المعجم الأوسط للطبراني # ٦٠٢٦ Al-Mu’jam al-Awsaṭ lil-Ṭabarānī # 6026 عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّ...
المعجم الأوسط للطبراني # ٦٠٢٦
Al-Mu’jam al-Awsaṭ lil-Ṭabarānī # 6026
عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : «أَحَبُّ النَّاسِ إِلَى اللهِ أَنْفَعُهُمْ لِلنَّاسِ ، وَأَحَبُّ الأَعْمَالِ إِلَى اللهِ سُرُورٌ تُدْخِلُهُ عَلَى مُسْلِمٍ أَوْ تَكْشِفُ عَنْهُ كُرْبَةً أَوْ تَقْضِي عَنْهُ دِينًا أَوْ تَطْرُدُ عَنْهُ جُوعًا ، وَلَأَنْ أَمْشِيَ مَعَ أَخٍ لِي فِي حَاجَةٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَعْتَكِفَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ يَعْنِي مَسْجِدَ الْمَدِينَةِ شَهْرًا ، وَمَنْ كَفَّ غَضَبَهُ سَتَرَ اللهُ عَوْرَتَهُ ، وَمَنْ كَظَمَ غَيْظَهُ وَلَوْ شَاءَ أَنْ يُمْضِيَهُ أَمْضَاهُ مَلأَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ قَلْبَهُ أَمْنًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَمَنْ مَشَى مَعَ أَخِيهِ فِي حَاجَةٍ حَتَّى أَثْبَتَهَا لَهُ أَثْبَتَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ قَدَمَهُ عَلَى الصِّرَاطِ يَوْمَ تَزِلُّ فِيهِ الأَقْدَامُ» .
Ibn Umarؓ reported that the Prophet (ﷺ) said: “The most beloved people to Allah are those who are most beneficial to people. The most beloved deed to Allah is to make a Muslim happy, or remove one of his troubles, or forgive his debt, or feed his hunger. That I walk with a brother regarding a need is more beloved to me than that I seclude myself (in i'itkiaf) in this mosque in Madina for a month. Whoever swallows his anger, then Allah will conceal his faults. Whoever suppresses his rage, even though he could fulfill his anger if he wished, then Allah will secure his heart on the Day of Resurrection. Whoever walks with his brother regarding a need until he secures it for him, then Allah Almighty will make his footing firm across the siraat (bridge) on the day when the footings are shaken.”
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب اللہ کے ہاں وہ شخص ہے جو لوگوں کو سب سے زیادہ نفع دینے والا ہے۔ اور اللہ کو سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ خوشی ہے جو مسلمان کسی دوسرے مسلمان کو دے، یا اس سے مصیبت دور کرے ،یا اس کا قرض ادا کرے یا اس کی بھوک ختم کرے۔ اور اگر میں کسی بھائی کے ساتھ اس کی ضرورت پوری کرنے کے لئے چلوں تو یہ مجھے اس مسجد (یعنی مسجد نبوی) میں ایک ماہ اعتکاف میں بیٹھنے سے زیادہ محبوب ہے۔ جس شخص نے اپنا غصہ روکا اللہ تعالیٰ اس کے عیوب پر پردہ ڈال دے گا۔ جو شخص اپنے غصے کے مطابق عمل کرنے کی طاقت کے باوجود اپنے غصے کو پی گیا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے دل کو امید سے بھر دے گا۔ اور جو شخص اپنے بھائی کے ساتھ اس کی ضرورت پوری ہونے تک اس کے ساتھ چلا تو اللہ تعالیٰ اسے اس دن (پُل) صراط پر ثابت قدم رکھیں گے جس دن قدم ڈگمگا رہے ہوں گے۔"
_*(ہم میں سے کون ہے جسے مسجد نبوی میں پورا ماہ اعتکاف پسند نہ ہو؟ مگر آپ ﷺ نے بھائی کی مدد کی کوشش کو اس سے زیادہ پسند فرمایا۔ آپ ﷺ کی ان تعلیمات پر عمل کی ذریعے سے ہی ایک مثالی معاشرہ وجود میں آیا جس نے صحابہ پر دنیا اور آخرت دونوں کی کامیابی کے دروازے کھول دیئے۔ اللہ سبحانہ وتعالٰی ہمیں اپنے محبوب ﷺ کی ان تعلیمات کو اپنے خاندان اور اپنے معاشرے میں دوبارہ نافذ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین)