عورت جب شوہر کو طنزیہ کہتی ہے کہ آپ کو تو بس ایک ہی کام کی محبت ہے تو حقیقت میں اسی شاخ کو کاٹ رہی ہوتی ہے جس پہ اس کا آشیانہ ہوتا ہے ـ...
عورت جب شوہر کو طنزیہ کہتی ہے کہ آپ کو تو بس ایک ہی کام کی محبت ہے تو حقیقت میں اسی شاخ کو کاٹ رہی ہوتی ہے جس پہ اس کا آشیانہ ہوتا ہے ـ یہی ایک محبت ہے جو یہی محبت میاں بیوی کے درمیان پل کی حیثیت رکھتی ہے ، یہ کوئی عیب نہیں کہ جس کا طعنہ دیا جائے ـ سنجیدگی سے غور کیا جائے تو اس رشتے کے علاوہ عورت سے مرد کا تعلق کیا ہے ؟ یہی وہ عمل ہے جس سے وہ مودت اور رحمت Generate ہوتی ھے جس کا حوالہ اللہ پاک نے قرآن میں دیا ہے[ وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ (الروم ـ 21)[ اور اللہ کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تمہاری جنس سے تمہاری بیویاں بنائیں تا کہ تم ان سے سکون پاؤ اور رکھی تمہارے درمیان مودت اور رحمت ، اس میں بڑی نشانیاں ہیں غور و فکر کرنے والے لوگوں کے لئے ]
اسی جنسی تعلق کی مودت اور رحمت کی قوت سے انسان خم ٹھونک کر ہر رشتے کے سامنے کھڑا ہو جاتا ھے جو عورت جنسی طور پر شوہر کو دور کر دیتی ہے، وہ دراصل ہاتھ میں آیا ھوا الہ دین کا چراغ گم کر دیتی ہے ـ جو بیوی مرد کو اپنے نشے کا عادی رکھتی ہے وہ بیٹوں اور آنے والی بہو پر بھی اپنی کمانڈ برقرار رکھتی ہے ـ باقی ساری باتیں Fantasy کے سوا کچھ نہیں ـ
اس کو رسول اللہ ﷺ نے ایک ہی جملے میں ادا فرما دیا ،، جب شوہر اس کو دیکھے تو وہ اس کو خوش کر دے ـ
