Page Nav

TRUE

Left Sidebar

False

تازہ ترین

latest

​عذر

​​ عذر ۔۔۔۔۔ "آپ نے میری کال پِک نہیں کی،دودفعہ ملایا تھا۔" "جی،معذرت چاہتا ہوں میں ڈرائیونگ کررہا تھا۔" ۔ ۔ ...

​​
عذر
۔۔۔۔۔
"آپ نے میری کال پِک نہیں کی،دودفعہ ملایا تھا۔"
"جی،معذرت چاہتا ہوں میں ڈرائیونگ کررہا تھا۔"
۔
۔
ہونہہ،ڈرائیونگ کررہا تھا،صرف بات نہ کرنے کے بہانے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"آپ کل بیان میں نہیں آئے۔"
"اصل میں میرے بیٹے کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی،ڈاکٹر کے پاس لے جانا پڑ گیا۔"
۔
۔
صرف نہ جانے کے بہانے ہیں،دین کی محفلوں سے اس کی ہمیشہ ہی جان جاتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"آپ سے کل ملاقات ہوسکتی ہے؟"
"اوہو،کل تو میں نے بہن کے گھر جانا ہے،پہلے سے پروگرام طے ہے،آپ پرسوں آجائیں۔"
"نہیں بھائی،پرسوں میری مصروفیت ہے۔"
۔
۔
بہن کے گھر؟؟؟صرف ملاقات نہ کرنے کے بہانے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ سب اور اس طرح کے اور دیگررویے ہمارے معاشرے کا عام چلن ہیں۔نبی کریم ﷺ کا طریقہ یہ تھا کہ وہ دوسرے کا عذر فوراً قبول کرلیتے تھے۔اور ہم نہ صرف عذر کو جھوٹ خیال کرتے ہیں بلکہ یہ عذر قبول نہ کرنا ہم پر بدگمانی،غیبت،چغلی اور بغض کے راستے بھی کھول دیتا ہے۔یعنی بظاہر ایک بے ضرر عمل چار کبیرہ گناہوں کا راستہ کھول دیتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بات اس طرح بھی کی جاسکتی ہے:
جی جی،ڈرائیونگ میں موبائل استعمال نہیں کرنا چاہئے،حادثہ کا خطرہ رہتا ہے۔
اللہ آپ کے بچے کو صحت دے،اب بچے کی طبیعت کیسی ہے؟
آپ خیریت سے بہن کے گھر جائیں،ان شاء اللہ پھر ملاقات ہوجائے گی۔
کیا خرچ ہوا؟چند الفاظ۔۔۔۔لیکن آپ کئی کبیرہ گناہوں سے بچ گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو عذر بیان کرنے پر باقاعدہ تحقیقات شروع کردیتے ہیں اور مستقل سوا ل جواب کرکے اگلے کو کٹہرے میں مجرم بناکر کھڑاکردیتے ہیں۔یعنی اس تحقیق میں چار کبیرہ گناہوں کے ساتھ ساتھ طنز،ہتک بھی شامل ہوجاتی ہے۔
عذر فوراً تسلیم کرنے کی عادت بنائیں اور پھر مختصر جملے کے بعد کوئی اور بات شروع کردیں۔
اپنے رشتوں کو مضبوط بنانا سیکھیں،مسکراہٹ صرف چہرے پر نہ ہو بلکہ دل بھی خوشی محسوس کرتا ہو۔
محض یہ بے ضرر سا رویہ رشتوں میں دراڑیں ڈال دیتا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ انھیں کمزور کرتا جاتا ہے۔
آج سے عہد کریں کہ عذر فورا تسلیم کرکے رشتوں کو مضبوط بنا نا سیکھیں گے۔ ان شاء اللہ۔