اگر بیوی گھریلو خاتون ہے اور بیٹا واحد کمانے والا ہے، تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ بیوی کی کوئی حیثیت نہیں۔ گھر کا انتظام کرنا، کھانا پکانا، بچوں کی دیکھ بھال کرنا—یہ سب محنت ہے۔ بیٹے کو چاہیے کہ وہ والدین کو یہ باور کرائے کہ بہو گھر کی نوکرانی نہیں، بلکہ اس کی بیوی اور گھر کی شریک ہے۔

۳۔ والدین اور بیوی کے درمیان توازن:
مشترکہ خاندان میں بیٹے کو نہایت حکمت سے کام لینا ہوتا ہے۔ جب والدین بیوی پر طنز کریں یا سخت ماحول بنائیں، تو بیٹے کو خاموش تماشائی نہیں بننا چاہیے۔ وہ احترام کے ساتھ والدین کو سمجھا سکتا ہے:

  • "امی، برا نہ مانیں، وہ سیکھ رہی ہیں۔"

  • "ابو، میں خود اس معاملے کو دیکھ لوں گا۔"

اس طرح بیٹے کی مضبوطی سے بیوی کو تحفظ ملتا ہے، اور والدین کو یہ پیغام جاتا ہے کہ بیٹا ان کی بے عزتی نہیں کر رہا، بلکہ خود مختار ہو چکا ہے۔

بیوی کا کردار: احترام اور حکمت

اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان جیسے ممالک میں زیادہ تر مشترکہ خاندانوں میں بیوی کے پاس ساختی طاقت کم ہوتی ہے، خاص طور پر اگر وہ گھریلو خاتون ہو اور شوہر ہی واحد کمانے والا ہو۔

ایسے میں بیوی کو بھی سمجھداری سے کام لینا چاہیے:

  • والدین کی قربانیوں کو تسلیم کرے۔ یہ گھر، یہ سہولیات ان کی محنت کا نتیجہ ہیں۔

  • بوڑھے والدین کے ساتھ نرمی سے پیش آئے۔ نرمی نہ صرف اخلاقی خوبی ہے، بلکہ اس سے والدین کے ذہن میں موجود خوف کم ہوتا ہے۔

  • اگر شوہر والدین کے ساتھ کسی معاملے میں نرمی کا تقاضا کرے، تو اسے اپنی شریک حیات سمجھ کر تعاون کرے—بشرطیکہ شوہر بھی اس کے حقوق کی حفاظت کر رہا ہو۔

درمیانی راستہ: مشترکہ خاندان کی نئی تعریف

مشترکہ خاندانی نظام اپنی اصل شکل میں ایک بہترین نظام ہے—جہاں بچے محبت میں پلتے ہیں، اور بوڑھے والدین کی عزت کے ساتھ دیکھ بھال ہوتی ہے۔ لیکن اس کے لیے توقعات کو از سر نو متعین کرنا ہوگا:

۱۔ مالی معاملات: اگر بیٹا والدین کے گھر میں رہ رہا ہے، تو اسے گھر کے اخراجات میں حصہ ڈالنا چاہیے۔ لیکن اس کی ماہانہ تنخواہ پر والدین کا کنٹرول نہیں ہونا چاہیے۔ اس کی اپنی بیوی اور آنے والے بچوں کی ذمہ داری ہے۔

۲۔ رازداری کا احترام: والدین کو نئے جوڑے کو پرائیویسی دینی چاہیے۔ بند دروازے کا احترام، اور ان کے ذاتی وقت میں مداخلت نہ کرنا ضروری ہے۔

۳۔ محبت کا اظہار: بیٹے کو بلا جھجک اپنی بیوی کے لیے تحائف لانے چاہئیں، اور والدین کو بھی تحائف دیتے رہنا چاہیے۔ یہ مقابلہ نہیں، محبت کا اشتراک ہے۔

اختتام

مشترکہ خاندانی نظام ایک لمبی دوڑ ہے، سپرنٹ نہیں۔ والدین کے لیے یہ سب سے بڑا انعام کہ ان کا بیٹا ایک قابل، خود مختار اور بااخلاق انسان بنے—جو ان کا احترام کرتا ہو، لیکن ڈرتا نہ ہو۔

بیٹے کے لیے سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ وہ اپنی جڑوں سے جڑا رہے، لیکن اپنی مستقبل کی راہیں خود منتخب کرے۔ وہ اپنے والدین کا مقروض ہے اس گھر کے لیے جو انہوں نے تعمیر کیا، اور اس تعلیم کے لیے جو انہوں نے ممکن بنائی۔ لیکن وہ اپنی بیوی کا بھی مقروض ہے—اس عورت کا جو اس کے ساتھ زندگی گزارنے آئی ہے، اور جس کا حق ہے کہ اسے گھر میں عزت ملے، صرف برداشت نہ کی جائے۔

اسلام نے ہمیں جو راستہ دکھایا ہے، وہ انتہائی واضح ہے: والدین کے ساتھ حسن سلوک، ماں کے لیے تین گنا احترام، بیوی کے ساتھ عدل و احسان، اور ہر معاملے میں میانہ روی۔

جب والدین اپنی بہو کو بیٹی سمجھیں گے، بیٹا پل کا کردار ادا کرے گا، اور بیوی اپنی شرافت کے ساتھ گھر کو سنبھالے گی—تو مشترکہ خاندان جھگڑوں کی جگہ نہیں، رحمتوں کا گہوارہ بن جائے گا۔ اور یہی وہ توازن ہے جس کی ہمارے معاشروں کو آج سب سے زیادہ ضرورت ہے۔