میں اپنے ایک دوست کے ساتھ ایک مشہور چائے خانے میں بیٹھا ہوا تھا۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں عام لوگ، مزدور، طالب علم اور تاجر سب ایک ہی میز پر بی...
میں اپنے ایک دوست کے ساتھ ایک مشہور چائے خانے میں بیٹھا ہوا تھا۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں عام لوگ، مزدور، طالب علم اور تاجر سب ایک ہی میز پر بیٹھ کر چائے یا کافی پیا کرتے تھے۔
ہم چائے سے لطف اندوز ہو رہے تھے کہ اتنے میں ایک صاحب اندر داخل ہوئے اور ہمارے قریب خالی میز پر بیٹھ گئے۔ انہوں نے ویٹر کو بلایا اور کہا:
"دو کپ چائے لے آؤ، ایک میرے لیے اور ایک دیوار پر۔"
ہم نے یہ بات بڑی دلچسپی سے سنی۔ تھوڑی دیر بعد ویٹر ایک کپ چائے لے آیا، مگر بل دو کپ کا وصول کیا۔ صاحب نے پیسے ادا کیے اور خاموشی سے چلے گئے۔
یہ سب ہمارے لیے بہت حیران کن تھا۔ ہم سوچ میں پڑ گئے کہ آخر یہ کیا معاملہ ہے۔
ہم نے اپنی چائے ختم کی، بل ادا کیا اور وہاں سے چلے گئے۔
کچھ دن بعد ہمیں دوبارہ اسی چائے خانے میں جانے کا موقع ملا۔
ہم حسبِ معمول بیٹھے چائے پی رہے تھے کہ ایک نہایت سادہ لباس میں ملبوس، کمزور سا آدمی اندر آیا۔ اس کے کپڑے پرانے تھے اور چہرے پر تھکن صاف نظر آ رہی تھی۔
وہ آہستہ سے ایک کرسی پر بیٹھا، پھر دیوار کی طرف دیکھا اور ویٹر سے کہا:
"دیوار والا ایک کپ چائے دے دیں۔"
ویٹر نے پورے احترام اور عزت کے ساتھ اس کے سامنے چائے رکھ دی، جیسے وہ کوئی خاص مہمان ہو۔
اس شخص نے سکون سے چائے پی، کسی سے کچھ کہے بغیر اٹھا اور چلا گیا۔ اس نے کوئی پیسے نہیں دیے۔
ہم حیرت سے یہ سب دیکھ رہے تھے۔
اس کے جانے کے بعد ویٹر نے دیوار سے ایک کاغذ اتارا اور کوڑے دان میں پھینک دیا۔
اب ہمیں سب بات سمجھ آ چکی تھی۔
یہ دراصل اس علاقے کے لوگوں کی طرف سے ضرورت مندوں کے لیے ایک خاموش مدد تھی۔ جو صاحب استطاعت ہوتے، وہ اضافی چائے کے پیسے دے جاتے، اور جو ضرورت مند ہوتے، وہ بغیر مانگے، بغیر شرمندہ ہوئے، اپنی عزتِ نفس کے ساتھ چائے پی لیتے۔
اس لمحے ہماری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
