*صحيح البخاري # ٢٣٩٧* *Sahih Bukhari # 2397* عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، *أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَا...
*صحيح البخاري # ٢٣٩٧*
*Sahih Bukhari # 2397*
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، *أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو فِي الصَّلَاةِ ، وَيَقُولُ : «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ» ، فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ : مَا أَكْثَرَ مَا تَسْتَعِيذُ يَا رَسُولَ اللهِ مِنَ الْمَغْرَمِ؟ قَالَ : «إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا غَرِمَ ، حَدَّثَ فَكَذَبَ ، وَوَعَدَ فَأَخْلَفَ» .*
Narrated Aishaؓ: *The Messenger of Allah (ﷺ) used to supplicate in his prayer, saying, "O Allah, I seek refuge in You from sin and from being overwhelmed by debt." Someone said to him, "How often you seek refuge from debt, O Messenger of Allah!" He (ﷺ) replied, "When a man falls into debt, he speaks and lies, and he makes a promise and breaks it."*
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے: *رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں یہ دعا مانگا کرتے تھے، "اے اللہ! میں گناہ اور قرض کے بوجھ سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔" کسی کہنے والے نے آپ ﷺ سے عرض کیا، "اللہ کے رسول! آپ قرض سے اس قدر زیادہ پناہ کیوں مانگتے ہیں؟" آپ ﷺ نے فرمایا، "جب آدمی قرض (کے بوجھ) میں دب جاتا ہے، تو جب بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے، اور جب وعدہ کرتا ہے تو اس کی خلاف ورزی کرتا ہے۔"
_*(آپ ﷺ نے گناہ اور قرض کے بوجھ سے ایک ساتھ پناہ مانگ کر یہ واضح فرمایا ہے کہ جہاں گناہ آخرت کی تباہی کا باعث ہے، وہاں حد سے بڑھا ہوا یا غیر ضروری قرض انسان کے کردار اور ساکھ کو برباد کر دیتا ہے۔ اور جب انسان اسے ادا کرنے سے قاصر ہوتا ہے، تو وہ اپنی عزت بچانے کے لیے جھوٹ اور وعدہ خلافی کا سہارا لینے لگتا ہے۔ لہٰذا، فضول خرچی اور نمائش کے لیے قرض لینے سے بچا جائے تاکہ انسان کی مروت، سچائی اور دین محفوظ رہ سکے۔ اللہﷻ ہمیں گناہ اور قرض کے شر سے اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین)
