Page Nav

TRUE

Left Sidebar

False

تازہ ترین

latest

اس سے پہلے کہ دیر ھو جائے - بچوں سے متعلق کچھ ضروری ہدایتں

بقلم ابو مطیع اللہ حنفی اس سے پہلے کہ دیر ھو جائے۔۔۔۔۔۔! بچوں کے ساتھ نامناسب جنسی سلوک کرنے والے عموماً قریبی رشتہ دار یا ملازمی...




بقلم ابو مطیع اللہ حنفی

اس سے پہلے کہ دیر ھو جائے۔۔۔۔۔۔! بچوں کے ساتھ نامناسب جنسی سلوک کرنے والے عموماً قریبی رشتہ دار یا ملازمین ہی ہوتے ہیں جن کا گھر میں آنا جانا ہوتا ہے، اور والدین ان پر اندھا اعتماد کرتے ہیں یا حال ہی میں بالغ ہوئے کزنز بھی ہوسکتے ہیں جن کے بارے میں سب گمان کرتے ہیں کہ ابھی تو یہ بچہ ہے ، یا یہ تو بڑا ملنگ ٹائپ ہے، بالکل اللہ لوک ہے جی، تو ایسا سمجھنے والوں کو اپنے بچوں کے ساتھ کچھ بھی غلط ہونے کا ذہن بنا کے رکھنا چاہیے،
بچہ آپ کا ہے حفاظت بھی آپ کو خود ہی کرنا ہوگی،
کچھ حفاظتی اقدامات بتانا چاہوں گا دل کرے تو عمل کرلیں ۔۔۔

1 - بچوں کو بتائیں کہ اگر کوئی بھی ان کے **** مقام پر ہاتھ لگائے تو فوراً چیخیں، زور سے مامااااااااااااا یا پاپاااااااااا کہیں، اگر آپ بتانے سے شرمائیں گے تو کوئی اور عملی طور پر ان کو بتادے گا جس کا نقصان بچے کو دیر تک جھیلنا ہوگا ۔
اس سلسلے میں عامر خان کی بھی ایک ویڈیو دیکھی تھی جس میں وہ بچوں کو مناسب الفاظ میں سمجھا رہا تھا ، یہ وقت کی ضرورت ہے۔

2 - مائیں اپنے بچوں کے Male کزنز یا پڑوسی لڑکوں پر جو 12 سال کے ہوجائیں، کڑی نظر رکھیں، ان کو اپنے چھوٹے بچوں سے تنہائی میں ہرگز نہ ملنے دیں، 12 سال بھی زیادہ بتا رھا ھُوں ورنہ آج کل کے ماحول اور خوراک نے بچوں میں وقت سے بہت پہلے ہیجان پیدا کردیا ہے، (اگر آپ کا بیٹا خوبصورت ہے تب بھی یہی احتیاط کریں ، بعض مائیں لڑکیوں کے حوالے سے تو فکر مند ہوتی ہیں لیکن بیٹوں کی احتیاط نہیں کرتیں ، انکو بھی نشانہ بنایا جاسکتا ہے اور فاعل مذکر بھی ہوسکتا ہے اور مؤنث بھی ،،، سو، بی کئیر فل ۔۔۔

3- ماں باپ خود بھی بچوں کے سامنے بے تکلفی کا مظاہرہ نہ کریں،
کچھ دن پہلے ہی میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا (اورپھر ایک لڑکے نے ان کی ویڈیو بھی بنائی) کہ ایک 6 سال کی بچی اور 5 سال کا بچہ تین پہیوں والی سائیکل چلاتے چلاتے ہماری گلی میں آگئے، اور لڑکی ادھر ادھر مشکوک انداز میں دیکھتی اور پھر لڑکے کی شرم گاہ والی جگہ پر ہاتھ لگاتی، یقینی بات ہے کہ یا تو اس کے ساتھ بھی کسی نے ایسا کیا ہوگا یا اس نے ایسا کوئی منظر دیکھا ہوگا، اور وہ صرف تجسس کے مارے ایسا کررہی تھی، فیلنگز کے بغیر ۔۔۔۔

4- اپنے 5 سال سے بڑی عمر کے بچوں کو مکمل اور ڈھیلا ڈھالا لباس پہنائیں، میں اکثر خواتین پر حیران ہوں کہ خود پردے کا خوب اہتمام کریں گی لیکن اپنی 10 سال کی بیٹی کو بھی چست اور نامکمل لباس پہنائیں گی، اب ان کی کیا لاجک ہوگی مجھے نہی معلوم، میں مردوں کی سوچ بتادوں کہ
بہت بار میں نے اوباش ٹائپ لڑکوں سے سنا ہے "بس عورت ذات ہو اور نبض چلتی ہو باقی خیر ہے"
اگر لڑکی معمولی شکل کی بھی ہو لیکن لباس چست اور نامکمل پہنے گی تو مرد کو بہت زیادہ کشش ہوگی، چاہے عمر جتنی بھی ہو، لہذا اس بارے میں کوئی غلط فہمی نہ پالیں کہ ابھی تو چھوٹی سی ہے ، یہ چھوٹی آپ کی نظر میں ہے ، گیٹ سے باہر والوں کے لیے صرف لڑکی ہے ، تھوڑا شک کرنے کی عادت ڈال ہی لیں۔

5- بزرگوں پر بھی زیادہ اعتبار نہ کریں، خاص طور پر جو تازہ تازہ بزرگ ہوئے ہوں (نانا دادا کے علاوہ کی بات کررہا ہوں) بعض لوگوں کے 45 سال کے بعد ہی بال سفید ہونا شروع ہوجاتے ہیں لیکن جذباتی طور پر وہ جوان ہی ہوتے ہیں۔ اور سر پر یا کمر پر شفقت کا بہانہ کر کے ہاتھ پھیرتے ہیں لیکن ان کے دل میں پاکیزگی نہیں ہوتی ، لہذا ہر آتے جاتے انکل کو فری ہونے نہ دیں ، اس کی بھی بہت سی مثالیں میرے سامنے ہیں , ہمارے ہی شہر میں ایک مکمل سفید ریش شخص نے اپنے سفید بالوں کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور ایک بیوہ خاتون جس کی بیٹیاں ہی بیٹیاں تھی، کے گھر ہمدردی کے طور پر جانا شروع کیا، باقی رشتہ دار اس کو بزرگ ہی سمجھ کر خاموش رہے، بم تب پھٹا جب اس خاتون کی بیٹی حاملہ ہوگئی جو عمر میں اس بزرگ کی پوتی جتنی تھی،
(سب کی بات نہیں کررہا لیکن احتیاط اچھی چیز ہوتی ہے)

6- بچیوں کے لیے ٹیوٹر کوئی Female ہی لگائیں،
اگر مرد ہو تو خود ساتھ بیٹھیں، اور پڑھنے والے بچے بھی ایک سے زائد ہوں، کبھی بھی کسی بچے کو تنہا نہ رہنے دیں،

7- اپنے بچوں کو ہاسٹل میں بھیجنے سے حتی الوسع پرہیز کریں۔

8- جلد شادی کے عمل کو فروغ دیں کیونکہ %80 ایسے جرائم  میں کنوارے لوگ ہی ملوث ہوتے ہیں۔

منقول۔۔۔۔۔۔ ابو مطیع اللہ حنفی