Page Nav

TRUE

Left Sidebar

False

تازہ ترین

latest

Taqva

۔         _________محبت کے مستحق __________            حضرت معاذ سواری پر ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ان کے ساتھ ساتھ پیدل چل رہ...

۔         _________محبت کے مستحق __________
    
      حضرت معاذ سواری پر ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ان کے ساتھ ساتھ پیدل چل رہے ہیں _ حضرت معاذ بے قرار ہوکر عرض کرتے ہیں :
"اے اللہ کے رسول! میں اتر جاؤں؟" مگر آپ ص فرماتے ہیں : " نہیں، بیٹھے رہو _" آپ ص برابر انھیں مختلف ہدایات دے رہے ہیں _جب فارغ ہوئے تو کچھ دیر خاموش رہے ، پھر فرمایا : " اے معاذ ! شاید اگلے سال تم سے ملاقات نہ ہو _ تم واپس آؤ تو تمھارا گزر میری مسجد اور میری قبر کے درمیان سے ہو _"
یہ سننا تھا کہ حضرت معاذ دہاڑیں مار مار کر رونے لگے _  اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنا چہرہ مبارک ان کی طرف سے پھیرا  اور مدینہ کی طرف کرکے فرمایا :
         " إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِي الْمُتَّقُونَ، مَنْ كَانُوا وَحَيْثُ كَانُوا ".
(مسند أحمد :22052 )
  
    " مجھ کو سب سے زیادہ محبوب وہ لوگ ہیں جو تقوی کی روش پر گام زن ہوں _ وہ چاہے جو ہوں اور چاہے جہاں کے ہوں _"
     
      اس حدیث میں بہت صاف اور دو ٹوک الفاظ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی محبت اور قربت  حاصل کرنے کا طریقہ بتایا ہے _
       تقوی کیا ہے ؟ تقوی کسی ظاہری ہیئت کا نام نہیں ، بلکہ دل کی کیفیت کا نام ہے _تقوی یہ ہے کہ انسان ہر وقت اللہ اور اس کے رسول کی رضا کو اپنے پیش نظر رکھے _ وہ کام انجام دینے کی کوشش کرے جن کا انھوں نے حکم دیا ہے _ ان کی ناراضی اور غضب سے بچے اور ان کاموں کے ارتکاب سے حتی الامکان خود کو بچائے جن سے انھوں نے روکا ہے _
        اس حدیث میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس فضیلت کو کوئی بھی انسان حاصل کرسکتا ہے _  وہ کسی بھی سماجی حیثیت کا مالک ہو ، کسی بھی خطے اور علاقے کا رہنے والا ہو ، کسی رنگ و نسل کا ہو -
وہ اپنے اندر تقوی کی صفت پیدا کرلے ، اسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و کی قربت اور محبت حاصل ہو جائے گی اور جسے اللہ کے رسول کی محبت حاصل ہوجائے اسے اللہ تعالی بھی اپنا محبوب بنالے گا __!!