Page Nav

TRUE

Left Sidebar

False

تازہ ترین

latest

اصل خرابی ہم میں ہے

دکان دار ایک ماچس کی ڈبی سے آدھی تیلیاں نکال کر پیسے پوری ماچس کے لےگا اور ساتھ ہی دوستو سے تبصرہ کرے گا یہ "حکومت بڑی کرپٹ ہے"...




دکان دار ایک ماچس کی ڈبی سے آدھی تیلیاں نکال کر پیسے پوری ماچس کے لےگا اور ساتھ ہی دوستو سے تبصرہ کرے گا یہ "حکومت بڑی کرپٹ ہے"


کل تک سائیکل پر گھومنے والا ٹی وی اینکر کسی سے نوٹوں کی بوریاں لے کر سارا دن حکومت کو گالیاں دے گا۔۔،


موٹے پیٹ والا سیٹھ ایک روپہ ٹیکس نہیں دے گا اور دوسروں سے کہے گا "اس پارٹی سے ملک نہیں چل رہا" کاروبار ڈاؤن ہے۔۔،

سبزی وال پیسے پورا لے گا اور سڑی ہوئی سبزی دے گا۔۔ کم تولے گا لیکن کہے گا حکومت کرپٹ ہے۔

قصائی پیسے پورا لے گا ہڈیاں تول کے دے گا۔۔ لیکن کرپٹ حکومت ہے۔ اب تو یہ بھی نہیں معلوم ہوتا کہ گوشت حلال جانور کا ہے یا کتے ، گدھے سور وغیرہ کا۔۔
دودھ والا ، پانی کی بالٹی دودھ میں انڈھیلتے ہوےُ یہی رونا روےُ گا، پا جی حکومت کرپٹ ہے،،
سرکاری ڈرائیور سرکار کی گاڑی سے ڈیزل چراےُ گا لیکن گھر جاتے ہوےُ دوستوں سے کہے گا حکومت کرپٹ ہے۔
سکول کا ہیڈ ماسٹر سکول کے عمارت اور فرنیچر کا فنڈ اپنے گھر لے جاےُ گا لیکن ٹاٹ پر بیٹھے بچوں کے سامنے وہ بھی کہے گا حکومت کرپٹ ہے۔

کیا ڈاکٹر، کیا انجینئر اور کیا سرکاری ملازمین اور افسران۔۔۔ سب اپنے ضمیر کو حاضر ناظر جان کے سوچے کہ وہ کیا کرتے ہیں؟

جبکہ پورے معاشرے کا مائنڈ سیٹ ہی یہی ہے. سرکاری ملازم کا رشتہ جائے تو لڑکی والے یقینی بناتے ہیں کہ یہ اوپر سے پیسے بناتا ہے نا.۔۔۔۔
اصل خرابی ہم میں ہے جب ہم اپنی خرابی صحیح کر لیں گے سب صحیح ہو جائے گا