تازہ ترین

no image
سورہ النحل آیت نمبر 18
وَ اِنۡ تَعُدُّوۡا نِعۡمَۃَ اللّٰہِ لَا تُحۡصُوۡہَا ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَغَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۸﴾
 
ترجمہ: اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننے لگو، تو انہیں شمار نہیں کرسکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔ (١١)
 
تفسیر: 11: یعنی اللہ تعالیٰ کی نعمتیں جب اتنی زیادہ ہیں کہ شمار میں نہیں آسکتیں تو ان کا حق تو یہ تھا کہ انسان ہر آن اللہ تعالیٰ کا شکر ہی ادا کرتا رہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ یہ انسان کے بس میں نہیں ہے۔ اس لیے وہ اپنی مغفرت اور رحمت کا معاملہ فرما کر شکر کی اس کوتاہی کو معاف فرماتا رہتا ہے۔ البتہ یہ مطالبہ ضرور ہے کہ وہ اس کے احکام کے مطابق زندگی گذارے اور ظاہر و باطن ہر اعتبار سے اللہ تعالیٰ کا فرماں بردار رہے۔ اس کے لیے اسے یہ حقیقت پیش نظر رکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ہر کام کو جانتا ہے۔ چاہے وہ چھپ کر کرے یا علانیہ۔ چنانچہ اگلی آیت میں یہی حقیقت بیان فرمائی گئی ہے۔
آسان ترجمۂ قرآن مفتی محمد تقی عثمانی
no image
سورہ النحل آیت نمبر 23
 
لَاجَرَمَ اَنَّ اللّٰہَ یَعۡلَمُ مَا یُسِرُّوۡنَ وَ مَا یُعۡلِنُوۡنَ ؕ اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الۡمُسۡتَکۡبِرِیۡنَ ﴿۲۳﴾
 
ترجمہ: ظاہر بات ہے کہ اللہ وہ باتیں بھی جانتا ہے جو وہ چھپ کر کرتے ہیں، اور وہ بھی جو وہ علی الاعلان کرتے ہیں۔ وہ یقینا گھمنڈ کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (١٣)
 
تفسیر: 13: چونکہ وہ گھمنڈ کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا اس لیے انہیں سزا بھی ضرور دے گا، اور اس کے لیے آخرت کا وجود ضروری ہے لہذا اس کے انکار کی کوئی وجہ نہیں۔ آسان ترجمۂ قرآن مفتی محمد تقی عثمانی
 
 
 
آفاق و اَنفس اور جدید سائنس
از محمد عمران خان
 
سَنُرِیۡہِمۡ اٰیٰتِنَا فِی الۡاٰفَاقِ وَ فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَہُمۡ اَنَّہُ الۡحَقُّ ؕ اَوَ لَمۡ یَکۡفِ بِرَبِّکَ اَنَّہٗ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ شَہِیۡدٌ۔(حٰم السجدہ41: 53)
*ترجمہ:* ہم انہیں اپنی نشانیاں کائنات میں بھی دکھائیں گے اور خود ان کے اپنے وجود میں بھی، یہاں تک کہ ان پر یہ بات کھل کر سامنے آجائے کہ یہی حق ہے۔ کیا تمہارے رب کی یہ بات کافی نہیں ہے کہ وہ ہر چیز کا گواہ ہے؟
 
*تفسیر:* آفاق ارض و سماء تو بے شک وہی ہیں جنہیں انسان ہمیشہ سے دیکھتا رہا ہے، اور انسان کا اپنا وجود بھی اسی طرح کا ہے جیسا ہر زمانے میں دیکھا جاتا رہا ہے، مگر ان چیزوں کے اندر خدا کی نشانیاں اس قدر بے شمار ہیں کہ انسان کبھی ان کا احاطہ نہیں کر سکا ہے، نہ کبھی کر سکے گا۔ ہر دور میں انسان کے سامنے نئی نئی نشانیاں آتی چلی گئی ہیں اور قیامت تک آتی چلی جائیں گی (ترجمان القرآن)۔سورۃ البقرۃ 2کی آیت 164 کے علاوہ کسی اور آیت ِ قرآنیہ میں اس قدر مظاہر ِفطرت (phenomena of nature) کا بیان یکجا نہیں کیا گیا لہذا  ڈاکٹر اسرار احمد نے اسے 'آیت الآیات' قرار دیا ہے (بیان القرآن)۔
 
 یہاں منہج فکر یا ورلڈ ویو کا فرق نوٹ کیجئے۔ ویڈیو دیکھنے پر جدید تعلیم حاصل کرنے والا بچہ اس کائنات کی وسعت کو دیکھ کر فوراً یہ سوال کرتا ہے یا اسکا ذہن اس جانب منتقل ہوجاتا ہے (جیسا کہ راقم کے بیٹے نے فوری ردعمل دیا کہ یہ تو بہت بڑی ہے یہاں ایلینز aliens بھی ہوں گے) کہ یہاں کوئی دوسری خلائی مخلوق اور UFO وغیرہ بھی موجود ہوں گی جیسا کہ دور حاضر کا میڈیا انکے ذہنوں میں مسلسل یہ بے معنی خوف انڈیل رہا ہے۔ جب ایک ملحد (منکرِ خدا atheist)کائنات کی ان پہنائیوں کو دیکھتا ہے تو وہ کہتا ہے دیکھو یہاں خدا کہیں نہیں ہے جیسا کہ سوویت یونین کے پہلے خلائی سفر کے بعد ایک کمیونسٹ سیاستدان کا بیان تھا۔ سائنس و سائنسدانوں کی سوچ کا زاویہ discourseیہ ہے کہ وہ کس طرح اس کائنات کو ایکسپلور کرکے اسکو اپنے اختیار و کنٹرول میں لائے، اسپر انسانی اتھارٹی و حکم نافذ کرے۔ اس حوالہ سے مذہبی تناظر مغرب شناس اقبال یوں بیان کرتے ہیں:

کافر کی  یہ  پہچان  کہ  آفاق  میں گم  ہے
مومن کی یہ پہچان کہ گم اسمیں ہیں آفاق

مسلمان کہتا ہے: دیکھو یہ کائنات کس قدر وسیع و عریض ہے اور انسان کس قدر بے خانماں و بے وقعت۔ لہذا  اللّٰہ سبحانہ تعالیٰ جو کہ خالق و مالک علی کل شئی ہے، ہر شے پر حکم نافذ کرنے والا۔ وہ خود کتنا عظیم الشان و عظیم المرتبت ہوگا جس نے اس قدر فراخ و کشادہ کائنات کو تخلیق کیا اور پھر اسکا انتظام و انصرام بھی سنبھالے ہوئے ہے ۔ بے شک: *وَ ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَ الَّیۡلَ وَ النَّہَارَ وَ الشَّمۡسَ وَ الۡقَمَرَ ؕ کُلٌّ فِیۡ فَلَکٍ یَّسۡبَحُوۡنَ* ترجمہ:  وہی اللہ ہے جس نے رات اور دن اور سورج اور چاند کو پیدا کیا ہے۔ ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے مدار میں تیرتے پھرتے ہیں۔(الانبیاء 33:21)

المیہ یہ ہے کہ یہ مذکورہ روایتی ورلڈ ویو مغربی اقدار کے پھیلنے سے تیزی سے سکڑ رہا ہے۔ جدید انسان modern human اپنے اس فطری و جبلی انداز ِنظر کو بھلاکر سائنسی و ملحدانہ تصورِ کائنات اور تصورِ انسان کو اپنا رہا ہے۔ وہ یہ بات فراموش کررہا ہے کہ وہ عبد ہے معبود نہیں۔ وہ محدود ہے لامحدود نہیں۔ وہ پابند ہے آزاد نہیں۔ وہ جوابدہ ،مسئول و مکلف ہے لَا یُسۡئَلُ نہیں۔ اسے موت ہے ہمیشگی و لافانیت نہیں۔ اور یہ کائنات غورو و تدبر کے لئے ہے تسخیر و تحکیم کے لئے نہیں۔ عرفانِ خداوندی کے لئے ہے دعویٰ خداوندی کے لئے نہیں۔ رجوع الی اللّٰہ کے لئے ہے اللّٰہ کے انکار کے لئے نہیں۔

درحقیقت علم اور تجربہ، انسان کا ذہنی پس منظر یا frame of reference بدل دیتا ہے۔ اسکے تناظر Perspective کو تبدیل کردیا کرتا ہے۔یعنی انسانی ذہن آیاتِ انفس و آفاق کواپنے موجودہ دستیاب علم اور عقل کے مطابق ہی سمجھ سکتا ہے ۔قرآنی لفظ"شاکلۃ (اپنے طریقے پر )" (بنی اسرائیل17: 84) غالباً اسی جانب اشارہ کررہا ہے۔گویا نہ قرآن کے الفاظ بدلتے ہیں نہ انکے معنی میں تبدیلی واقع ہوتی ہے جو شے تبدیل ہوتی ہے وہ انسان کا اپنا ذہنی پس منظر ہے ۔
 
 سائنس مغربی ملحدین میں Scientism اور مغربی مسیحین میں  Scientology کی صورت میں معبود کے درجہ پر فائز کی جاچکی ہے۔ آفاق و انفس یعنی انسانی جسم اور کائنات کے بارے میں سائنس کی اپروچ یہی ہے کہ کس طرح انسانی ارادہ human will کو آفاق و انفس (جسم و کائنات)پر نافذ و قائم کردیا جائے۔ مثلاً: کوئی شخص بلندی سے چھلانگ  لگانےاور پرندوں کیطرح ہوا میں معلق ہونے  کے اپنے ارادے کو پایہ تکمیل تک پہنچانا چاہتا ہے لیکن کششِ ثقل کے قانون Gravitational Force کی رکاوٹ کے باعث وہ ایسا نہیں کر پاتا ،لہذا وہ ٹکنالوجی کو بطور آلہ استعمال کر کے اپنے اس ارادہ کو حاصل کرلیتا ہےاور ہوائی جہازکی ایجاد  کر کے وہ اس میں کامیاب ہو جاتا ہے تو لامحالہ سائنس و ٹکنالوجی ہی وہ مطلوب شے قرار پاتی ہےجس سے وہ اپنی تمام خواہشات کو پورا کر سکتا ہے ۔تو وہ کیوں نہ سائنٹولوجی Scientology ۔سائنٹزم  Scientism۔ ٹیکنو سائنس Techno science پر ایمان نہ لائے ۔ اسے اپنے ہر غم  کا مدارو ملجا قرار نہ دے ۔سائنس کے لئے اپنی تمام تر توانائیاں اور صلاحیتیں  نہ لگائے۔ March for Science (MFS) اسی فکر و  استدلال کا شاخسانہ ہے۔

انسان جب سے اس کائنات میں موجود ہے اپنی ضروریات کے مطابق آلات و اوزار تیارکرتا رہا ہے لہذا ٹکنالوجی قدیم زمانے سے موجو د ہے۔ پھر اس ٹکنالوجی کی تفہیم کے لئے سائنس وجود میں آئی ۔ مثلاً جرمنی میں کپڑا رنگنے کے بہت سے طریقے مستعمل تھے اس تکنیک سے کیمیا وجود میں آئی۔ سترہویں صدی سے پہلے ٹیکنالوجی سائنس کی مددگار تھی لیکن اسکے بعد سائنس ٹیکنالوجی کی مددگار بن گئی ہے، جنکے ادغام سے Techno-Scienceکی اصطلاح وجود پزیر ہوئی۔سترہویں صدی سے قبل تمام مذہبی معاشروں میں سائنس و ٹکنالوجی لوگوں کی ’’ضروریات Needs‘‘پوری کرتی اور بطور خادم کام کرتی تھی۔ بیسویں صدی سے ٹیکنو سائنس انسانوں کی غیر فطری ’’خواہشاتDesires‘‘پوری کررہی ہے ۔ درحقیقت یہ غیر فطری خواہشات ’’تکاثر=دنیا پرستی‘‘ہے۔ ان غیر فطری خواہشات کو بڑھکا کر حلقہ خریداری Consumerism  مہیا کیا جاتا ہے۔ ٹیکنو سائنس پہلے مسائل، جسمانی بیماریاں ،نفسیاتی عوارض اور زمینی و ماحولی مصائب پیدا کرتی ہے پھر مسئلے کو حل کرنے کا دعویٰ کرتی ہے جسے عظیم الشان سائنسی انقلاب کا نام دیا جاتا ہے۔ ہر پچھلے مسئلہ کا نیا مصنوعی یا مصنوعاتی حل manufactured solution پیش کر دیا جاتا ہے۔ گویا مغربی پرابلم سولونگ اپروچ میں فرد اور سماج کے اصل سوال یا بنیادی مسئلہ کو حل کرنے کے بجائے آخری سوال کو سائنس و ٹکنالوجی Science n Technologyسے handle کیا جاتا ہے، جبکہ حقیقی مدعا یا مسئلہ اپنی جگہ برقرار رہتا ہے۔ نتیجتاً ایک نیا، مزید پیچیدہ اور نسبتاً بڑا مسئلہ جنم لے لیتا ہے۔ مثلاًتجدید آبادیbirth controlکے مصنوعی حل سے آج مغرب کئی گھمبیر مسائل کا شکار ہوچکا ہے۔سائنس و ٹکنالوجی کے اہداف حصول سرمایہ Capitalکے بغیر ناممکن ہیں ۔دولت اصل کامیابی اور نیکی قرار پاتی ہے Wealth is Virtue۔لہذا مطلوب نعرہ یہی ٹھہرتا ہے "کیسا خدا کیسا نبی۔۔۔پیسہ خدا پیسہ نبی۔"
 
 یہاں مختصراً یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ انیسویں صدی کے آخر تک سائنس نیچرل فلاسفی کہلاتی تھی پھر اسے فلسفہ سے علیحدہ کر کے الگ ذریعہ علم بنا دیا گیا۔سائنس و فلسفہ میں جبتک ہم آہنگی تھی چیزوں کی حقیقت اور قدر کا سوال برقرار رہتا تھا مثلاً یہ سوال کہ میں پانی کیوں پیوںِ ؟ انکی جدائی کے بعد یہ سوال بے کار ہو گیا کہ پانی پیا جائے یا نہیں ۔ اس سوال کی ضرورت باقی نہ رہی۔اب سوال یہ باقی رہ گیا کہ ’’ اچھے طریقے سے پانی کسطرح پیا جائے‘‘دلیل اور عقلیت جب آلاتیinstrumentalہو گئے تو سائنس فلسفہ سے الگ ہوگئی۔  مذہب اور ریاست تو جد ا کر دیئے گئے ہیں مگر سائنس اور ریاست لازم و ملزوم  ٹھہرے۔ اس سے پہلے ریاست و حکومت جیسی سرپرستی مذہب کی  کیا کرتی تھی اب اس سے کہیں زیادہ وہ سائنس کی سرپرستی کرتی ہے۔کیونکہ ریاستی اہداف قانون کی حاکمیت اس سے برقرار رہتی ہے۔ اسکی حالیہ مثال چین کے مغربی صوبے سنکیانگ (سنجیانگ) کی ہے جہاں کیمونسٹ ریاست نے اویغور مسلمانوں کو انکے مذہب سے دور کرنے کے لئےجدید سائنس و ٹکلنالوجی سے بھرپور مدد لی ہوئی ہے۔


*اللہ المالک الملک* کے بارے میں قرآن وضاحت کرتا ہے: *کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِی شَاْنٍ۔ ہر روز وہ کام میں مصروف رہتا ہے۔ہر دن وہ نئی شان میں ظاہر ہوتا ہے۔* عبد اللہ بن منیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمارے سامنے رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی ہم نے پوچھا۔ حضرت! 'شان' سے کیا مراد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ گناہ بخشتا ہے اور غم دور کرتا ہے اور کسی قوم کو بلند اور کسی کو پست کرتا ہے۔یعنی دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے اور آئندہ ہو گا اور جو کچھ قیامت میں ہو گا وہ سب اس کی ایک ایک شان کا جلوہ ہے۔
 
 مغربی دنیا میں سائنس اور مذہب کو ایکدوسرے کا مخالف Rivalسمجھا جاتا ہے۔ جسکی معقول تاریخی وجوہات موجود رہی ہیں۔ اسکے بالمقابل اسلام یا مسلمانوں میں ایسی کوئی روایت موجود نہیں رہی۔ ’’قرآن پاک ’سائنس Science‘ کی کتاب نہیں بلکہ ’سائنز Signs یا نشانیوں= آیات' کی کتاب ہے۔ گویا قرآن پاک کی ہر آیت اللہ علیم وحکیم کی ایک نشانی ہے، اس کتاب کا مخاطب انسان ہے اور ا سکا مقصد انسان کی ’ہدایت و رہنمائی ‘ہے۔ قرآن = کتابِ ہدایت۔


قرآن کی مثال ایسے ہے جیسے کسی دوست کی تحفے کے طور پر دی ہوئی کوئی نشانی  جیسے صندوق میں رکھا رومال یا قلم جو طویل عرصہ گزر جانے کیوجہ سے بھلا دیا گیا ہو ۔یہ نشانی دراصل اس بھولے ہوئے دوست اور اسکی باتوں کی یاد دلاتی  ہے ، اس دوست سے ملاتی ہے۔ قرآن ، اپنی نشانیوں یعنی آیاتِ قرآنیہQuranic Verses،آیاتِ آفاق Signs in the Horizonsاور  آیاتِ انفس Signs within themselves سے ایمان والوں، یقین کرنے والوں ، غورو فکر کرنے والوں، عقل والوں کو یاد دہانی کرواتا ہے ، بھولا ہوا سبق یاد کرواتاہے ، گم گشتہ راستہ دکھاتاہے ۔انھیں یاد کرواتا ہے کہ  انکی اصل کیا ہے۔ انھیں کیا کرنا ہے۔ انھیں کہاں لوٹ کر جانا ہے۔ انھیں یوم ِاَلست کی یاد کرواتا ہےجہاں انکی ارواح ۔ انبیائے سابقین کی تعلیمات کو خاتم النبیین ﷺ کی تعلیمات سے جوڑتا ہے۔ حق اور باطل کو جد ا جدا کرکے صراطِ مستقیم پر چلادیتا ہے  اور اپنے نبی کے اسوہ role modelسے انکی مسلسل رہنمائی کرتا ہے۔

*یاد رہے!* سائنس بجائے خود ایک ظنی و تخمینی علم ہے اسکے نظریات و مفروضات حتمی نہیں ہوتے، بلکہ انمیں ترمیم و اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ سائنس کے سامنے جب کسی مسئلہ پر کافی مواد جمع ہو جاتا ہے تو قیاس یا مفروضہ Hypothesisنمودار ہوتا ہے، جب سائنسدان اسکے مزید ثبوت مل جانے پر اسے قبول کرلیتے ہیں تو اسے نظریہ Theoryکہا جاتا ہے اور جب اس نظریہ کے ثبوت دنیا میں عام ہوجاتے ہیں اور اکثر و بشتر سائنسدان اس سے متفق ہوجائیں تو اسے قانونLawکہا جاتا ہے۔لیکن یہ قانون بھی کوئی حتمی شے نہیں ۔

سائنسی منہج اسی طرح مغربی علمیت کے بنیادی علوم یعنی فزیکل و سوشل سائنسز قطعیت و حتمیت سے عاری ، غیر متعین اور ہمہ وقت متغیر ہیں۔ شک و ارتیابیت Skepticism  انکی  بنیا د ہے۔ ایک ایسا شک جو کبھی ختم نہیں ہوتاendless doubt۔جسکا حتمی مقصد تسخیرِ ذات و تسخیرِ کائنات control on human & universe  ہے۔اسکے برعکس اسلامی علمیت غورو تدبر reflect uponسے شروع ہو کر یقین believeپر جا ٹھہرتی ہے۔ اسکا مطمع نظر یا مقصد تسخیرِذات و کائنات نہیں بلکہ معرفتِ الٰہی Cognition of ALLAH ہے۔ جیسے پیغمبر ابراہیم ؑ کا انسان اور کائنات پر غور وفکر کرکے عرفانِ خداوندی سے سرفراز ہونا(الانعام6: 74۔84؛ البقرۃ 2: 240)۔اسلامی علمیت کا مرکز وحی و الہام Revelationہے۔ تاہم عقل ، حواس و تجربہ بھی انکے ماتحت subordinate نعمت مانے جاتے ہیں۔ اگر مذہب کی بنیاد عقیدہ (Faith)پر ہے تو سائنس کی بنیاد کھوج Investigation پر ہے۔مذہب اور جدید سائنس دو الگ الگ مناہج ہیں  ایک یعنی مذہب مابعد الطبعیات  Metaphysicalسے خود کو ثابت کرتا ہے تو دوسرا یعنی سائنس اپنی سند طبعی و حِسّی دنیا Physical or Sensual سے لاتا ہے۔ سائنس میں نتائج کی بہت اہمیت ہے جبکہ مذہب میں مقاصد کی اہمیت زیادہ ہے نتائج کی اہمیت ثانوی ہوا کرتی ہے۔ مقصد کا تعین نتائج سے بے پروا ہ ہو کر اصول و قاعدہ کی بنیاد پر کیاجاتا ہے ۔
 
 سائنس و ٹکنالوجی کی تمام تر جدت طرازیوں، رعنائیوں اور ایجادات و دریافتوں کا پھیلاؤ خود انسانوں اور اسکے ماحول و رہائش گاہ یعنی زمین کے لئے بجائے مفید ہونے کے مضر ثابت ہورہا ہے۔ ایک طرف اگر انسان اگر خود سر و خود غرض ہورہا ہے تو دوسری طرف اسکا ماحول بھی تیزی سے آلودہ و ناقابلِ اصلاح ہوتا جارہا ہے۔ مصنوعی ذہانت (A.I)، روبوٹکس و راکٹ سائنس جیسی مسحور کن ایجادات اور پیش رفتیں اسکی جلد از جلد فنا کے سامان مہیا کررہی ہیں یا کم از کم چند نو استعمار بلینیئرز کے سوا انسانوں کی اکثریت اس بے ہنگم اور بے مہار آزادی و ترقی کی بھینٹ چڑھتی محسوس ہوتی ہیں۔ جہاں غربت و افلاس مسلسل بڑھ رہی ہے، بےروزگاری کا جن بوتل سے باہر آچکا ہے، مہنگائی و افراطِ زر ہے۔ ایک طرف امیر غریب کی طبقاتی کشمکش ہے تو دوسری طرف سرحدی و علاقائی تنازعات بھی اکثر ممالک کو باہم جنگ و جدل کے خوف میں مبتلا رکھتے ہیں۔ بڑی طاقتوں کی معاشی کشاکش ہے تو  تہذیبی جنگ بھی جاری ہے۔ شخصی و جماعتی سطح پر مفادات کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ ہر طرف افراتفری اور دوسرے کو پیچھے چھوڑ دینے کی دھکم پیل جاری ہے۔ قناعت و تحمل اور استغناء ناپید ہوا جاتا ہے۔ مادیت کے عفریت نے روحانیت کو شجرِ ممنوعہ بنا چھوڑا ہے۔

Abu Malik at-Ash'ari (RA) reported: The Messenger of Allah (peace be upon him) said: Cleanliness is half of faith and al-Hamdu Liliah (Praise be to Allah) fills the scale, and Subhan Allah (Glory be to Allah) and al-Hamdu Liliah (Praise be to Allah) fill up what is between the heavens and the earth, and prayer is a light, and charity is proof (of one's faith) and endurance is a brightness and the Holy Qur'an is a proof on your behalf or against you. All men go out early in the morning and sell themselves, thereby setting themselves free or destroying themselves.

(Sahih Muslim, Book 2, Hadith 1)

Hasan Al-Basri RA said: "When salah is the least of your concerns, then what is your most important concern? As much as you fix your salah, your life will be fixed. Did you not know that salah was equated with Success: 'Come to Prayer, Come to Success.' How can you ask Allah subḥānahu wa ta'āla (glorified and exalted be He) for success when you are not responding to His right upon you?"

If you are wondering why there is a delay in your sustenance, in your marriage, in your work, in your he​alth , look into your salah: are you delaying it?

أعوذ بالله من الشيطان الرجيم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِکْ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّد و آل محمدٍ
                                                          
تمام تعریفیں اُس وحدہٗ لا شریک کے لئے جو تمام جہانوں کا پالنے والا اور کسی کا محتاج نہیں. کوئی انسان کتنا بھی گنہگار کیوں نہ هو اللہ  رب العالمين اس کیلئے دعا کا وسیلہ، توبہ کا راستہ، اور رزق کا دروازہ کبھی بند نہیں کرتا.
اے الله پاک پروردگار ھم سب کو اپنی رحمتوں اور برکتوں سے نوازے رکھ اور ھميں نيک عمل کرنے کی توفيق عطا فرما.
*آمیـــــــــن‎
نماز قائم کریں


سورہ النحل آیت نمبر 11

یُنۡۢبِتُ لَکُمۡ بِہِ الزَّرۡعَ وَ الزَّیۡتُوۡنَ وَ النَّخِیۡلَ وَ الۡاَعۡنَابَ وَ مِنۡ کُلِّ الثَّمَرٰتِ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوۡمٍ یَّتَفَکَّرُوۡنَ ۱۱

ترجمہ: اسی سے اللہ تمہارے لیے کھیتیاں، زیتون، کھجور کے درخت، انگور اور ہر قسم کے پھل اگاتا ہے۔ (٦) حقیقت یہ ہے کہ ان سب باتوں میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانی ہے جو سوچتے سمجھتے ہوں۔ 

تفسیر: 6: کھیتیوں سے اس پیداوار کی طرف اشارہ ہے جو انسان غذا کے طور پر استعمال کرتا ہے، جیسے گندم، سبزیاں وغیرہ اور زیتون ان اشیاء کا ایک نمونہ ہے جو کھانا پکانے اور کھانے کے لیے چکنائی کے طور پر استعمال ہوتی ہیں۔ اور کھجور، انگور اور باقی پھلوں سے اس پیداوار کی طرف اشارہ ہے جو مزید لذت حاصل کرنے کے کام آتی ہیں۔ 

 آسان ترجمۂ قرآن مفتی محمد تقی عثمانی 



اللہ پہ یقین.......:
یہ ﺳﻌﻮﺩﯼ ﻋﺮﺏ ﮐﮯ ﺩﺍﺭﺍﻟﺤﮑﻮﻣﺖ ﺭﯾﺎﺽ ﺷﮩﺮ ﮐﺎ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﮨﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﻧﯿﮏ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﺍﻟﻤﺒﺎﺭﮎ ﮐﮯ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﺮ ﺭﻭﺯ ﺍﻓﻄﺎﺭ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﮐﭩﮭﺎ ﮐﺮﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﺳﮯ ﮐﮩﺘﯽ ﮐﮧ ﺟﻮ ﮐﭽﮫ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﮐﺮﻭﮞ، ﺗﻢ ﺑﮭﯽ ﻭﮨﯽ ﮐﮩﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﺮﻧﺎ، ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﺩﻋﺎ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺍﭨﮭﺎﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺘﯽ۔۔۔ ! " ﯾﺎ ﺍﻟﮩٰﯽ ! ﮨﻤﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﮔﮭﺮ ﻋﻄﺎ ﮐﺮ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﺍﯾﮏ ﻧﮩﺮ ﮨﻮ۔۔۔ "!

ﺗﻤﺎﻡ ﺑﭽﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﺎﺗﮫ ﺍﭨﮭﺎﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺘﮯ " ﯾﺎ ﺍﻟﮩٰﯽ ! ﮨﻤﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﮔﮭﺮ ﻋﻄﺎ ﮐﺮ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﺍﯾﮏ ﻧﮩﺮ ﮨﻮ۔۔۔ "!
ﺍﺱ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮐﺎ ﺷﻮﮨﺮ ﮨﻨﺴﺘﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺘﺎ، " ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﺗﻮ ﺳﻤﺠﮫ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮧ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﻧﮩﺮ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﮐﯿﺎ ﻣﻄﻠﺐ؟، ﺍﺱ ﺻﺤﺮﺍﺋﯽ ﻋﻼﻗﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﺮ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﺁﺋﮯ ﮔﯽ۔۔۔؟ "
ﺑﯿﻮﯼ ﺍﺳﮯ ﺟﻮﺍﺑﺎً ﮐﮩﺘﯽ، " ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﻏﺮﺽ، ﯾﮧ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﮐﺎ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﮨﮯ، ﺁﭖ ﺑﯿﭻ ﻣﯿﮟ ﻣﺖ ﺁﺋﯿﮯ۔۔ !! ، ﻭﮦ ﺭﺏ ﺗﻮ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ، " ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺟﻮ ﻣﺎﻧﮕﻮ، ﻣﯿﮟ ﻋﻄﺎ ﮐﺮﻭﻧﮕﺎ، ﮨﻢ ﺗﻮ ﺟﻮ ﺟﯽ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﮯ ﮔﺎ، ﻣﺎﻧﮕﯿﮟ ﮔﮯ۔۔ !! ، ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺭ ﻣﺎﻧﮕﯿﮟ ﮔﮯ۔ "
ﻏﺮﺽ ﻭﮦ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﮐﮭﭩﺎ ﮐﺮﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺩ ﺑﮭﯽ ﺩﻋﺎ ﮐﺮﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﭽﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﻭﺍﺗﯽ۔ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﺍﻟﻤﺒﺎﺭﮎ ﺑﯿﺖ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ " ﺍﺏ ﺑﺘﺎﺅ، ﮐﮩﺎﮞ ﮨﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺍﭘﻨﺎ ﮔﮭﺮ، ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﮯ ﻭﮦ ﻧﮩﺮ۔۔۔؟ "
ﺧﺎﺗﻮﻥ ﻧﮯ ﺑﮍﮮ ﯾﻘﯿﻦ ﺳﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ، " ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﮨﻤﯿﮟ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﮔﮭﺮ ﺿﺮﻭﺭ ﺩﮮ ﮔﺎ، ﻭﮦ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﺮﺍﺩﯾﮟ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ۔ "
ﺍﺱ ﺳﮯ ﺍﮔﻼ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﻭﮦ ﺧﻮﺩ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ، " ﻣﯿﮟ ﺷﻮﺍﻝ ﮐﮯ ﭼﮫ ﺭﻭﺯﮮ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﻓﺎﺭﻍ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﺯ ﺑﮍﺍ ﻋﺠﯿﺐ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﭘﯿﺶ ﺁﯾﺎ۔۔۔ "!!

ﻣﯿﺮﮮ ﺷﻮﮨﺮ ﻋﺼﺮ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮪ ﮐﺮ ﻣﺴﺠﺪ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺭﯾﺎﺽ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﻣﯿﺮ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺭﻭﮐﺎ، ﻣﯿﺮﮮ ﺷﻮﮨﺮ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﺗﮏ ﻧﮧ ﺗﮭﮯ ﺍﺱ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺳﻼﻡ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ۔۔۔ ! " ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺍﯾﮏ ﮔﮭﺮ ﮨﮯ، ﺁﺩﮬﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ، ﻣﮕﺮ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﻧﺼﻒ ﺣﺼﮧ ﺧﺎﻟﯽ ﭘﮍﺍ ﮨﮯ۔ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻭﻻﺩ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﻓﻀﻞ ﻭ ﮐﺮﻡ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﻧﻮﺍﺯﺍ ﮨﮯ، ﮨﻤﯿﮟ ﺍﺱ ﺁﺩﮬﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﺁﺝ ﺍﺱ ﺍﺭﺍﺩﮮ ﺳﮯ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﻧﮑﻼ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻧﻤﺎﺯ ﻋﺼﺮ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﺴﺠﺪ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺁﺩﻣﯽ ﮐﻮ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺁﺩﮬﺎ ﮔﮭﺮ ﮨﺪﯾۃً ﺩﮮ ﺩﻭﻧﮕﺎ، ﯾﻮﮞ ﺁﭖ ﺳﮯ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﮔﺰﺍﺭﺵ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﺁﺩﮬﺎ ﮔﮭﺮ ﮬﺪﯾﺘﮧً ﻗﺒﻮﻝ ﻓﺮﻣﺎﻟﯿﮟ۔۔۔۔ "!!

ﺑﻼ ﻗﯿﻤﺖ ﻣﮑﺎﻥ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﺗﺮﺩﺩ ﮨﻮﺍ، ﻭﮦ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ، " ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺗﺴﻠﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﺩﺋﯿﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﻮ ﺟﺘﻨﯽ ﺭﻗﻢ ﺁﭖ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺩﮮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﺩﮮ ﺩﯾﺠﺌﮯ۔۔۔ "!!

ﺧﯿﺮ ﮨﻢ ﻧﮯ ﮐﭽﮫ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺎﺱ ﺍﻭﺭ ﮐﭽﮫ ﺍِﺩﮬﺮ ﺍُﺩﮬﺮ ﺳﮯ ﺟﻮ ﺭﻗﻢ ﺍﮐﭩﮭﯽ ﮐﯽ ﻭﮦ ﮐﻢ ﻭ ﺑﯿﺶ 8 ﮨﺰﺍﺭ ﺭﯾﺎﻝ ﺑﻦ ﮔﺌﮯ، ﻭﮦ ﺭﻗﻢ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺁﺩﻣﯽ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﮐﺮ ﺩﯼ، ﺍﺏ ﮨﻢ ﺍﺱ ﺁﺩﮬﮯ ﻣﮑﺎﻥ ﮐﮯ ﻣﺎﻟﮏ ﺑﻦ ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻣﮑﺎﻥ ﺭﯾﺎﺽ ﺷﮩﺮ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﺎﮈﺭﻥ ﻋﻼﻗﮯ ﻣﯿﮟ ﻭﺍﻗﻊ ﺗﮭﺎ، ﺳﭻ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﻮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺳﭽﮯ ﺩﻝ ﺳﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﮐﻮ ﭘﮑﺎﺭﺗﺎ ﮨﮯ، ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﭘُﮑﺎﺭ ﺿﺮﻭﺭ ﺳﻨﺘﺎ ﮨﮯ۔
ﻟﯿﮑﻦ ! ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺕ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮐﺮ ﺭﮐﮭﺎ ﺗﮭﺎ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﺟﻮ ﮔﮭﺮ ﻣﺎﻧﮕﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﻧﮩﺮ ﮨﻮﻧﯽ ﺗﮭﯽ، ﻣﮑﺎﻥ ﺗﻮ ﻣﻞ ﮔﯿﺎ، ﭘﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﻧﮩﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ۔

ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﻋﺎﻟﻢ ﺩﯾﻦ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ " ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﺗﻮ ﻓﺮﻣﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺟﻮ ﻣﺎﻧﮕﻮ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻋﻄﺎ ﮐﺮﻭﻧﮕﺎ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﻧﮩﺮ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﮔﮭﺮ ﻣﺎﻧﮕﺎ ﺗﮭﺎ، ﮔﮭﺮ ﺗﻮ ﻣﻞ ﮔﯿﺎ، ﻟﯿﮑﻦ ﻧﮩﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﯽ۔۔ "!
ﺍُﻥ ﻋﺎﻟﻢِ ﺩﯾﻦ ﮐﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﺩُﻋﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﯾﻘﺎﻥِ ﻗﺒﻮﻟﯿﺖ ﭘﺮ ﺑﮍﯼ ﺣﯿﺮﺕ ﮨﻮﺋﯽ، ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺩﺭﯾﺎﻓﺖ ﮐﯿﺎ، " ﺍﺳﻮﻗﺖ ﺁﭖ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ۔۔۔؟ "
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ، " ﺍﺳﻮﻗﺖ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍﯾﮏ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﻣﺴﺠﺪ ﮨﮯ۔۔ "!!
ﻋﺎﻟﻢِ ﺩﯾﻦ ﻣﺴﮑﺮﺍﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ، " ﯾﮧ ﻧﮩﺮ ﮨﯽ ﺗﻮ ﮨﮯ۔۔ "!!
ﭘﮭﺮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﯾﮧ ﺣﺪﯾﺚِ ﻣﺒﺎﺭﮐﮧ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﯽ ﮐﮧ۔۔ !!
ﺣﺪﯾﺚ ﻣﯿﮟ ﻧﺒﯽﷺ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺻﺤﺎﺑﯽ ﺳﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ، " ﺁﺩﻣﯽ ﮐﺎ ﮔﮭﺮ ﻧﮩﺮ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﭘﺎﻧﭻ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﻏﺴﻞ ﮐﺮﮮ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺪﻥ ﭘﺮ ﻣﯿﻞ ﮐﭽﯿﻞ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ؟ "
ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﻋﻨﮩﻤﺎ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ، " ﻧﮩﯿﮟ ﯾﺎ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺪﻥ ﭘﺮ ﻣﯿﻞ ﮐﭽﯿﻞ ﺑﺎﻗﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ۔ "
ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ، " ﯾﮩﯽ ﺣﺎﻝ ﭘﺎﻧﭻ ﻧﻤﺎﺯﻭﮞ ﮐﺎ ﮨﮯ، ﺍﻥ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﭩﺎ ﮈﺍﻟﺘﺎ ﮨﮯ۔۔۔ "!
ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺧﻮﺷﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﺸﮑﺮ ﮐﮯ ﺁﻧﺴﻮ ﺭﻭﺍ ﺗﮭﮯ، ﺑﯿﺸﮏ ﻣﯿﺮﮮ ﺭﺏ ﻧﮯ ﻧﮩﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﻋﻄﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔۔۔ !
ﺳﺒﺤﺎﻥ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺑﺤﻤﺪﮦ، ﺳﺒﺤﺎﻥ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﻟﻌﻈﯿﻢ۔۔ !!