Page Nav

TRUE

Left Sidebar

False

تازہ ترین

latest

ایک لکڑ ہارا اورشاگرد

    ایک گاٶں میں ایک لکڑ ہارا رہتا تھا جو اپنے شاگرد کے ساتھ روز جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر شہر میں فروخت کیا کرتا تھا۔ ایک دن لکڑ ہارا اپنے شاگر...


 
 
ایک گاٶں میں ایک لکڑ ہارا رہتا تھا جو اپنے شاگرد کے ساتھ روز جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر شہر میں فروخت کیا کرتا تھا۔ ایک دن لکڑ ہارا اپنے شاگرد کے ساتھ لکڑیاں کاٹ رہا تھا کہ اسے ایک شیر کے دھاڑنے کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ لکڑ ہارے نے غور سے سنا تو وہ آواز کافی قریب سے ہی سنائی دے رہی تھیں ۔ لکڑ ہارا اور اس کا شاگرد ڈر کر ایک درخت پر چڑھ گئے اور کافی دیر تک اسی درخت پر بیٹھے رہے ۔ کچھ دیر بعد ایک شیر اپنے منہ میں ایک ہرن کو اٹھائے اسی درخت کی طرف چلا آ رہا تھا۔
 
لکڑ ہارا اور اس کا شاگرد کافی گھبرا گئے اور چپ چاپ اسی درخت پر بیٹھے رہے۔ اس شیر نے اسی درخت کے نیچے بیٹھ کر اپنے شکار کو چیر پھاڑ کر اپنی بھوک مٹائی اور باقی بچے شکار کو وہیں چھوڑ کر چلا گیا۔ شیر کے جانے کے بعد ایک لومڑی لنگڑاتی ہوئی وہاں آئی اور اس بچے ہوئے ہرن کا گوشت کھانے لگی۔ جب لومڑی نے خوب پیٹ بھر کر کھا لیا تو وہ بھی وہاں سے چلی گئی۔ لکڑ ہارا یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا کہ کچھ دیر کے بعد مختلف جانور آئے اس ہیرن کا گوشت کھایا اور چلے گئے۔ یہاں تک کہ چیل گدھ وغیرہ اس ہرن کو کھاتے رہے۔ اور چلے گئے۔ جب شکار ختم ہو گیا اس کی ہڈیاں بھی باقی نہ رہیں ۔ تو لکڑ ہارا درخت سے نیچے اترا اور اپنے شاگرد سے کہنے لگا؛
 
میرا رب غفور و رحیم ہے، اس نے ایک شیر کی بدولت کتنے جانوروں کو گھر بیٹھے بٹھائے بآسانی رزق مہیا کیا۔ میں تو پھر اس کا بندہ ہوں، اشرف المخلوقات ہوں، پھر میں رزق کے لئے، دولت کے لئے اتنی محنت کیوں کروں۔ آج کے بعد میں لکڑیاں کاٹنے کی بجاۓ گھر میں رہ کر بس ذکر الہٰی کیا کروں گا۔ میرا رب میرے حصے کا رزق مجھے گھر بیٹھے بٹھائے پہنچا دیا کرے گا، جو اس نے میرے نصیب میں لکھ رکھا ہے۔ خیر لکڑ ہارے نے لکڑیاں کاٹنے کی بجائے بند کمرے میں عبادت شروع کر دی اور اس کے شاگرد نے اپنے استاد کی کلہاڑی سے لکڑیاں کاٹنے کا سلسلہ جاری رکھا۔

اگلے دن لکڑہارے کے شاگرد نے لکڑیاں کاٹیں اور لکڑیاں جمع کر کے شہر لے آیا، جہاں اس کی لکڑیاں ایک بہت بڑے تاجر نے اچھے دام میں خرید لیں اور آٸندہ بھی اس سے لکڑیاں لینے کا معاہدہ کر لیا۔ لکڑ ہارے کے شاگرد سے کہا کہ روزانہ لکڑیاں کاٹ کر میرے کارخانے بھجوا دیا کرے، لکڑ ہارے کے شاگرد نے اس مال سے کچھ رقم اپنے استاد کے لئے الگ کی، کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کی اور کچھ جمع کی۔ جب وہ اپنے استاد کو اس کا حصہ دینے گیا تو اس کا استاد وہ رقم لے کر بہت خوش ہوا کہ دیکھا میرے رب نے میرا رزق خود بخود مجھے گھر بیٹھے بٹھائے ہی بھیج دیا اور رقم لے کر سجدے میں گر پڑا۔ اس کے شاگرد نے اپنے استاد سے وعدہ کیا کہ وہ روزانہ ان کے حصے کا مال ان کو دیا کرے گا ۔

لکڑ ہارا عبادت میں مشغول رہا اور اس کا شاگرد روزانہ اس کا حصہ اسے پہنچا دیا کرتا اور لکڑیاں کاٹنے میں مصروف رہا۔ وقت گزرتا گیا لکڑ ہارے کا شاگرد اپنے مال سے یتیموں، مسکینوں حاجت مندوں اور اپنے استاد کا حصہ ان تک پہنچاتا رہا اور محنت کرتا رہا۔

ایک دن لکڑ ہارے کا شاگرد اپنے استاد کے پاس آیا اور کہنے لگا استاد محترم آج میں آپ کو اپنے ساتھ لے جانے آیا ہوں، کچھ دکھانا ہے آپ کو۔ لکڑ ہارا خوشی خوشی اپنے شاگرد کے ساتھ چلا گیا۔ اس کا شاگرد اسے ایک عالیشان گھر میں لے آیا جو دیکھنے میں بہت مہنگا لگ رہا تھا۔ اس نے اپنے شاگرد سے پوچھا یہ کس کا گھر ہے؟ لکڑ ہارے کے شاگرد نے کہا؛ استاد جی یہ گھر میرا ہے، اس کا افتتاح کروانے آپ کو لایا ہوں، دروازہ کھولئے اور اندر چلئے۔ خیر لکڑ ہارا اس کے ساتھ اندر چلا گیا عمدہ کھانا کھایا اور اپنے شاگرد سے محو گفتگو ہوا، اور پوچھا اتنا مہنگا کھانا اور اتنا مہنگا گھر تیرے پاس کیسے آیا ؟
اس کے شاگرد نے اس سے کہا؛ استاد محترم، یہ سب آپ کی اس کلہاڑی کی بدولت ہے جسے آپ جنگل میں پھینک کر چلے آئے تھے۔ آپ عبادت میں مصروف ہو گئے اور میں اسی کلہاڑی سے محنت میں مشغول ہو گیا۔ محنت بھی کرتا اور عبادت بھی، محنت سے کمائے پیسوں سے آپ کو بھی حصہ دیتا رہا اور اللہ کی راہ میں بھی خرچ کرتا رہا اور پیسے جوڑتا بھی رہا اور انہی پیسوں سے گھر بھی بنا لیا لکڑی کا کارخانہ بھی بنا لیا۔
 
لکڑ ہارا واپس اپنے گھر چلا آیا اور خود کو کوسنے لگا، رونے چلانے لگا، رو رو کر کہنے لگا خدایا ! یہ کیسا انصاف ہے، تو نے میری ہی کلہاڑی سے میرے ہی شاگرد کو اتنا کچھ عطا کر دیا اور مجھے کچھ نہ دیا۔ کاش وہ کلہاڑی میرے پاس رہتی تو آج میں مالدار ہوتا۔ لکڑ ہارا ابھی رو رہا تھا کہ غیب سے آواز آئی؛ اے میرے بندے تو نے اپنا رستہ خود منتحب کیا ہے۔ تو کئے کرائے شکار سے سبق لے کر اپنا رستہ منتخب کر کے کسی شیر کے انتظار میں رہا۔ جب کہ تیرے شاگرد نے شیر سے متاثر ہو کر اپنا رستہ منتحب کیا اور شیر بن کر اپنا رزق بھی کمایا اور تیرے جیسے بھوکے شکاریوں کو بھی کھلایا۔ اب صبر رکھ شکوہ نہ کر ۔۔۔

دوستو ! عرض یہ کرنا چاہتا ہوں کہ محنت کا دامن کبھی مت چھوڑو اور حق حلال کماؤ اور محنت کے ساتھ اپنے رب کی عبادت بھی کرو، کیونکہ وہ خالق ہے، عطا کرنے والا ہے، تمام تر عبادتوں تعریفوں کے قابل ہے سجدے کے لاٸق ہے۔“
🔰WJS🔰