Sahih Muslim # 6601 عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، *أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْه...
Sahih Muslim # 6601
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، *أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَا عَائِشَةُ! إِنَّ اللهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ وَيُعْطِي عَلَى الرِّفْقِ مَا لَا يُعْطِي عَلَى الْعُنْفِ وَمَا لَا يُعْطِي عَلَى مَا سِوَاهُ» .
Narrated A'ishaؓ, the wife of the Prophet (ﷺ): The Messenger of Allah (ﷺ) said, "O 'Aishah! Indeed, Allah is Gentle and He loves gentleness, and He grants upon gentleness what He does not grant upon harshness, nor what He grants upon anything else."
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! بے شک اللہ تعالیٰ رفیق (نرم خو اور مہربان) ہے اور وہ نرمی کو پسند فرماتا ہے، اور نرمی پر وہ کچھ عطا فرماتا ہے جو سختی پر نہیں دیتا اور نہ ہی اس کے علاوہ کسی اور چیز پر عطا فرماتا ہے۔“
(اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ایک صفت ’الرَّفِيق‘ ہے، یعنی وہ اپنے بندوں کے ساتھ نرمی و آسانی کا معاملہ کرنے والا ہے۔ جب بندہ مخلوقِ خدا کے ساتھ نرمی، بردباری اور درگزر کا رویہ اپناتا ہے تو وہ اللہ کی پسندیدہ صفت کا مظهر بن جاتا ہے۔ آپ ﷺ نے واضح فرمایا کہ جن نتائج، کامیابیوں اور اجر و ثواب کو انسان نرمی اور حکمت کے ذریعے حاصل کر سکتا ہے، وہ درشتی، تشدد اور سختی سے ہرگز حاصل نہیں ہو سکتے۔ نرمی کا رویہ اپنے متعلقین، ماتحت لوگوں، اور تمام مخلوقات کے ساتھ اختیار کرنا مستحب ہے۔ لیکن جہاں حدود اللہ کا یا عدل و انصاف کا معاملہ ہو تو اللہﷻ کے احکامات سے روگردانی والی نرمی درست نہیں ہے۔ اللہ سبحانہ وتعالی ہمیں اپنے معاملات میں اسوہ حسنہ کے مطابق نرمی سے کام لینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین)