Page Nav

TRUE

Left Sidebar

False

تازہ ترین

latest

کہانی- جلدبازی میں رد عمل

عربی سے اردو ترجمانی  ابو ولی اللہ حنفی  ایک معلمہ کہتی ہیں : میں نے طالبات کی ایک ٹیم کو سال کے آخر میں ایک پروگرام میں ...


عربی سے اردو ترجمانی


 ابو ولی اللہ حنفی 

ایک معلمہ کہتی ہیں : میں نے طالبات کی ایک ٹیم کو سال کے آخر میں ایک پروگرام میں ان کی ماؤں کے سامنے ایک نظم پیش کرنے کے لیے ٹرینڈ کیا.  تیاری اور ریہرسل کے مختلف مراحل کے بعد بالآخر پروگرام کا دن آ گیا. نظم شروع ہوئی. مگر ان کی اس خوبصورت کارکردگی پر اس وقت پانی پھر گیا جب ایک بچی جو اپنی سہیلیوں کے ساتھ نظم پڑھ رہی تھی اچانک اپنے ہاتھ، جسم اور انگلیوں کو حرکت دینے لگی اور اپنا منھ کسی کارٹون کے کیریکٹر کی طرح بنانے لگی. اس کی ان عجیب وغریب حرکتوں کی وجہ سے دوسری تمام بچیاں پریشان ہو گئیں.

معلمہ کہتی ہیں : میرا جی چاہا کہ میں جا کر اس بچی کو ڈانٹ پلاؤں اور اسے تنبیہ کروں کہ وہ ڈسپلن اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرے. مجھے اس پر اتنا غصہ آیا کہ قریب تھا کہ میں اسے سختی کے ساتھ ان بچیوں سے کھینچ کر الگ کر دوں. لیکن جوں جوں میں اس کے قریب جاتی وہ پارے کی طرح چھٹک کر مجھ سے دور ہو جاتی. اس کی یہ حرکتیں بڑھتی گئیں اور وہ سارے لوگوں کی نظر کا مرکز بن گئی. وہاں موجود تمام خواتین اس کی ان حرکتوں پر زور زور سے ہنس رہی تھیں.

میری نظر پرنسپل پر پڑی جن کی پیشانی مارے شرمندگی کے پسینے سے شرابور تھی. وہ اپنی سیٹ سے اٹھیں اور مجھ سے کہنے لگیں :اس بدتمیز اور بیہودہ لڑکی کو اسکول سے نکالنا ضروری ہے. میں نے بھی ان کی اس بات کی تائید کی.

لیکن ایک چیز نے ہم سب کی نظروں کو متوجہ کیا کہ اس پورے وقفے میں اس بچی کی ماں کھڑی ہو کر اپنی بچی کی ان حرکتوں پر تالی بجاتی رہی، گویا وہ اس کی حوصلہ افزائی کر رہی تھی کہ وہ اپنا یہ فضول کام جاری رکھے.

جیسے ہی نظم ختم ہو گئی میں جلدی سے اسٹیج کی طرف بڑھی اور اس لڑکی کو زور سے پکڑ کر کھینچا اور بولی: تم نے اپنی سہیلیوں کے ساتھ نظم پڑھنے کے بجائے یہ اول جلول حرکتیں کیوں کی؟ 

وہ بولی : اس لیے کہ پروگرام میں میری ماں بھی موجود تھی. مجھے اس کے اس کے اس ڈھٹائی بھرے جواب پر بڑی حیرت ہوئی. لیکن مجھے اس وقت بڑا دھچکا لگا جب اس نے آگے یہ کہا: میری ماں بول اور سن نہیں سکتی، میں نے گونگے لوگوں کی زبان میں اس نظم کا ترجمہ اپنی ماں کے لیے پیش کیا تاکہ دیگر تمام بچیوں کی ماؤں کی طرح میری ماں بھی اپنی بیٹی کی کارکردگی پر خوشی کا اظہار کر سکے. 

جیسے ہی اس نے یہ وضاحت کی وہ دوڑ کر اپنی ماں کی طرف بڑھی اور اس کے گلے لگ کر زار و قطار رونے لگی. جب وہاں موجود سارے لوگوں کو حقیقت معلوم ہوئی تو سارا ہال سسکیوں سے گونجنے لگا. 

واقعے کا سب سے خوبصورت پہلو یہ ہے کہ پرنسپل نے اس لڑکی کو اسکول سے نکالنے کے بجائے اسے انعام سے نوازا اور اسے "مثالی طالبہ" کا خطاب دیا.

 وہ لڑکی جب وہاں سے نکلی تو سر اٹھا کر خوشی سے اچھلتے ہوئے جا رہی تھی. 

بعض مواقع پر جلدبازی میں رد عمل ظاہر مت کیجیے، دوسروں پر حکم لگانے میں جلدی سے کام مت لیجیے 

#محض بدگمانی کی بنیاد پر ہم ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہیں، ملنا جلنا کم کرتے ہیں، رشتے ختم کر لیتے ہیں. 

اللہ سے لوگوں کے ساتھ حسنِ ظن کی توفیق مانگیے کہ اسی میں دلوں کا سکون اور سینوں کی سلامتی ہے
🌹🌹🌹🌹