Page Nav

TRUE

Left Sidebar

False

تازہ ترین

latest

اور جو کوئی اللہ کا شکر ادا کرتا ہے وہ خود اپنے فائدے کے لیے شکر کرتا ہے

سورہ لقمٰن آیت نمبر  12 وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنَا لُقۡمٰنَ الۡحِکۡمَۃَ اَنِ اشۡکُرۡ لِلّٰہِ ؕ وَ مَنۡ یَّشۡکُرۡ فَاِنَّمَا یَشۡکُرُ ل...



سورہ لقمٰن آیت نمبر 

12 وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنَا لُقۡمٰنَ الۡحِکۡمَۃَ اَنِ اشۡکُرۡ لِلّٰہِ ؕ وَ مَنۡ یَّشۡکُرۡ فَاِنَّمَا یَشۡکُرُ لِنَفۡسِہٖ ۚ وَ مَنۡ کَفَرَ فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ حَمِیۡدٌ ﴿۱۲﴾


ترجمہ: اور ہم نے لقمان کو دانائی عطا کی تھی، (٤) (اور ان سے کہا تھا) کہ اللہ کا شکر کرتے رہو۔ (٥) اور جو کوئی اللہ کا شکر ادا کرتا ہے وہ خود اپنے فائدے کے لیے شکر کرتا ہے اور اگر کوئی ناشکری کرے تو اللہ بڑا بےنیاز ہے، بذات خود قابل تعریف۔ 

تفسیر: 4: حضرت لقمان کے بارے میں راجح بات یہی ہے کہ وہ نبی نہیں، بلکہ ایک دانشمند شخص تھے، وہ کس زمانے میں تھے ؟ اور کس علاقے کے باشندے تھے، اس کے بارے میں بھی روایات بہت مختلف ہیں، جن سے کوئی حتمی نتیجہ نکالنا مشکل ہے، بعض روایات میں ہے کہ وہ یمن کے باشندے تھے اور حضرت ہود (علیہ السلام) کے جو ساتھی عذاب سے بچ گئے تھے، ان میں یہ بھی شامل تھے، اور بعض حضرات کا کہنا ہے کہ یہ حبشہ سے تعلق رکھتے تھے، لیکن قرآن کریم نے ان کا جس غرض سے تذکرہ فرمایا ہے، وہ ان تفصیلات کے جاننے پر موقوف نہیں ہے، یہ بات واضح ہے کہ عرب کے لوگ ان کو عظیم دانشور سمجھتے تھے، اور ان کی حکمت کی باتیں ان کے درمیان مشہور تھیں، جاہلیت کے زمانے کے کئی شعراء نے ان کا تذکرہ کیا ہے، لہذا ان کی باتیں بجا طور پر ان اہل عرب کے سامنے حجت کے طور پر پیش کی جاسکتی تھیں۔ 5: 

 آسان ترجمۂ قرآن مفتی محمد تقی عثمانی