NotoSansArabicFont

تازہ ترین

latest

دو کپ چائے

  میں اپنے ایک دوست کے ساتھ  ایک مشہور چائے خانے میں بیٹھا ہوا تھا۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں عام لوگ، مزدور، طالب علم اور تاجر سب ایک ہی میز پر بی...


 


میں اپنے ایک دوست کے ساتھ  ایک مشہور چائے خانے میں بیٹھا ہوا تھا۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں عام لوگ، مزدور، طالب علم اور تاجر سب ایک ہی میز پر بیٹھ کر چائے یا کافی پیا کرتے تھے۔

ہم چائے سے لطف اندوز ہو رہے تھے کہ اتنے میں ایک صاحب اندر داخل ہوئے اور ہمارے قریب خالی میز پر بیٹھ گئے۔ انہوں نے ویٹر کو بلایا اور کہا:

"دو کپ چائے لے آؤ، ایک میرے لیے اور ایک دیوار پر۔"

ہم نے یہ بات بڑی دلچسپی سے سنی۔ تھوڑی دیر بعد ویٹر ایک کپ چائے لے آیا، مگر بل دو کپ کا وصول کیا۔ صاحب نے پیسے ادا کیے اور خاموشی سے چلے گئے۔

جیسے ہی وہ باہر نکلے، ویٹر نے دیوار پر ایک کاغذ چپکا دیا جس پر لکھا تھا:
"ایک کپ چائے"

کچھ دیر بعد دو اور آدمی آئے۔ انہوں نے تین کپ چائے کا آرڈر دیا:
"دو ہمارے لیے، ایک دیوار پر۔"

انہوں نے دو کپ پیے، تین کے پیسے دیے اور چلے گئے۔ ویٹر نے پھر ایک اور کاغذ دیوار پر لگا دیا:
"ایک کپ چائے"

یہ سب ہمارے لیے بہت حیران کن تھا۔ ہم سوچ میں پڑ گئے کہ آخر یہ کیا معاملہ ہے۔

ہم نے اپنی چائے ختم کی، بل ادا کیا اور وہاں سے چلے گئے۔

کچھ دن بعد ہمیں دوبارہ اسی چائے خانے میں جانے کا موقع ملا۔

ہم حسبِ معمول بیٹھے چائے پی رہے تھے کہ ایک نہایت سادہ لباس میں ملبوس، کمزور سا آدمی اندر آیا۔ اس کے کپڑے پرانے تھے اور چہرے پر تھکن صاف نظر آ رہی تھی۔

وہ آہستہ سے ایک کرسی پر بیٹھا، پھر دیوار کی طرف دیکھا اور ویٹر سے کہا:

"دیوار والا ایک کپ چائے دے دیں۔"

ویٹر نے پورے احترام اور عزت کے ساتھ اس کے سامنے چائے رکھ دی، جیسے وہ کوئی خاص مہمان ہو۔

اس شخص نے سکون سے چائے پی، کسی سے کچھ کہے بغیر اٹھا اور چلا گیا۔ اس نے کوئی پیسے نہیں دیے۔

ہم حیرت سے یہ سب دیکھ رہے تھے۔

اس کے جانے کے بعد ویٹر نے دیوار سے ایک کاغذ اتارا اور کوڑے دان میں پھینک دیا۔

اب ہمیں سب بات سمجھ آ چکی تھی۔

یہ دراصل اس علاقے کے لوگوں کی طرف سے ضرورت مندوں کے لیے ایک خاموش مدد تھی۔ جو صاحب استطاعت ہوتے، وہ اضافی چائے کے پیسے دے جاتے، اور جو ضرورت مند ہوتے، وہ بغیر مانگے، بغیر شرمندہ ہوئے، اپنی عزتِ نفس کے ساتھ چائے پی لیتے۔

وہ شخص کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتا تھا۔
وہ فری میں چائے نہیں مانگتا تھا۔
وہ کسی کو جانتا بھی نہیں تھا جس نے اس کے لیے پیسے دیے تھے۔

وہ بس دیوار دیکھتا،
اپنا آرڈر دیتا،
چائے پیتا،
اور خاموشی سے چلا جاتا۔

اس لمحے ہماری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

ہم نے محسوس کیا کہ اصل صدقہ وہ ہوتا ہے جو عزت کے ساتھ دیا جائے۔
اصل نیکی وہ ہوتی ہے جو دکھاوے کے بغیر کی جائے۔

شاید یہی دیوار دنیا کی سب سے خوبصورت دیوار تھی۔
ایک ایسی دیوار،
جو انسانیت،
احترام،
اور محبت سے بنی ہوئی تھی۔