Page Nav

TRUE

Left Sidebar

False

تازہ ترین

latest

انسان کے چھچھورپن اور کم ظرفی

📖 ارشاد باری تعالیٰ ﷻ : وَ اِذَاۤ اَذَقۡنَا النَّاسَ رَحۡمَۃً فَرِحُوۡا بِہَا ؕ وَ اِنۡ تُصِبۡہُمۡ سَیِّئَۃٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَیۡدِ...




📖 ارشاد باری تعالیٰ ﷻ :
وَ اِذَاۤ اَذَقۡنَا النَّاسَ رَحۡمَۃً فَرِحُوۡا بِہَا ؕ وَ اِنۡ تُصِبۡہُمۡ سَیِّئَۃٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَیۡدِیۡہِمۡ اِذَا ہُمۡ یَقۡنَطُوۡنَ ﴿۳۶﴾

📚 ترجمہ :
اور جب ہم لوگوں کو رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ اس پر اِترا جاتے ہیں ، اور اگر انہیں خود اپنے ہاتھوں کے کرتوت کی وجہ سے کوئی برائی پہنچ جائے تو ذرا سی دیر میں وہ مایوس ہونے لگتے ہیں ۔


۔ ( سُوۡرَۃٌ الروم : ٣٦ )
✍️ تفسیر :
اس آیت میں انسان کے چھچھورپن اور کم ظرفی کا ذکر کیا گیا ہے ۔ انسان کو جب دنیا میں کچھ دولت ، طاقت ، عزت نصیب ہو جاتی ہے اور یہ دیکھتا ہے کہ اس کا کام خوب چل رہا ہے تو اسے یاد نہیں رہتا کہ یہ سب کچھ اللہ کا دیا ہے ۔ یہ سمجھتا ہے کہ میرے ہی کچھ سرخاب کے پر لگے ہوئے ہیں جو مجھے وہ کچھ میسر ہوا جس سے دوسرے محروم ہیں۔ اس غلط فہمی میں فخر و غرور کا نشہ اس پر ایسا چڑھتا ہے کہ پھر یہ نہ خدا کو خاطر میں لاتا ہے نہ خلق کو۔ لیکن جونہی کہ اقبال نے منہ موڑا اس کی ہمت جواب دے جاتی ہے اور بد نصیبی کی ایک ہی چوٹ اس پر دل شکستگی کی وہ کیفیت طاری کر دیتی ہے جس میں یہ ہر ذلیل سے ذلیل حرکت کر گزرتا ہے حتیٰ کہ کود کشی تک کر جاتا ہے ۔  
🔰WJS🔰