NotoSansArabicFont

تازہ ترین

latest

وکیل کی طرح بحث کیسے کریں؟

  وکیل کی طرح بحث کیسے کریں؟ کیا آپ وہ شخص ہیں جو جھگڑے سے ڈرتا ہے؟ بحث چھڑتے ہی خاموش ہو جاتا ہے؟ دل میں بہت کچھ ہوتا ہے مگر زبان نہیں کھلت...


 

وکیل کی طرح بحث کیسے کریں؟

کیا آپ وہ شخص ہیں جو جھگڑے سے ڈرتا ہے؟ بحث چھڑتے ہی خاموش ہو جاتا ہے؟ دل میں بہت کچھ ہوتا ہے مگر زبان نہیں کھلتی؟ اگر ہاں، تو یہ مضمون خاص آپ کے لیے ہے۔

وکیل کی طرح بحث کرنے کا مطلب ہے ثابت قدمی سے اپنی بات کو منطق اور احترام کے ساتھ پیش کرنا۔ یہ جارحیت یا چلانا نہیں، بلکہ اپنے موقف پر ڈٹے رہنے کا فن ہے۔

ذہن میں رکھیں:

  • آپ کا مقصود جیتنا نہیں، بلکہ اپنی بات منوانا ہے۔

  • جذبات پر قابو رکھیں۔

  • بات کو سادہ اور واضح رکھیں۔

  • ہار نہ مانیں۔ ضد اور ثابت قدمی میں فرق ہے۔ ضد جذباتی ہے، ثابت قدمی منطقی۔


عملی مثالیں: ثابت قدمی کے ۱۰ مراحل

یہاں تین ایسی مثالیں ہیں جہاں ایک شخص بار بار اپنی بات دہرا کر اپنا حق حاصل کرتا ہے۔

مثال ۱: دفتر کا منظر (ملازم اور باس)

صورت حال: ایک ملازم نے ایک ماہ پہلے اپنی تنخواہ بڑھانے کی درخواست دی تھی، لیکن باس نے کوئی جواب نہیں دیا۔

ملازم: "سر، کیا آپ نے میری تنخواہ بڑھانے والی درخواست پر غور کیا ہے؟"

باس: (مصروفیت دکھاتے ہوئے) "آہ ہاں، بعد میں بات کرتے ہیں۔ فی الحال مصروف ہوں۔"
ملازم: "میں سمجھتا ہوں آپ مصروف ہیں۔ میں صرف دو منٹ چاہتا ہوں۔ کیا ہم کل دوپہر کے کھانے کے بعد اس پر بات کر سکتے ہیں؟"
باس: "دیکھتے ہیں، فی الحال بجٹ تنگ ہے۔"
ملازم: "میں جانتا ہوں بجٹ کی پابندیاں ہیں۔ میری کارکردگی کے جائزے پر غور کریں، میں نے گزشتہ چھ ماہ میں تین بڑے پراجیکٹس وقت پر مکمل کیے ہیں۔ یہ اضافہ میرے کام کا معاوضہ ہوگا۔"
باس: "ٹھیک ہے، اگلے ہفتے بات کرتے ہیں۔"
ملازم: "میں اگلے ہفتے کا انتظار کر سکتا ہوں۔ برائے مہربانی ہماری میٹنگ کو اپنے کیلنڈر میں شیڈول کر دیں تاکہ یہ بات نظر انداز نہ ہو۔"
باس: "تم بہت ضد کر رہے ہو۔"
ملازم: (نرم لہجے میں) "سر، یہ ضد نہیں، میرے کام کے معاوضے کا انصاف ہے۔ میں نے ایک ماہ سے انتظار کیا ہے۔"
باس: (اچھا محسوس کرتے ہوئے) "ٹھیک ہے ٹھیک ہے، کل میری میٹنگ کے بعد آؤ، فیصلہ کر لیتے ہیں۔"

سبق: ملازم نے ہار نہیں مانی۔ وہ مسلسل اپنا نقطہ پیش کرتا رہا، مصروفیت کے بہانے قبول نہیں کیے، اور اپنی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی بات کو منطقی بنایا۔


مثال ۲: بچوں کا آپس میں جھگڑا (دو بھائی)

صورت حال: بڑا بھائی وڈیو گیم کا کنٹرولر چھین کر خود کھیل رہا ہے، چھوٹا بھائی اسے واپس لینا چاہتا ہے۔

چھوٹا بھائی: "بھائی، میری باری ہے، کنٹرولر مجھے دو۔"

بڑا بھائی: "چپ رہو، ابھی میچ ختم ہونے دو۔"
چھوٹا بھائی: "تمہارا میچ ابھی نیا ہی شروع ہوا ہے۔ ہمارا اصول ہے کہ ہر ایک کو بیس منٹ ملتے ہیں۔"
بڑا بھائی: "اُف! تم سے کھیل کر کوئی مزا نہیں آتا۔"
چھوٹا بھائی: "تم مزا نہیں آنا چاہتے، یہ الگ بات ہے۔ لیکن اصول کے مطابق اب میری باری ہے۔"
بڑا بھائی: (نظر انداز کرتا ہے)۔
چھوٹا بھائی: "اگر تم نے ابھی نہیں دیا تو میں امی کو بتاؤں گا۔"
بڑا بھائی: "جا کر بتاؤ، مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔"
چھوٹا بھائی: (کنٹرولر کے قریب کھڑے ہو کر) "میں تمہیں کھیلنے نہیں دوں گا جب تک میری باری نہیں ملتی۔ تم چاہو یا نہ چاہو، میں یہاں کھڑا رہوں گا۔"
بڑا بھائی: (چڑچڑا کر) "لو! لے لو تمہارا کنٹرولر۔ تم تو سچے ہی بہت ضدی ہو۔"

سبق: چھوٹے بھائی نے رونے یا مارپیٹ کی بجائے "اصول" کی بات کی۔ اس نے دباؤ میں نہیں آیا اور اپنی جگہ پر ڈٹا رہا، یہاں تک کہ بڑے بھائی کو کنٹرولر واپس کرنا پڑا۔


مثال ۳: سپر مارکیٹ کا منظر (گاہک اور مینیجر)

صورت حال: ایک گاہک نے ایک ایسا پروڈکٹ واپس کرنا ہے جس کی واپسی کی پالیسی کے مطابق تاریخ گزر چکی ہے، لیکن پروڈکٹ میں خامی ہے۔

  1. گاہک: "اس پروڈکٹ میں خامی ہے، میں اسے واپس کرنا چاہتا ہوں۔"

  2. کیشیر: "معاف کیجیے، واپسی کی تاریخ گزر چکی ہے، ہم کچھ نہیں کر سکتے۔"

  3. گاہک: "میں جانتا ہوں کہ تاریخ گزر چکی ہے، لیکن یہ خامی فیکٹری کی طرف سے ہے۔ میں نے اسے خریدنے کے فوراً بعد ہی دیکھا تھا۔"

  4. کیشیر: "میں مینیجر سے پوچھتا ہوں۔" (مینیجر کے آنے پر) "یہ صاحب ایک پرانا پروڈکٹ واپس کرنا چہتے ہیں۔"

  5. مینیجر: "جناب، ہماری پالیسی کے مطابق، تاریخ گزرنے کے بعد واپسی ممکن نہیں۔"

  6. گاہک: "میں آپ کی پالیسی سمجھتا ہوں۔ لیکن مسئلہ پالیسی کا نہیں، پروڈکٹ کے معیار کا ہے۔ کیا آپ کسی کسٹمر کو ناقص معیار کا سامان بیچنے کے بعد اسے دھوکا دے سکتے ہیں؟"

  7. مینیجر: "ہم فیصلہ نہیں کر سکتے کہ یہ خامی فیکٹری میں تھی یا گھر پر ہوئی۔"

  8. گاہک: "میں اس کی گارنٹی کرتا ہوں کہ یہ خامی گھر پر نہیں ہوئی۔ اگر آپ واپس نہیں لیں گے تو مجھے صارف تحفظ کونسل سے رابطہ کرنا پڑے گا۔ یہ آپ کے برانڈ کے لیے اچھا نہیں ہوگا۔"

  9. مینیجر: "یہ دھمکی ہے؟"

  10. گاہک: "نہیں جناب، یہ اطلاع ہے۔ میں ایک وفادار گاہک ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آپ میرے مسئلے کو سنجیدگی سے لیں گے۔ کیا آپ اس ایک پروڈکٹ کے بدلے اپنی دکان کی ساکھ کو خطرے میں ڈالنا چاہیں گے؟"

سبق: گاہک نے پالیسی کے بہانے قبول نہیں کیے۔ اس نے معیار، دھوکا دہی اور برانڈ کی ساکھ جیسے مضبوط نکات اٹھائے۔ اس نے دھمکی نہیں دی بلکہ منطقی نتائج سے آگاہ کیا، جس پر مینیجر کو جھکنا پڑا۔


آخری بات

وکیل کی طرح بحث کرنا سیکھنا کوئی راتوں رات کا کام نہیں۔ یہ مشق اور خود اعتمادی کا تقاضا کرتا ہے۔

آج سے ہی شروع کریں:

  • چھوٹی چھوٹی باتوں پر "نہ" کہنے کی مشق کریں۔

  • اپنی بات دہرانے سے نہ گھبرائیں۔

  • یاد رکھیں: آپ کی بات، آپ کی ضرورت اور آپ کا احساس اہم ہے۔

جب آپ ڈٹ کر اپنی بات کہیں گے تو دیکھیں گے کہ دنیا آپ کو سنجیدگی سے سننا شروع کر دیتی ہے