Page Nav

HIDE

Grid

GRID_STYLE
TRUE

Left Sidebar

False

Breaking News

latest

بطخ کے بچے

بطخ کے بچے جب انڈوں سے نکلتے ہیں، تو اول اول جھیل میں بطخ کے اوپر سوار اترتے ہیں۔ بطخ ان کو لیکر تیرتی ہے. چند دن بعد اچانک ایک دن بطخ اپنا ...

بطخ کے بچے جب انڈوں سے نکلتے ہیں، تو اول اول جھیل میں بطخ کے اوپر سوار اترتے ہیں۔ بطخ ان کو لیکر تیرتی ہے. چند دن بعد اچانک ایک دن بطخ اپنا بدن جھٹکتی ہے اور بچے پانی میں گر جاتے ہیں۔ فطرت راہنمائی کرتی ہے اور جبلت کچھ ہی دیر میں ان کو تیراک بنا دیتی ہے۔

فرض کیا بطخ یہ نہ کرے تو کیا ہو گا.؟
ہر گزرتے دن بچوں کا وزن بڑھتا چلا جائے گا۔ اور بطخ ان کے وزن سے ہی ڈوب جائے گی. 

یہی حال ہم انسانوں کا ہے۔ ہم اپنے بچوں کو سرد و گرم سے بچاتے بچاتے فطرت کی راہ میں مزاحمت شروع کر دیتے ہیں. یہ بھول جاتے ہیں کہ جس رب نے ہمارے لئے ان کے تحفظ کی قوت و ہمت ودیعت کی، اُسی رب کے ہی یہ بندے ہیں۔ ہم ان کی زندگیوں کو ریموٹ کنٹرول کی طرح پیرنٹ گائڈ کنٹرول سے باندھ دیتے ہیں۔ وقت گزرتا ہے. ان کا بوجھ بڑھ جاتا ہے۔

اور ہم تھک ہار کر ایک دن کوئی ایک قصہ کوئی ایک وجہ پکڑ کر ان کو جھٹک کر دور کر دیتے ہیں۔ اچانک بچہ دنیا کے بازار میں تنہا اپنی ذمہ داری کیلئے کوشاں ہو جاتا ہے۔ تب اس کے پاس سب کچھ ہوتے بھی اعتماد نہیں ہوتا۔ کیونکہ اعتماد لینے کے دور میں ہم نے اپنے خود ساختہ خوف کے پردوں میں ان کو چھپا رکھا ہوتا ہے.
اپنے بچوں پر اعتماد کریں. ان کو زندگی کے بازار کو سمجھنے دیں۔ یاد رکھیں چلنا سکھانے کیلئے انگلی پکڑی جاتی ہے. کندھوں پر بھٹا کر رکھنے سے وہ چلنا نہیں سیکھے گا ۔۔۔👇👇👇