Page Nav

TRUE

Left Sidebar

False

تازہ ترین

latest

بڑھاپے کی وجہ سے نماز بھول جانے والے شخص کی نماز کا حکم

بڑھاپے کی وجہ سے نماز بھول جانے والے شخص کی نماز کا حکم سوال: ایک صاحب جن کی عمر 85 سال ہے، ابھی تک نماز کے پابند تھے، جب سے...






بڑھاپے کی وجہ سے نماز بھول جانے والے شخص کی نماز کا حکم

سوال:
ایک صاحب جن کی عمر 85 سال ہے، ابھی تک نماز کے پابند تھے، جب سے آپریشن ہوا حافظہ میں فرق ہوگیا ہے، کچھ یاد نہیں رہتا ہے، ابھی ان کو نماز بھول گئی ہے دوبارہ یاد بھی نہیں کرسکتے، کوئی کوئی لفظ یاد ہے, نابینا بھی ہیں، دیکھ کر پڑھ بھی نہیں سکتے، ان کے لیے نماز کا کیا حکم ہے؟

جواب:
صورتِ مسئولہ میں مذکورہ شخص جس کو  زیادہ بڑھاپے کی وجہ سے نماز بھول گئی ہے اگر اس کی عقل وشعور کام نہیں کرتا، اور نماز پڑھنے کی صورت میں رکعتوں کی گنتی وغیرہ یاد نہیں رہتی تو  اس پر وقت کی نماز ادا کرنا فرض نہیں ہے، بلکہ صحت کے بعد ان نمازوں کی قضا پڑھ لے، ہاں اگر کوئی شخص ایسا موجود ہے جو ان کے قریب کھڑے ہوکر اشارہ سے ان کو بتاتا رہے اور وہ اس سے نماز پڑھ لے یا کوئی بتانے والا نہ ملے تو اپنی غالب رائے پر عمل کرکے نماز پڑھ سکتا ہے تو نماز ہوجائے گی، بعد میں قضا پڑھنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ 

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 100):
"(ولو اشتبه على مريض أعداد الركعات والسجدات لنعاس يلحقه لايلزمه الأداء) ولو أداها بتلقين غيره ينبغي أن يجزيه كذا في القنية (ولم يومئ بعينه وقلبه وحاجبه) خلافاً لزفر، (قوله: ولو اشتبه على مريض إلخ) أي بأن وصل إلى حال لايمكنه ضبط ذلك، وليس المراد مجرد الشك والاشتباه لأن ذلك يحصل للصحيح (قوله: ينبغي أن يجزيه) قد يقال إنه تعليم وتعلم وهو مفسد كما إذا قرأ من المصحف أو علمه إنسان القراءة وهو في الصلاة ط.
قلت: وقد يقال إنه ليس بتعليم وتعلم بل هو تذكير أو إعلام فهو كإعلام المبلغ بانتقالات الإمام، فتأمل".
فقط واللہ اعلم
مفتی ڈاکٹر سلمان صاحب لاہور