NotoSansArabicFont

تازہ ترین

latest

نیک کاموں کے کرنے کی توفیق ملنا

نیک کاموں کے کرنے کی توفیق ملنا ہم اس معاملے میں سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی نیک کام کرنا ہمارے لیے مشکل ہو رہا ہے تو ہم یہ عذر کر...

نیک کاموں کے کرنے کی توفیق ملنا
ہم اس معاملے میں سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی نیک کام کرنا ہمارے لیے مشکل ہو رہا ہے تو ہم یہ عذر کر لیتے ہیں کہ اگر اللہ مجھے توفیق دیتا تو میں کر لیتی۔
یقیناً توفیق اللہ کی طرف سے ہوتی ہے،
 لیکن،
•جب سنت پڑھنے کا دل نہ چاہ رہا ہو اور آپ نے سنت نماز پڑھ لی تو اگلی مرتبہ سنت پڑھنا آسان ہو جاتا ہ۔
•جب مسکرانا مشکل لگ رہا ہو، لیکن اگر سنت سمجھ کر مسکرا لیں تو اگلی دفعہ مسکرانا آسان ہو جاتا ہے۔
•جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی عادت نہ ہو تو انسان کوشش کرے، چند دفعہ پڑھے، پڑھتا جائے تو عادت بن جاتی ہے، پھر پڑھنا آسان ہو جاتا ہے۔
•جب بھری ہوئی محفل میں بیٹھ کر کھانا مشکل لگ رہا ہو، لیکن اگر سنت سمجھ کر بیٹھ کر کھانا کھا لیا تو اگلی دفعہ بیٹھ کر کھانا آسان ہو جاتا ہے۔
•اگر چیخنے اور برے الفاظ کہنے کی عادت پڑی ہو تو اگر اپنی زبان کو روک لیا جائے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق یاد کر لیا جائے۔ چند دفعہ اپنے آپ کو روکنے سے پھر مزاج میں شائستگی پیدا ہونا آسان ہو جاتا ہے۔
•جب احادیث پڑھنا مشکل لگ رہا ہو اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قول و فعل سمجھ کر اور آپ کی قربانیوں کو یاد کر لیا جائے اور اس سوچ کے ساتھ اگر احادیث پڑھی جائیں تو پڑھنا آہستہ آہستہ آسان ہو جاتا ہے۔
دراصل کمزوری ہمارے اندر ہوتی ہے۔ 
ہم کوشش نہیں کرتے، 
محنت نہیں کرتے اور یہ بہانہ کر کے چھوڑ دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اگر توفیق دیتا تو میں کر لیتی۔
 کوشش اللہ نے انسان کے اختیار میں رکھی ہے۔کوشش کرنے سے عادت بنتی ہے اور ایک وقت اتا ہے کہ انسان کے لیے وہ کام آسان ہو جاتا ہے۔
 جب کسی بھی کام کو کرنے کی توفیق ملنا مشکل ہو رہی ہو تو انسان آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی کثرت کر دے، اور یہ یاد رکھ لیں کہ اس شخص کی ناک خاک آلود ہونے کا کہا گیا ہے جس کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہو اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نہ پڑھا ہو۔
درود پڑھنے کے جہاں فضائل ہیں، وہاں اس کی اہمیت بھی بہت زیادہ ہے، وہاں اس کی ضرورت بھی ہے اور یہ ہمارے اپنے  فائدے کے لیے ہی ہے۔
ہمیں اپنی زندگی میں بہانے بنانے اور اپنی سستیوں سے باہر آ کر محنت کرنی ہوگی، اور محنت کی توفیق مانگنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود کی کثرت کر دیں۔
اللَّهُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَى نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم۔
توفیق کے معاملے میں اپنے نفس کا محاسبہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس سے مدد مانگنے کی ضرورت کو بھی ساتھ رکھنا چاہیے، تاکہ انسان کوشش بھی کرے اور اپنی قوت پر بھروسا بھی نہ کرے
ام عبداللہ 
ماخوذ ریاض الصالحین 
كتاب الصلاة على رسول الله صلى الله عليه وسلم 
باب فضل الصلاة على رسول الله صلى الله عليه وسلم. 
سبق: 63