Page Nav

TRUE

Left Sidebar

False

تازہ ترین

latest

بھابھی کو کھانا بنانا آتا ہی نہیں تھا

میرے ایک بچپن کے دوست کی شادی ہوئی شادی کے کچھ دن تک تو بھابھی نے کچن میں قدم ہی نا رکھا، کیوں کہ کھانا بنانا آتا ہی نہیں تھا، ساس ک...



میرے ایک بچپن کے دوست کی شادی ہوئی شادی کے کچھ دن تک تو بھابھی نے کچن میں قدم ہی نا رکھا، کیوں کہ کھانا بنانا آتا ہی نہیں تھا، ساس کے بے حد اسرار پر ایک دن کچن میں کھانا بنانے چلی ہی گئ پہلا تجربہ تھا لہذا سالن میں پانی بہت زیادہ ہوگیا، بھابھی بہت زیادہ ڈر گیئں، ساس غصہ کی تیز تھیں، بھابھی نے ساس سسر کے سامنے کھانا رکھا تو ساسو ماں کی قوالیاں شروع ہوگیئں، ٹھیک ٹھاک سنائی جبکہ بھابھی کونے میں کھڑی خاموشی سے سنتی رہی اور آنسو بہاتی رہی، 

اسی دوران میرا دوست دکان بند کرکے گھر میں داخل ہوا تو فورا ماں نے بیٹے کو تیز آواز میں وہیں روکتے ہوۓ کہا جا بھئ کھانا باہر سے لیکر آ آج تو سارے کھانے کا بیڑا غرق ہوگیا جب شوہر کے سامنے ساس نے یہ جملہ کہا تو کونے میں کھڑی بیوی کی ایک اور ہچکی نکلی، میرا دوست اندر آیا ایک نظر بیوی کو دیکھا جو کونے میں کھڑی مسلسل آنسو بہا رہی تھی، دوست والدہ کے قریب آیا سلام کیا اور کہا جی امی کھانا باہر سے لے آتا ہوں، تھوڑی دیر میں کھانا باہر سے آچکا تھا دستر خوان لگا سب بیٹھے تو دوست نے سب کے سامنے بیوی سے کہا کہ میرے لیۓ وہ سالن لیکر آؤ جو تم نے بنایا ہے، بھابھی کی خوشی کا ٹھکانا نا رہا اور وہ بھاگی بھاگی کچن میں گئ اور شوہر کے لیۓ پانی والا سالن لے آئی، سب گھر والوں نے ہوٹل کا کھانا کھایا جبکہ وہ دوست سب گھر والوں کے سامنے اپنی بیوی کا پانی والا سالن کھانے لگا اور مسلسل تعریف کرنے لگا کہ امی آپ کی بہو نے جو سالن بنایا مجھے بہت پسند آیا اس کے بڑے فائدے ہیں کہ روٹی چور کر کھاسکتے ہیں، اس سالن کو سوپ کے انداز میں پی سکتے ہیں اور میڈیکل تو اس کے بڑے فائدے بتاتی ہے وغیرہ وغیرہ، اور دیکھتے ہی دیکھتے دوست بھابھی کے بناۓ ہوۓ سالن سے تین روٹی کھا چکا تھا، بھابھی بے حد خوش ہوئی وہ تمام آنسو خوشی کے آنسوؤں میں تبدیل ہوگۓ اور آگے زندگی کے معاملات میں ایک نیا حوصلہ بھی ملا۔۔۔
یہاں میں یہ کہنا چاہتا ہوں ماؤں کو چاہیۓ کالج یونیورسٹی کے علاوہ بیٹی کو تھوڑا گھر داری بھی سکھایئں کہ دو وقت کا کھانا بنا سکے، خود کے پہنے کے لیۓ سوٹ بنا سکے اور دوسرے معاملات بیٹی کو لازمی سکھایئں جایئں کیوں کہ ہر سسرال کا ماحول ایک جیسا نہیں ہوتا، بہت کم سسرال ہوتے ہیں جہاں بہو کو بیٹیوں والی عزت دی جاتی ہے، اگر ایسی صورتحال میں شوہر بیوی کا ساتھ دے تو بہت سے معاملات خراب ہونے سے بچ جایئں گے، ایسے معاملات میں بیوی سوچتی ہے کہ شوہر میرا کتنا ساتھ دے رہا ہے، اگر بیوی کو شوہر کا ساتھ مل جاۓ تو ساری دنیا اسکے خلاف ہوجاۓ بیوی کو فرق نہیں پڑتا لیکن سب اچھے ہو بھی جائیں شوہر اچھا نہ ہو تو زندگی برباد ہو جاتی ہےاگر سسرال میں شوہر ہی اپنی بیوی کے خلاف ہوجاۓ تو پھر عورت اندر سے ٹوٹنا شروع ہوجاتی ہے، ماں کا احترام کریں فرض ہے لیکن بیوی کو بھی ساتھ لیکر چلے، نجانے کتنے گھروں کا سکون اس ساس بہو والے جھگڑوں نے درہم برہم کیا ہوا ہے، تو ماں کو بھی ساتھ لیکر چلنا ہے بیوی کو بھی ساتھ لیکر چلنا ہے، ماں کی باتوں میں آکر بیوی سے بدسلوکی نا کی جاۓ، بیوی کی باتوں میں آکر ماں سے بدتمیذی نا کی جاۓ، ایسے معاملات سے نمنٹنے کے لیۓ رسول اللہ ﷺ نے بہت سارے طریقے بتاۓ ہیں، 

افسوس تو بس اتنا ہے کہ ہمارے پاس جھگڑوں کا بہت ٹائم ہے، یہاں کی وہاں لگانے کا بہت ٹائم ہے، ٹی وی ڈرامے دیکھنے کے لیۓ بہت ٹائم ہے، باہر گھومنے کے لیۓ بہت ٹائم ہے ، اگر ہمارے پاس ٹائم نہیں ہے تو رسول اللہ ﷺ سنت کو پڑھنے کا ٹائم نہیں ہے، ارے پڑھو پڑھو پڑھو رسول اللہ ﷺ کو پڑھو کے زندگی کے تمام مسائل کا حل بتا کر گۓ ہیں نکلو اس آرٹیفشل زندگی سے رسمی معاملات سے سمجھوتے والے تعلقات سے اور ذرا دس منٹ رسول اللہ ﷺ سنت کو پڑھو تمام مسائل خود حل ہوجایئں گے انشاءاللہ۔...

خود بھی پڑھو اولاد کو بھی پڑھاؤ کہ کل کو آپ کو بھی بیوی بننا ہے آپ کو بھی ساس بننا ہے آپ کو بھی بیٹا بننا ہے  آپ کو بھی شوہر بننا ہے۔ میں تو دو ٹوک کہتا ہوں لوگ اپنے مسائل کے خود ذمہ دار ہیں کہ لوگ مسائل کا حل دوستوں سے پوچھتے ہیں جن کے اپنے گھر خراب ہیں، رشتہ داروں سے پوچھتے ہین جن کی اپنی بیٹیاں گھر بیٹھی ہیں، ٹی وی ڈراموں سے سبق پکڑتے ہیں ناولز سے سبق لیتے ہیں جہاں عشق کرنے والی لڑکیوں کو مظلوم بنا کر پیش کیا جاتا ہے، ہر جگہ مسائل کا حل ڈھونڈتے ہیں بس نہیں ڈھونڈتے تو رسول اللہ ﷺ سنت  کو نہیں ڈھونڈتے۔۔۔۔