Page Nav

TRUE

Left Sidebar

False

تازہ ترین

latest

میرے والد گرامی رحمہ اللہ کی زندگی کے آخری تین دن

ہفتے بھر کومے میں رہنے کے بعد حضرت والد گرامی کی طبیعت سنبھل چکی تھی والد محترم کا اصرار تھا اپنے گھر بستی شاہ جمال نوتک چلتے ہیں کی...



ہفتے بھر کومے میں رہنے کے بعد حضرت والد گرامی کی طبیعت سنبھل چکی تھی والد محترم کا اصرار تھا اپنے گھر بستی شاہ جمال نوتک چلتے ہیں کیونکہ والدہ محترمہ وہیں تھیں
چنانچہ ہم جامعہ اپنے گھر واپس آگئے
کل پھر ہمیں دوبارہ ڈیلائیسسز کیلئے واپس ملتان جانا تھا رات کو جسم پر خارش کی شکایت بڑھ گئی 
میں اک تیل لایا تھا رات بھر اسی کی مالش کرتے رہے
بار بار نماز کے لئے کہتے اور انہیں بتایا جاتا کہ آپ نماز ادا کر چکے ہیں صبح 7 بجے کے قریب انہیں خون کی الٹی آئی جو
سب کیلئے تشویش کا باعث تھی
ڈاکٹر سے  شام کا ٹائم لیا ہوا تھا مگر مشورے میں یہ طے ہوا فوراً لے جانا چاہیے
ملتان روانہ ہوگئے
ملتان انکی حالت بگڑ گئی فورا ڈیلائیسسز کیلئے   جانا پڑا واپسی پر 
نیم بیہوشی طاری تھی یادواشت متاثر لگے لگی خادم سے پوچھتے کہ تم کون ہو مگر یاد رہا تو انہیں بس نماز یاد تھی
مجھے وضو کراؤ مجھے نماز پڑھاؤ 
عصر کے وقت میں تھوڑا سستانے کیلئے دوسرے کمرے لیٹا ہی تھا کہ خادم نے آکر بتایا کہ آپکا نام بار بار لے رہے ہیں
میں بھاگا بھاگا پہنچا پھر حضرت نے اٹھنے نہیں دیا یہ دوسری رات تھی سب  پر بہت بھاری صبح تہجد کے وقت میں اور خادم کمرے میں تھے مجھے کہا وضو کراؤ
اور گاڑیاں روانہ کرو ایک گاڑی والدہ کو لے آئے دوسری بھائی صاحب کو لے آئے تایا ابو کو بھائی صاحب کہتے تھے
تیسری آپکی دادی کو لے آئے پھر کہا میرے لیے بیری کے پتے گرم کرو تین کچے ڈھیلے بھی لے آؤ
یہ ساری چیزیں تیار کرو اور مجھے پگڑی پہناو
یہ سب باتیں بھر پور انداز میں کہیں جیسے کوئی تندرست آدمی کہتا ہے
جسپر میں رونے لگا
صبح نماز کے بعد کومے میں چلے گئے
اسی حالت میں ہاسپٹل لائے
وہاں پتہ چلا حضرت کا جگر فیل ہوچکا ہے
ڈاکٹر نے چھوٹے بھائی کو بتادیا اب دعا ہی کرسکتے ہیں
رات تہجد کے بعد انکی سانس کی آواز آنے لگے جس سے ذکر کی آواز محسوس ہوتی تھی
میری نظریں آپکے چہرے پر ٹکی رہیں
صبح نماز کی تیاری کررہے تھے تو انہوں نے بند آنکھیں کھولیں اور اللہ کہہ کر اک ہچکی لی
پھر چہرے پر ایک پرسکون مسکراہٹ پھیل گئی
میں سمجھ گیا کہ ہم چھت سے محروم ہوگئے ہیں
انا للہ وانا الیہ راجعون
انکی اس آخری ہچکی نے میری زندگی کا رخ بدل دیا
تین سال تک ایسا اثر طاری رہا کہ میں نے لوگوں سے ملنا چھوڑ دیا فون تک بند کردیے کبھی کبھی تو وہ منظر ایسا آنکھوں میں ابھرتا کہ تین تین دن تک نیند نا آتی 
آہ زمین کھا گئی آسماں کیسے کیسے
 بشکریہ حضرت مولانا صاحبزادہ پیر احمد صاحب شاہجمالی دامت برکاتہم العالیہ