NotoSansArabicFont

تازہ ترین

latest

سنگاپور کے محنتی باپ کی کہانی

  یہ ایک سنگاپور کے محنتی باپ کی کہانی ہے، جو اپنی بیوی اور تین بچوں کا سہارا بننے کے لیے روزانہ روٹیاں پہنچانے کا کام کرتا تھا۔ وہ دن بھر م...


 


یہ ایک سنگاپور کے محنتی باپ کی کہانی ہے، جو اپنی بیوی اور تین بچوں کا سہارا بننے کے لیے روزانہ روٹیاں پہنچانے کا کام کرتا تھا۔ وہ دن بھر محنت کرتا اور شام کو کام کے بعد کلاسز میں شرکت کرتا، تاکہ خود کو بہتر بنا سکے اور ایک دن اچھی تنخواہ والی نوکری حاصل کر سکے۔ اتوار کے سوا وہ شاذ و نادر ہی اپنے خاندان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا پاتا تھا۔ وہ دن رات محنت اور پڑھائی اسی لیے کرتا تھا کہ اپنے بچوں کو زندگی کی بہترین سہولتیں فراہم کر سکے۔

جب بھی خاندان شکایت کرتا کہ وہ انہیں وقت نہیں دیتا، وہ یہی کہتا کہ یہ سب وہ انہی کے لیے کر رہا ہے۔ لیکن دل ہی دل میں وہ بھی چاہتا تھا کہ اپنے بچوں اور بیوی کے ساتھ زیادہ وقت گزارے۔

پھر وہ دن آیا جب امتحان کے نتائج کا اعلان ہوا۔ خوشی سے اس کی آنکھیں چمک اٹھیں، وہ نمایاں نمبروں سے کامیاب ہو گیا تھا۔ جلد ہی اسے ایک سینئر سپروائزر کی اچھی تنخواہ والی نوکری مل گئی۔

یہ کسی خواب کے پورا ہونے جیسا تھا۔ اب وہ اپنے خاندان کو اچھے کپڑے، مزیدار کھانا اور بیرونِ ملک چھٹیاں دلوا سکتا تھا۔ زندگی پہلے سے کہیں بہتر ہو گئی تھی۔

مگر اس کے باوجود، خاندان کو اب بھی زیادہ تر ہفتے میں باپ کا ساتھ نصیب نہ ہوتا۔ وہ مزید ترقی کے لیے پہلے سے زیادہ محنت کرنے لگا۔ منیجر بننے کی امید میں اس نے اوپن یونیورسٹی میں ایک اور کورس میں داخلہ لے لیا۔

پھر جب بھی خاندان شکوہ کرتا، وہ یہی کہتا کہ یہ سب تم لوگوں کے لیے ہے۔ اور پھر بھی، اس کا دل اپنے گھر والوں کے لیے ترستا رہتا۔

آخرکار اس کی محنت رنگ لائی اور اسے ترقی مل گئی۔ خوشی کے عالم میں اس نے ایک ملازمہ رکھ لی تاکہ اس کی بیوی کو گھر کے کاموں میں آسانی ہو۔ اسے یہ بھی محسوس ہوا کہ تین کمروں کا فلیٹ اب چھوٹا پڑ رہا ہے، اس لیے اس نے ایک آرام دہ کنڈومینیم میں منتقل ہونے کا فیصلہ کیا۔

بار بار کامیابی ملنے کے بعد، اس نے مزید آگے بڑھنے کا ارادہ کیا اور پھر سے پڑھائی اور محنت میں جُت گیا۔ خاندان اب بھی اسے کم ہی دیکھ پاتا تھا۔ کبھی کبھی تو وہ اتوار کے دن بھی گاہکوں کی خاطر کام کرتا تھا۔

جب خاندان شکایت کرتا، وہ پھر یہی کہتا کہ یہ سب تم لوگوں کے مستقبل کے لیے ہے۔ مگر اس کے دل میں ہمیشہ یہی خواہش رہتی کہ کاش وہ اپنوں کے ساتھ زیادہ وقت گزار سکے۔

آخرکار اس کی محنت ایک بار پھر کامیاب ہوئی اور اس نے سنگاپور کے ساحل کے کنارے ایک خوبصورت کنڈومینیم خرید لیا۔ نئے گھر میں پہلے اتوار کی شام اس نے اپنے خاندان سے وعدہ کیا کہ اب وہ مزید کورسز نہیں کرے گا، نہ ہی ترقی کے پیچھے بھاگے گا۔ اب وہ اپنی زندگی اپنے خاندان کے لیے وقف کرے گا۔

لیکن اگلی صبح باپ آنکھ نہ کھول سکا۔


سبق اور پیغام

یہ کہانی ہمیں ایک گہرا سبق دیتی ہے کہ باپ اپنی پوری زندگی اولاد کی خوشیوں کے لیے قربان کر دیتا ہے۔ وہ اپنی خواہشات، آرام اور صحت تک کو نظر انداز کر دیتا ہے، صرف اس لیے کہ اس کے بچے سکون سے جی سکیں۔

اگر آپ کا باپ آپ کے لیے دن رات محنت کر رہا ہے، تو اس کی قدر کریں۔ اس کے ساتھ وقت گزاریں۔ اس سے بات کریں، اس کی بات سنیں، اس کا حال پوچھیں۔ کبھی کوئی چھوٹا سا تحفہ دے دیں، کبھی محبت بھرے الفاظ کہہ دیں۔

اور اگر آپ مالی طور پر کمزور ہیں، تو فکر نہ کریں۔ ایک کپ چائے بنا کر دے دینا، اس کے پاس بیٹھ جانا، مسکرا کر کہنا کہ “ابو، میں آپ سے بہت محبت کرتا ہوں”، یہی سب سے بڑی دولت ہے۔

یاد رکھیں، باپ ہمیشہ ہمارے لیے جیتا ہے، مگر وہ ہمیشہ ہمارے ساتھ نہیں رہتا۔
اس کے جانے سے پہلے، اس کی موجودگی کی قدر کرنا سیکھ لیں۔