Page Nav

TRUE

Left Sidebar

False

تازہ ترین

latest

کیا آپ اپنے بچوں کا احترام کرتے ہیں؟

​ کیا آپ اپنے بچوں کا احترام کرتے ہیں؟ ڈاکٹر خالد سہیل ایک محفل میں میری ملاقات مشرقی والدین سے ہوئی جن کو اپنے بچوں سے یہ شکایت ت...


کیا آپ اپنے بچوں کا احترام کرتے ہیں؟
ڈاکٹر خالد سہیل

ایک محفل میں میری ملاقات مشرقی والدین سے ہوئی جن کو اپنے بچوں سے یہ شکایت تھی کہ وہ بے ادب اور گستاخ ہو گئے ہیں۔

میں نے پوچھا ’کیا آپ اپنے بچوں کا احترام کرتے ہیں؟‘

کہنے لگے ’ہم ان سے پیار کرتے ہیں اور ان کا خیال رکھتے ہیں۔ ‘

میں نے پھر پوچھا ’کیا آپ ان کی رائے کا احترام کرتے ہیں؟‘

کہنے لگے ’ بچوں سے محبت کی جاتی ہے اور بزرگوں کا احترام کیا جاتا ہے۔ ‘

یہ وہ مکالمہ ہے جو میں اپنی زندگی میں بیسیوں مشرقی والدین سے کر چکا ہوں۔

میں ایسے والدین کو اپنی زندگی کے چند واقعات سناتا ہوں۔ آئیں ان میں سے دو آپ کی خدمت میں پیش کروں۔

پہلا واقعہ میری نانی اماں کے حوالے سے ہے۔ جب میں بچہ تھا تو گرمیوں کی چھٹیوں میں پشاور سے لاہور اپنی نانی اماں سے ملنے جایا کرتا تھا۔ وہ 4 مزنگ روڈ پر رہتی تھیں۔ مجھے اپنی نانی اماں سے بہت پیار تھا۔ میں ان کی بہت عزت کرتا تھا۔ اب جبکہ میں ایک ماہرِ نفسیات بن گیا ہوں میں اپنے آپ سے پوچھتا ہوں کہ آخر میری نانی اماں میں وہ ایسی کیا خاص بات تھی کہ میں ان کی سب رشتہ داروں سے زیادہ عزت کرتا تھا۔ اب مجھے وہ راز پتا چل گیا ہے۔ وہ میرے بارے میں کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے مجھ سے میری رائے پوچھتی تھیں۔

’سہیل بیٹا آپ اورنج جوس پئیں گے یا دودھ ؟‘

’نانی اماں دودھ پیوں گا ‘۔

’سہیل بیٹا ٹھنڈا دودھ پئیں گے یا گرم ؟‘

’ٹھنڈا نانی اماں برف ڈال کر۔ ‘

باقی رشتہ دار مجھے بچہ سمجھ کر میری روزمرہ زندگی کے بارے میں خود ہی فیصلے کرتے تھے لیکن میری نانی اماں مجھے little person سمجھتی تھیں اور میری رائے کو اہمیت دیتی تھیں۔

دوسرا واقعہ میرے والد صاحب کا ہے۔ جب میں دس سال کا تھا تو میری چھوٹی بہن عنبر پانچ سال کی تھیں۔ ایک دن کھیلتے کھیلتے انہیں مجھ سے دھکا لگا۔ وہ گر گئیں اور انہیں چوٹ آئی۔ شام کو جب ہم سب کھانا کھا رہے تھے تو عنبر نے والد صاحب سے میری شکایت کی

’ابو جان سہیل بھائی نے مجھے دھکا دیا تھا اور مجھے چوٹ آئی ہے۔ ‘

والد صاحب نے کہا ’سہیل بیٹا آپ اپنی چھوٹی بہن سے معافی مانگیں۔ ‘

زندگی میں پہلی بار میری انا آڑے آئی۔ چھوٹی بہن سے معافی مانگنا میری مردانگی کے خلاف تھا۔ میں خاموش رہا۔ چند ہی لمحوں میں میرا سراپا پسینے سے شرابور ہو گیا۔

والد صاحب نے کہا ’ہم سب اس وقت تک کھانا نہیں کھائیں گے جب تک سہیل عنبر سے معافی نہیں مانگے گا۔ ‘

میں نے آخر کار اپنا تھوک نگلا اور نیچی نطر سے کہا ’عنبر مجھے معاف کر دیں‘

میں سمجھا طوفان گزر چکا تھا لیکن ایسا نہ تھا

والد صاحب نے عنبر سے پوچھا ’ کیا آپ نے سہیل بھائی کو معاف کر دیا ہے؟‘۔

جب عنبر نے کہا ’جی معاف کر دیا ہے‘ تب ہم نے دوبارہ کھانا کھنا شروع کیا۔

یہ واقعہ چند لمحوں کا تھا لیکن اس کے اثرات دیرپا تھے۔ اس واقعہ سے میں نے نہ صرف عنبر کا بلکہ تمام عورتوں کا احترام کرنا سیکھا۔

ایک دفعہ میرے والد صاحب سے غلطی ہوئی اور انہوں نے خود مجھ سے معافی مانگی۔ اس واقعہ سے میرے دل میں ان کا احترام اور بھی بڑھ گیا۔

جب آپ بچوں کا احترام کرتے ہیں تو پھر وہ نہ صرف آپ کا بلکہ محبت کرنے والی اتھارٹی کا احترام کرنا سیکھتے ہیں۔ پھر وہ سکول میں اساتذہ کا، کالج میں پروفیسروں کا اور زندگی میں قانون کا احترام کرتے ہیں۔

والدین اور اساتذہ بچوں کی دو طرح سے تربیت کر سکتے ہیں۔ محبت پیار اور احترام سے یا غصہ رعب اور خوف سے۔ جو بچے والدین سے خوفزدہ رہتے ہیں وہ بڑے ہو کر نفسیاتی مسائل کا شکار ہوتے ہیں اور ڈاکٹر یا ماہرِ نفسیات سے بھی ملتے ڈرتے ہیں کیونکہ وہ اپنے والدین کی طرح ان سے بھی خوفزدہ رہتے ہیں۔

میرے والد کہا کرتے تھے کہ اختلاف الرائے اور دشمنی میں بہت فرق ہے۔ اختلاف الرائے دوستی اور مکالمے کے لیے مثبت اور دشمنی منفی رویہ ہے۔ میرے شاعر چچا عارف عبدالمتین بھی کہا کرتے تھے کہ صاحب الرائے لوگ بہت سوچ سمجھ کر اپنی رائے قائم کرتے ہیں اس لیے ہمیں ان کی رائے کا احترام کرنا چاہیے۔

میں نے اپنی زندگی کے تجربے‘ مشاہدے ‘مطالعے اور تجزیے سے یہ سیکھا ہے کہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ دوسرے لوگ ہماری رائے کا احترام کریں تو ہمیں دوسرے لوگوں کی رائے کا بھی احترام کرنا سیکھنا چاہیے۔

اگر ہم اہنے بچوں کا احترام کریں گے ‘انہیں چھوٹا انسان سمجھیں گے تو وہ بڑے ہو کر دوسروں کا احترام کرنا سیکھیں گے۔ وہ مکالمہ کرنا سیکھیں گے جو جمہوریت کے لیے بہت اہم ہے۔
ارسطو کہا کرتے تھے کہ انسانوں کے درمیان دو طرح کے رشتے ہوتے ہیں۔ ایک رشتہ آقا اور غلام کا ہے جو آمریت میں پایا جاتا ہے اور دوسرا رشتہ دوستی کا ہے جو آزاد منش لوگوں اور جمہوریت میں پایا جاتا ہے۔ ارسطو کا مشورہ تھا کہ ہمیں اپنے بچوں کو گھروں اور سکولوں میں یہ سکھانا چاہیے کہ ہم چاہے کسی رنگ ‘نسل ‘مذہب یا زبان سے تعلق رکھتے ہوں ہم سب انسان ہونے کے سبب برابر ہیں اور ایک دوسرے کے دوست بن سکتے ہیں۔ ایسے بچے بڑے ہو کر جمہوری نظام قائم کر سکتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں وہ بچے جو یہ سمجھتے ہیں کہ بعض لوگ رنگ ‘نسل ‘ مذہب‘ زبان‘دولت شہرت یا وراثت کی وجہ سے دوسروں سے بہتر ہیں وہ بڑے ہو کر آمریت کا نظام قائم کرتے ہیں کیونکہ ان کے ذہن میں آقا اور غلام کا رشتہ دوستی کے رشتے سے زیادہ محترم اور مقدس ہوتا ہے۔

ہم سب جانتے ہیں کہ ایک جمہوری معاشرے میں سب شہریوں کو‘ خاص طور پر عورتوں اور اقلیتوں کو ‘برابر کے حقوق حاصل ہوتے ہیں۔ قانون کی نگاہ میں سب شہری برابر ہوتے ہیں اور سب شہریوں کے انسانی حقوق کا احترام کیا جاتا ہے۔ ایسے نظام میں قوم کے لیڈر قوم کی خدمت کرنا نہ کہ ان پر حکمرانی کرنا چاہتے ہیں۔ یہ نظام ایسے لوگ قائم کر سکتے ہیں جو بچپن سے والدین کا احترام سیکھتے ہیں کیونکہ والدین ان کی رائے کا احترام کرتے ہیں اور ان پر اپنی علمیت اور شخصیت کا رعب جمانے کی بجائے زندگی کے مسائل پر ان سے مکالمہ کرتے ہیں۔ ایسے بچے گھروں اور سکولوں میں انسان دوستی کا فلسفہِ حیات سیکھتے ہیں۔

میری نگاہ میں دوستی اور مکالمے کا فن سیکھنا
​​
جمہوری نظام قائم کرنے کے لیے بہت ضروری ہے۔ میں نے ایک یونانی خاتون سے پوچھا کہ جمہوریت کی‘ جو یونان میں پیدا ہوئی تھی‘ ایک جملے میں کیا تعریف ہو سکتی ہے۔ کہنے لگیں جہاں DIALOGUE ہوتا ہے وہاں جمہوریت پائی جاتی جب ڈائیلاگ MONOLOGUE بن جاتا ہے تو وہ SERMON کا روپ ڈھال لیتا ہے۔ ڈائلگ اور مونولاگ کا فرق جمہوریت اور آمریت کا ایک کلیدی فرق ہے وہ آمریت مذہبی بھی ہو سکتی ہے سیاسی بھی عسکری بھی اور سماجی بھی۔

ہمیں یہ سچ جلد یا بدیر قبول کرنا ہوگا کہ ہمارے بچے ہمارے مستقبل کے لیڈر ہیں۔ اور ہمیں ان کا احترام کرنا سیکھنا ہے۔