Page Nav

TRUE

Left Sidebar

False

تازہ ترین

latest

شوہر اور بیوی کے درمیان مکالمہ

شوہر  : بیگم دیکھو مجھے تمہاری کچھ باتيں اچھی نہيں لگتی اگر برا نہ مانو تو بتاوں ؟ بیگم : اب ایسی بی کیا بات ہے کھل کر بولو نا ک...



شوہر  : بیگم دیکھو مجھے تمہاری کچھ باتيں اچھی نہيں لگتی اگر برا نہ مانو تو بتاوں ؟
بیگم : اب ایسی بی کیا بات ہے کھل کر بولو نا کیا کہنا چاہتے ہو ؛

شوہر : موبائل نہ استعمال کیاکرو میری ماں بوڑھی ہے میں کام پہ جاتا ہوں تمہارے علاوہ کوئی ہے بھی نہیں، خیال رکھا کرو، صرف اپنے کمرے کا کام کرتی ہو باقی گھر بھی تو تمہارا اپنا ہے، اسکو بھی صاف رکھا کرو ۔۔!

بیگم : مطلب مجھ پہ شک ہے تمہیں کے میں موبائل پہ کسی سے بات کرتی ہوں چھوڑ کیوں نہيں دیتے اگر ایسی بات ہے تو، مجھ سے اچھی لے آؤ، جو موبائل نہ استعمال کرے اور تم خود اپنی ماں کو سنبھالو،میں کیوں سنبھالوں؟ ویسے بھی کسی کتاب میں نہیں لکھا ہوا ہے ساس سسر کو سنبھالنا، تو تم کوئی اور رکھ لو، نوکرانی ڈھونڈ لو نا ، جو تمہارے ماں باپ کو سنبھالے، اور جہاں تک رہی کام کی بات مجھے کیا کرنا ہے، مجھے اچھی طرح پتا ہے میں کوئی نوکرانی نہیں ہوں، تمہاری آئی بات سمجھ میں ۔۔۔

شوہر : غصے سے تو اپ نے مجھ سے شادی کیوں کی تھی اگر  گھر بار کی تمہیں کوئی فکر نہ تھی تو کیوں کیا، پھر ایسا رہنا ہے تو ہر کام بیوی بن کے کرنا ہوگا ورنہ تمہاری  مرضی ۔۔۔ 

بیگم : میری قسمت خراب تھی جو تم سے شادی کر لی جا رہی ہوں میں یہ تمہارا دو ٹکے کا گھر چھوڑ کر مجھے طلاق دے دو بس یہی احسان کر دو مجھ پہ کر لونگی کسی اور سے شادی جسکو میری قدر ہوگی۔

شوہر : ہاں اگر شوق ہے طلاق کا تو میں صبحِ بھجوا دونگا کورٹ سے ۔

کچھ دیر بعد
بیگم سامان لیکر گھر چلی جاتی ہے ماں باپ پوری فیملی کو پتا چلتا ہے خاوند نے نکال دیا ہے۔

خاوند باہر سے صبح کا ناشتہ ماں کو لا کر دیتا ہے اور کام پہ چلا جاتا ہے۔

شوہر : طلاق بھجوا دوں یا نہیں  مشورہ کر لیتا ہو بزرگ کے پاس چلا جاتا ہے ساری داستان سناتا ہے۔
بزرگ : دے دو بیٹا اگر نہيں رہناچاہتی تو طلاق دیدو 

شوہر : پریشان ہوکر طلاق دے دیتا ہے۔

ہوگئی طلاق دونوں کے درمیان  

سال بعد خاوند دوسری شادی کرلیتا ہے اپنی زندگی سکون سے گزارنے لگتا ہے۔ 
مگر اسکی سابقہ بیگم کو کوئی رشتہ نہیں مل رہا ہوتا ماں باپ بھی پریشان بھائی بہن رکھنے کو تیار نہیں۔
روتے ہوئے سوچتی ہے کتنا اچھا تھا میں اس بدتمیزی کرتی وہ پھر بھی جی جی اور اپ کرتا میں نے اس کو اپنی زبان کی وجہ سے کھو دیا ہے، کاش وہ آج واپس آجائے میں اسکو کبھی بھی ناراض نہیں ہونے دونگی مگر اب کیسے ہو سکتا ہے۔

انا اور ضد کی وجہ سے ایک گھر تباہ ہوگیا عورت کی بیوقوفی کی وجہ سے ۔۔۔

خدارا عورتوں اپنے فرائض کو سمجھو یہ مت سمجھو کسی کے گھر میں جاکر کے میں کیوں کام کروں کیوں کہ کل آپکی ماں کی بھی کسی سے شادی ہوئی تھی جس نے تمہارے ابا جی کا گھر سنبھالا تھا ساس سسر کی خدمت کی تھی،،، جسکی وجہ سے تم یہاں تک پہونچی ہو ۔۔۔!

مرد حضرات سے گزارش ہے جب دیکھیں اپکی بیگم اب اپے سے باہر ہے تو سائڈ مار لیں اگر گھر چلانا ہے تو
بعد میں جب اپکی بیگم کا غصہ ٹھنڈا ہوجائے تب پیار سے سمجھائیں۔

بیگمات سے گزارش ہے خاوند کو ایک حد تک ٹسٹ کیا کریں جب سمجھے اب گڑبڑ ہے اپ بھی خاموش ہوجائیں۔

گھر پیار اور احساس سے چلتے ہیں لڑائی جھگڑے سے نہيں۔

نتیجہ : میاں بیوی کو آپس میں پیار محبت سے رہنا چاہیے لڑائی جھگڑے کی صورت میں ایک دوسرے سے سوری بول لیں ورنہ ساری زندگی کا سکون برباد ہوجائے گا۔