تازہ ترین



سورہ المآئدۃ آیت نمبر 1یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَوۡفُوۡا بِالۡعُقُوۡدِ ۬ؕ اُحِلَّتۡ لَکُمۡ بَہِیۡمَۃُ الۡاَنۡعَامِ  اِلَّا مَا یُتۡلٰی عَلَیۡکُمۡ غَیۡرَ مُحِلِّی الصَّیۡدِ وَ اَنۡتُمۡ حُرُمٌ ؕ اِنَّ اللّٰہَ  یَحۡکُمُ مَا یُرِیۡدُ ﴿۱﴾

ترجمہ: اے ایمان والو ! معاہدوں کو پورا کرو۔ تمہارے لیے وہ چوپائے حلال کردیے گئے ہیں جو مویشیوں میں داخل ( یا ان کے مشابہ) ہوں۔ (١) سوائے ان کے جن کے بارے میں تمہیں پڑھ کر سنایا جائے گا (٢) بشرطیکہ جب تم احرام کی حالت میں ہو اس وقت شکار کو حلال نہ سمجھو۔ (٣) اللہ جس چیز کا ارادہ کرتا ہے اس کا حکم دیتا ہے (٤)

تفسیر: 1: چوپایہ تو ہر اس جانور کو کہتے ہیں جو چار ہاتھ پاؤں پر چلتا ہے، لیکن ان میں سے صرف وہ جانور حلال ہیں جو مویشیوں میں شمار ہوتے ہیں، یعنی گائے اونٹ، اور بھیڑ بکری یا پھر ان مویشیوں کے مشابہ ہوں جیسے ہرن نیل گائے وغیرہ۔ 2: ان حرام چیزوں کی طرف اشارہ ہے جن کا ذکر آگے آیت نمبر 3 میں آ رہا ہے 3: مویشیوں کے مشابہ جانور مثلاً ہرن وغیرہ اگرچہ حلال ہیں اور ان کا شکار بھی حلال ہے لیکن جب حج یا عمرے کے لئے کسی نے احرام باندھ لیا ہو تو ان جانوروں کا شکار حرام ہوجاتا ہے۔ 4: اس جملے نے ان تمام سوالات اور اعتراضات کی جڑ کاٹ دی ہے جو لوگ محض اپنی محدود عقل کے سہارے شرعی احکام پر عائد کرتے ہیں، مثلاً یہ سوال کہ جانور بھی تو آخر جان رکھتے ہیں، ان کو ذبح کرکے کھانا کیوں جائز کیا گیا جبکہ یہ ایک جاندار کو تکلیف پہنچانا ہے یا مثلاً یہ سوال کہ فلاں جانور کو کیوں حلال کیا گیا اور فلاں جانور کو کیوں حرام قرار دیا گیا ہے ؟ آیت کے اس حصے نے اس کا مختصر اور جامع جواب یہ دے دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ پوری کائنات کا خالق ہے وہی اپنی حکمت سے جس بات کا ارادہ فرماتا ہے اس کا حکم دے دیتا ہے، اس کا ہر حکم یقیناً حکمت پر مبنی ہے، لیکن ضروری نہیں کہ اس کے ہر حکم کی حکمت بندوں کو سمجھ میں بھی آئے، لہذا بندوں کا کام یہ ہے کہ اس کے ہر حکم کو چون وچرا کے بغیر تسلیم کرکے اس پر عمل کریں۔
آسان ترجمۂ قرآن مفتی محمد تقی عثمانی





یہ روزانہ بادشاہ کے پاس حاضر ہوتا تھا اور دو تین گھنٹے اس کے ساتھ رہتاتھا ‘ اس دوران بادشاہ سلطنت کے امور بھی سرانجام دیتا رہتا اور حجامت اور شیو بھی کرواتا رہتا تھا ۔
ایک دن نائی نے بادشاہ سے عرض کیا
”حضور میں وزیر کے مقابلے میں آپ سے زیادہ قریب ہوں‘ میں آپ کا وفادار بھی ہوں‘ آپ اس کی جگہ مجھے وزیر کیوں نہیں بنا دیتے“
بادشاہ مسکرایا اور اس سے کہا
”میں تمہیں وزیر بنانے کیلئے تیار ہوں لیکن تمہیں اس سے پہلے ٹیسٹ دینا ہوگا“
نائی نے سینے پر ہاتھ باندھ کر کہا
”آپ حکم کیجئے“
بادشاہ بولا
”بندرگاہ پر ایک بحری جہاز آیا ہے مجھے اس کے بارے میں معلومات لا کر دو“
نائی بھاگ کر بندرگاہ پر گیا اور واپس آ کر بولا ”جی جہاز وہاں کھڑا ہے“
بادشاہ نے پوچھا ”یہ جہاز کب آیا“ نائی دوبارہ سمندر کی طرف بھاگا‘ واپس آیا اور بتایا ”دو دن پہلے آیا“
بادشاہ نے کہا ”یہ بتاﺅ یہ جہاز کہاں سے آیا“ نائی تیسری بار سمندر کی طرف بھاگا‘ واپس آیا تو بادشاہ نے پوچھا ”جہاز پر کیا لدا ہے“
نائی چوتھی بار سمندر کی طرف بھاگ کھڑا ہوا۔
قصہ مختصر نائی شام تک سمندر اور محل کے چکر لگا لگا کر تھک گیا
اس کے بعد بادشاہ نے وزیر کو بلوایا اور اس سے پوچھا ”کیا سمندر پر کوئی جہاز کھڑا ہے"
“وزیر نے ہاتھ باندھ کر عرض کیا
”جناب دو دن پہلے ایک تجارتی جہاز اٹلی سے ہماری بندرگارہ پر آیاتھا ‘ اس میں جانور‘ خوراک اور کپڑا لدا ہے‘ اس کے کپتان کا نام یہ ہے‘ یہ چھ ماہ میں یہاں پہنچا‘ یہ چار دن مزید یہاں ٹھہرے گا‘ یہاں سے ایران جائے گا اور وہاں ایک ماہ رکے گا اور اس میں دو سو نو لوگ سوار ہیں اور میرا مشورہ ہے ہمیں بحری جہازوں پر ٹیکس بڑھا دینا چاہئے“
بادشاہ نے یہ سن کر حجام کی طرف دیکھا
حجام نے چپ چاپ استرا اٹھایا اور عرض کیا
*”مولا خوش رکھے !
کلماں چھوٹیاں رکھاں کہ وڈیاں “*

 *حضور اقدس صلی الله علیہ وسلم نے متعدد نکاح کیوں فرمائے؟ٌ*
✍کافی عرصہ کی با ت ہے کہ جب میں لیاقت میڈیکل کا لج جامشورو میں سروس کررہا تھا تو وہاں لڑکوں نے سیرت نبیۖ کانفرس منعقد کرائی اورتمام اساتذہ کرام کو مدعو کیا ۔ چنانچہ میں نے ڈاکٹر عنایت اللہ جوکھیو ( جو ہڈی جوڑ کے ماہر تھے) کے ہمراہ اس کانفرنس میں شرکت کی۔ اس نشست میں اسلامیات کے ایک لیکچرار نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم  کی پرائیویٹ زندگی پر مفصل بیان کیا اور آپ کی ایک ایک شادی کی تفصیل بتائی کہ یہ شادی کیوں کی اور اس سے امت کو کیا فائدہ ھوا۔  یہ بیان اتنا موثر تھا کہ حاضرین مجلس نے اس کو بہت سراہا ۔ کانفرس کے اختتام پر ہم دونوں جب جامشورو سے حیدر آباد بذریعہ کار آرہے تھے تو ڈاکٹر عنایت اللہ جوکھیو نے عجیب بات کی
  اس نے کہا کہ ۔۔۔۔۔۔ آج رات میں دوبارہ مسلمان ھوا ھوں ۔۔۔۔۔
میں نے تفصیل کہ تو اس نے بتایا کہ آٹھ سال قبل جب وہ FRCS کے لیے انگلستان گیا تو کرا چی سے انگلستا ن کا سفر کافی لمبا تھا ، ہوائی جہاز میں ایک ائیر ہوسٹس میرے ساتھ آ کر بیٹھ گئی ۔ ایک دوسرے کے حالات سے آگاہی کے بعد اس عورت نے مجھ سے پو چھا کہ تمہارا مذہب کیا ہے؟  میں نے بتا یا، اسلام ۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نام پوچھا، میں نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بتایا ، پھر اس لڑکی نے سوال کیا کہ کیا تم کو معلوم ہے کہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گیارہ شادیاں کی تھیں؟ میں نے لاعلمی ظاہر کی تو اس لڑکی نے کہا یہ بات حق اور سچ ہے ۔ اس کے بعد اس لڑکی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے (معاذاللہ ) نفسانی خواہشات کے غلبے کے علاوہ  دو تین دیگر الزامات لگائے، جس کے سننے کے بعدمیرے دل میں (نعوذ بااللہ) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں نفرت پیدا ہو گئی اور جب میں لندن کے ہوائی اڈے  پر اترا تو میں مسلمان نہیں تھا۔
آٹھ سال انگلستان میں قیام کے دوران میں کسی مسلمان کو نہیں ملتا تھا، حتیٰ کہ عید کی نماز تک میں نے ترک کر دی۔ اتوار کو میں گرجوں میں جاتا اور وہاں کے مسلمان مجھے عیسائی کہتے تھے۔ جب میں آٹھ سال بعد واپس پاکستان آیا تو ہڈی جوڑ کا ماہر بن کر لیاقت میڈیکل کالج میں کام شروع کیا ۔ یہاں بھی میری وہی عادت رہی ۔ آج رات اس لیکچرار کا بیان سن کر میرا دل صاف ہو گیا اور میں نے پھر سے کلمہ پڑھا ہے۔



غور کیجئے ایک عورت کے چند کلمات نے مسلمان کو کتنا گمراہ کیا اور اگر ڈاکٹر عنایت اللہ یہ بیا ن نہ سنتا تو پتہ نہیں اس کا کیا بنتا ۔
اس کی وجہ ہم مسلمانوں کی کم علمی ہے۔ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے متعلق نہ پڑھتے ہیں اور نہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں ۔ کئی میٹنگز میں جب کوئی ایسی با ت کرتا ہے تو مسلمان کوئی جواب نہیں دیتے، ٹال دیتے ہیں۔ جس سے اعتراض کرنے والوں کےحوصلے بلند ہو جا تے ہیں ۔
اس لیے بہت اہم ہے کہ ہم اس موضوع کا مطالعہ کریں اور موقع پر حقیقت لوگوں کو بتائیں ۔
ایک دفعہ بہاولپور سے ملتان بذریعہ بس میں سفر کر رہا تھا کہ ایک آدمی لوگو ں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شادیوں کے بارے میں گمراہ کر رہا تھا۔ میں نے اس سے بات شروع کی تو وہ چپ ہو گیا اور باقی لوگ بھی ادھر ادھر ہو گئے۔
لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کی خاطر جانیں قربان کی ہیں۔ کیا ہما رے پاس اتنا وقت نہیں کہ ہم اس موضوع کے چیدہ چیدہ نکات کو یاد کر لیں اور موقع پر لو گو ں کو بتائیں ۔ اس بات کا احساس مجھے ایک دوست ڈاکٹر نے دلایا جو انگلستان میں ہوتے ہیں اور یہاں ایک جماعت کے ساتھ آئے تھے ۔ انگلستان میں ڈاکٹر صاحب کے کافی دوست دوسرے مذاہب سے تعلق رکھتے تھے ، وہ ان کو اس موضوع پر صحیح معلومات فراہم کرتے رہتے ہیں ۔ انہوں نے چیدہ چیدہ نکات بتائے، جو میں پیش خدمت کر رہا ہو ں۔  اتوار کے دن ڈاکٹر صاحب اپنے دوستو ں کے ذریعے ” گرجا گھر“ چلے جا تے ہیں ، وہاں اپنا تعارف اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تعارف کراتے ہیں ۔ عیسائی لوگ خاص کر مستورات آپ کی شا دیوں پر اعتراض کرتی ہیں ۔ ڈاکٹر صاحب کے جو جوابات دیتے وہ مندرجہ ذیل ہیں:
میرے پیا رے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عالم شباب میں (25 سال کی عمر میں) ایک سن رسیدہ بیوہ خاتون حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی عمر 40 سال تھی اور جب تک حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ زندہ رہیں آپ نے دوسری شادی نہیں کی۔  50 سال کی عمر تک آپ نے ایک بیوی پر قناعت کی۔ (اگر کسی شخص میں نفسانی خواہشات کا غلبہ ہو تو وہ عالم ِ شباب کے 25 سال ایک بیوہ خاتون کے ساتھ گزارنے پر اکتفا نہیں کرتا ) حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ کی وفا ت کے بعد مختلف وجوہات کی بناء پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکا ح کئے ۔ پھر اسی مجمع سے ڈاکٹر صاحب نے سوال کیا کہ یہاں بہت سے نو جوان بیٹھے ہیں ...... آپ میں سے کون جوان ہے جو 40 سال کی بیوہ سے شا دی کرے گا....؟ سب خاموش رھے ۔  ڈاکٹر صاحب نے ان کو بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کیا ہے ، پھر ڈاکٹر صاحب نے سب کو بتایا کہ جو گیارہ شادیاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہیں سوائے ایک کے، باقی سب بیوگان تھیں ۔ یہ سن کر سب حیران ہوئے ۔
پھر مجمع کو بتایا کہ جنگ اُحد میں ستر صحابہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے ۔ نصف سے زیادہ گھرانے بے آسرا ہوگئے ، بیوگان اور یتیموں کا کوئی سہارا نہ رہا۔ اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ کو بیوگان سے شادی کرنے کو کہا ، لوگوں کو تر غیب دینے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سودہ رضی اللہ عنہا

  (3) حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور   ◀ (4)حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہ سے مختلف اوقات میں نکاح کیے ۔ آپ کو دیکھا دیکھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے بیوگان سے شادیاں کیں جس کی وجہ سے بے آسرا گھرانے آباد ہوگئے -
◀ (5) عربوں میں کثرت ازواج کا رواج تھا۔ دوسرے شادی کے ذریعے قبائل کو قریب لانا اور اسلام کے فروغ کا مقصد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے  پیش,نظر تھا۔    ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ عربو ں میں دستور تھا کہ جو شخص ان کا داماد بن جاتا اس کے خلاف جنگ کرنا اپنی عزت کے خلاف سمجھتے۔  ابوسفیان رضی اللہ عنہ اسلام لانے سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا شدید ترین مخالف تھا۔ مگر جب ان کی بیٹی ام حبیبہ رضی اللہ عنہ سے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح ہوا تو یہ دشمنی کم ہو گئی۔ ہوا یہ کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا شروع میں مسلمان ہو کر اپنے مسلمان شوہر کے ساتھ حبشہ ہجر ت کر گئیں ، وہاں ان کا خاوند نصرانی ہو گیا ۔ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے اس سے علیحدگی اختیار کی اور بہت مشکلا ت سے گھر پہنچیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی دل جوئی فرمائی اور بادشاہ حبشہ کے ذریعے ان سے نکاح کیا
.
◀  (6) حضرت جویریہ رضی اللہ عنہ کا والد قبیلہ معطلق کا سردار تھا۔ یہ قبیلہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان رہتا تھا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قبیلہ سے جہاد کیا ، ان کا سردار مارا گیا ۔ حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا قید ہو کر ایک صحابی رضی اللہ عنہ کے حصہ میں آئیں ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے مشورہ کر کے سر دار کی بیٹی کا نکاح حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کر دیا اور اس نکاح کی برکت سے اس قبیلہ کے سو گھرانے آزاد ہوئے اور سب مسلمان ہو گئے ۔
◀ (7) خیبر کی لڑائی میں یہودی سردار کی بیٹی حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا قید ہو کر ایک صحابی رضی اللہ عنہ کے حصہ میں آئیں ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے مشورے سے ا ن کا نکاح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کرا دیا ۔
◀ (8)  اسی طر ح میمونہ رضی الله عنہا سے نکاح کی وجہ سے نجد کے علاقہ میں اسلام پھیلا ۔ ان شادیوں کا مقصد یہ بھی تھا کہ لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آسکیں ، اخلاقِ نبی کا مطالعہ کر سکیں تاکہ انہیں راہ ہدایت نصیب ہو ۔
◀ (9) حضرت ماریہ رضی اللہ عنہا سے نکاح بھی اسی سلسلہ کی کڑی تھا۔ آپ پہلے مسیحی تھیں اور ان کا تعلق ایک شاہی خاندان سے تھا۔ ان کو بازنطینی بادشاہ شاہ مقوقس نے بطور ہدیہ کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت اقدس میں بھیجا تھا۔
◀ (10) حضرت زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا سے نکاح متبنی کی رسم توڑنے کے لیے کیا ۔ حضرت زید رضی الله عنہ حضور صلی الله علیہ وسلم کے متبنی کہلائے تھے، ان کا نکاح حضرت زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا سے ہوا ۔ مناسبت نہ ہونے پر حضرت زید رضی الله عنہ نے انہیں طلاق دے دی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کر لیا اور ثابت کر دیا کہ متبنی ہرگز حقیقی بیٹے کے ذیل میں نہیں آتا.
◀ (11)  اپنا کلام جاری رکھتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ علوم اسلامیہ کا سر چشمہ قرآنِ پاک اور حضور اقدس صلی الله علیہ وسلم کی سیرت پاک ہے۔ آپ صلی الله علیہ وسلم کی سیرت پاک کا ہر ایک پہلو محفوظ کرنے کے لیے مردوں میں خاص کر اصحاب ِ صفہ رضی الله عنہم نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ عورتوں میں اس کام کے لیے ایک جماعت کی ضرورت تھی۔ ایک صحابیہ سے کام کرنا مشکل تھا ۔ اس کام کی تکمیل کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی نکاح کیے ۔ آپ نے حکما ً ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہ کو ارشاد فرمایا تھا کہ ہر اس بات کو نوٹ کریں جو رات کے اندھیرے میں دیکھیں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جو بہت ذہین، زیرک اور فہیم تھیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نسوانی احکام و مسائل کے متعلق آپ کو خاص طور پر تعلیم دی ۔
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا 45 سال تک زندہ رہیں اور 2210 احادیث آپ رضی اللہ عنہا سے مروی ہیں ۔ صحابہ کرام رضی اللہ علیہم اجمعین فرما تے ہیں کہ جب کسی مسئلے میں شک ہوتا ہے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس کا علم ہوتا ۔ اسی طرح حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی روایات کی تعداد 368 ہے ۔ ان حالا ت سے ظاہر ہوا کہ ازدواجِ مطہرات رضی اللہ عنہما کے گھر، عورتوں کی دینی درسگاہیں تھیں کیونکہ یہ تعلیم قیامت تک کے لیے تھی اور سار ی دنیا کے لیے  تھی اور ذرائع ابلاغ محدود تھے، اس لیے کتنا جانفشانی سے یہ کام کیا گیا ہو گا، اس کا اندازہ آج نہیں لگایا جا سکتا۔
آخر میں ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ یہ مذکورہ بالا بیان میں گرجوں میں لوگوں کو سناتا  ہوں اور وہ سنتے ہیں ۔ با قی ہدایت دینا تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے ۔ اگر پڑھے لکھے مسلمان ان نکات کو یاد کر لیں اور کوئی بدبخت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر حملہ کرے تو ہم سب اس کا دفاع کریں ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے اور عمل کرنے والا بنائے ۔ (آمین )
بشکریہ: محترم ڈاکٹر شاہد محمود صاحب
مہربانی فرما کر اس پوسٹ شیئر کیجئے!!

کچھ عرصہ قبل  جب ھم ڈاکٹری کا امتحان پاس کر کہ سرکاری ہسپتال میں بطور جونیئر ڈاکٹر تعینات ہوئے تو ایک روز پیشاب آوری میں رکاوٹ  کی تکلیف میں آئے 67 سالہ بزرگ کو پیشاب کی مصنوعی نالی لگانے میں مصروف تھے بلکہ تقریباً لگا ہی چکے تھے اور تھیلی میں کافی مقدار پیشاب جمع کرنے میں کامیاب بھی هو چکے تھے کہ اچانک بابا جی نہایت مشفقانہ انداز میں گویا ہوئے
" پتر جے تو سکولے جا کہ کج  پڑھ لکھ لیا ہوندا تے ایہو جئے کم تے نہ کرنے پیندے "
اور پھر چراغوں میں روشنی نہ رہی
رضویات

اے رحمان و رحیم! تو میری مدد فرما. تجھ سے بہتر کوئی مدد گار نہیں.
تو میری حفاظت فرما تجھ سے بہتر کوئی محافظ نہیں.
تو مجھے راستہ دکھا . تجھ سے بہتر کوئی رہنما نہیں.
قیامت کے دن میرا پردہ رکھ کہ تجھ سے بہتر کوئی رازدار نہیں.
یہ دعا میرے لئے، میرے خاندان، دوست احباب اور تمام مسلمانوں کے حق میں قبول فرمالے بیشک تجھ سے بہتر کوئی سننے والا نہیں.
آمین یارب العالمین..‎!!‎

پورا مہینہ محنت کے بعد تنخواہ ملے اور کوئی جںب کاٹ جائے تو دل کی کیا حالت ہوتی ہے
اسی طرح پورا مہینہ *بھوکا پیاسا رہ کر، گھنٹوں تلاوتِ قرآن کرکے، تراویح میں خود کو تھکا کے، دعاؤں میں گڑگڑاکے، اور سحری میں نیند کو مارکر بھی*
*اگر زبان سے....*
-غیبت نہ چھوڑی
-دوسروں پر طعنہ زنی نہ چھوڑی
-مذاق اڑانا نہ چھوڑا
-دل دکھانا نہ چھوڑا
*اور آنکھ سے....*
- غیر محرم کو دیکھنا نہ چھوڑا
- موبائل کا غلط استعمال نہ چھوڑا
- ٹی وی دیکھنا نہ چھوڑا
تو رمضان کے اختتام پر بھی کنگال ہونگے اور *حالت اسی بد نصیب کی سی ہوگی جسکی مہینے بھر کی کمائی کوئی اور اڑا لے گیا*
اس لئے روزہ رکھئے، پورا رکھئے، اور *زبان اور آنکھ کو گناہوں سے بچائیے*


*كسی شخص کی بہت ہی اچھی کوشش کہ اللہ اسے جزائے خیر عطا کرے کہ تمام قران میں موجود دعاووں کو اس نے بہترین انداز میں جمع کر دیا اسے یاد کریں اور دوسروں کو بھی بھیجیں*                                                           
✅  رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۖ إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا ۖ إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ
✅ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ
✅  رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ
✅ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ ۖ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا ۚ أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ
✅ رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً ۚ إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ
✅ رَبَّنَا إِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِيَوْمٍ لَا رَيْبَ فِيهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ
✅ رَبَّنَا إِنَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ
✅ رَبِّ هَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً ۖ إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاءِ
✅ رَبَّنَا آمَنَّا بِمَا أَنْزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ
✅ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسْرَافَنَا فِي أَمْرِنَا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ
✅رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَٰذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ
✅ رَبَّنَا إِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ ۖ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ
✅ رَبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِي لِلْإِيمَانِ أَنْ آمِنُوا بِرَبِّكُمْ فَآمَنَّا ۚ رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيِّئَاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ
✅ رَبَّنَا وَآتِنَا مَا وَعَدْتَنَا عَلَىٰ رُسُلِكَ وَلَا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۗ إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ
✅ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَٰذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا وَاجْعَلْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ وَلِيًّا وَاجْعَلْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ نَصِيرًا
✅ قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ
✅ رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنْتَ خَيْرُ الْفَاتِحِينَ
✅ رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ
✅ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِلَّذِينَ كَفَرُوا وَاغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا ۖ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
✅ رَبِّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَسْأَلَكَ مَا لَيْسَ لِي بِهِ عِلْمٌ ۖ وَإِلَّا تَغْفِرْ لِي وَتَرْحَمْنِي أَكُنْ مِنَ الْخَاسِرِينَ
✅ رَبِّ أَنْتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ۖ تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ
✅ رَبَّنَا إِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِي وَمَا نُعْلِنُ ۗ وَمَا يَخْفَىٰ عَلَى اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ
✅ رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلَاةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي ۚ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاءِ، رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ
✅ رَبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِي مِنْ لَدُنْكَ سُلْطَانًا نَصِيرًا
✅ رَبَّنَا آتِنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً وَهَيِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا رَشَدًا
✅  قَالَ رَبِّ إِنِّي وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّي وَاشْتَعَلَ الرَّأْسُ شَيْبًا وَلَمْ أَكُنْ بِدُعَائِكَ رَبِّ شَقِيًّا
✅ قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي, وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي, وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِنْ لِسَانِي, يَفْقَهُوا قَوْلِي، رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا
✅ لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ
✅ رَبِّ لَا تَذَرْنِي فَرْدًا وَأَنْتَ خَيْرُ الْوَارِثِينَ
✅ أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ
✅  رَبِّ أَنْزِلْنِي مُنْزَلًا مُبَارَكًا وَأَنْتَ خَيْرُ الْمُنْزِلِينَ
✅ رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ، وَأَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَنْ يَحْضُرُونِ
✅ رَبَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَأَنْتَ خَيْرُ الرَّاحِمِينَ
✅ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ ۖ إِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا
✅ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا
✅ رَبِّ هَبْ لِي حُكْمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ، وَاجْعَلْ لِي لِسَانَ صِدْقٍ فِي الْآخِرِينَ، وَاجْعَلْنِي مِنْ وَرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيمِ، وَلَا تُخْزِنِي يَوْمَ يُبْعَثُونَ، يَوْمَ لَا يَنْفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ، إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ.
✅ رَبِّ نَجِّنِي وَأَهْلِي مِمَّا يَعْمَلُونَ
✅  رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ وَأَدْخِلْنِي بِرَحْمَتِكَ فِي عِبَادِكَ الصَّالِحِينَ
✅ رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي، رَبِّ انْصُرْنِي عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِينَ
✅ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَحْمَةً وَعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِينَ تَابُوا وَاتَّبَعُوا سَبِيلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ
✅ رَبَّنَا وَأَدْخِلْهُمْ جَنَّاتِ عَدْنٍ الَّتِي وَعَدْتَهُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ آبَائِهِمْ وَأَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيَّاتِهِمْ ۚ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
✅ رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ إِنَّا مُؤْمِنُونَ
✅ رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ وَأَصْلِحْ لِي فِي ذُرِّيَّتِي ۖ إِنِّي تُبْتُ إِلَيْكَ وَإِنِّي مِنَ الْمُسْلِمِينَ
✅ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ
✅ رَبَّنَا عَلَيْكَ تَوَكَّلْنَا وَإِلَيْكَ أَنَبْنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ، رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِلَّذِينَ كَفَرُوا وَاغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا ۖ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
✅ رَبَّنَا أَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا وَاغْفِرْ لَنَا ۖ إِنَّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
✅ رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ... وَنَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ
✅ رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا، إِنَّكَ إِنْ تَذَرْهُمْ يُضِلُّوا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوا إِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا
✅ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَيْتِيَ مُؤْمِنًا وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَلَا تَزِدِ الظَّالِمِينَ إِلَّا تَبَارًا
✅  رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ
✅ اللَّهُمَّ رَبَّنَا... ارْزُقْنَا وَأَنْتَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ
✅ رَبَّنَا آمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ
*ﺃﺭﺳﻠﻬﺎ ﻭﺍﺣﺘﺴﺐ ﺍﻷﺟﺮ ﻋﻨﺪ ﺍلله  والله ولي التوفيق*


المنان  ( اللہ سبحانہ تعالی ایسا احسان کرنے والا ہے)
جو سوال  سے پہلے عطا کر دیتاہے. سبحان اللہ سبحان اللہ
اس کو پڑھ کے لگ رہا ہے اللہ کا یہ نام پہلی بار پڑھا ہے
المنان اللہ کی یہ صفت جان کر ایسی دل میں سیری اور وسعت محسوس ہو رہی ہےاتنی خوشی ہو رہی ہے کہ ہم ایسی ذات و صفات والے سے وابستہ ہیں
اور ساتھ ہی ایسی شرمندگی اور افسوس بھی ہے کہ اللہ کو ایسے پہلے کیوں نہیں جانا
اس سےاس طرح مانگا کیوں نہیں جیسی اس کی دینے کی صفت ہے هم اپنےمحدود وسائل و کمزوریوں کو دیکھ کر مایوس ہوتے رہتے ہیں
اس وقت یاد ہی نہیں رہتا کہ جس سے سوال كرنا ہے  وہ کثیر المن والاحسان ہے
اب احساس ہو رہا ہے کہ بذات خود اس پر بھی توبہ واجب ہے کہ ہم نےاللہ عزوجل سے ایسے مانگا ہی نہیں جیسی کہ اس کی دینے کی صفت ہے
ہمارے پاس آج جو کچھ ہے اس میں سے ۹۹ % وہ ہے جو بن مانگے اس کی رحمت سے ملا ہے
سوچیۓ !
اگر ہر چیز مانگ کے ملا کرتی تو ہم اللہ کی ذات و صفات کی کتنی معرفت رکھتے ہیں کہ اس سے مانگ کے لینے کا حق ادا کر پاتے آج ہمارےپاس کتنی نعمتیں ہوتیں ؟
ہم اپنے بظاہر وسائل  کے مطابق ہی مانگتے ہیں اگر کوئ چیز بعید ہو تو اللہ سے بھی اس کی امید کھو بیٹھتے ہیں کہ اس کی قدرت سے ابھی واقف ہی نہیں ہیں اس پر تو خود استغفار واجب ہے
اللہ سبحانہ و تعالی ہمیں اپنی معرفت کے ذریعہ اپنی عبادت کی لذت
عطا فرما دے .
لیکن سبحان اللہ
ایسا سینہ کھل گیا ہے ایسی راحت و خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ یہ ہی تو ہم چاہتے ہیں کوئ ایسا ہو جو بن کہے سمجھ سکے اور وہ ذات جوسوال سے پہلے عطا کر دے
سبحان اللہ اب اپنی زندگی کے بہت سے وہ لمحات واقعات یاد آ رہے ہیں جب دل ہی دل میں بس ایک کیفیت ہوتی ہے کہیں اندر خانہ کوئ خواہش خاموش سی دعا  بنتی ہےاورپھر کچھ عرصہ بعد حالات اس دعا کی قبولیت میں ڈھل جاتے ہیں اس وقت خیال آتا ہے
کہ يه خواہش ضرور تھی لیکن وہم و گمان میں نہیں تھا کہ اللہ کی ذات  اس وقت اور وہاں سے ایسی عمدہ سبیل کر دے گی  
جہاں سے گماں تک نہیں تھا اس وقت وہ ساری بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ یہ وہی ندا خفیہ کا جواب ہے
سچ ہے !
المنان.....
وہ ذات جو
سوال سے پہلے
عطا کر دیتاہے

no image


"A friend will not (literally) share your struggles, and​ a loved one cannot physically take away your pain, and a close one will not stay up the night on your behalf...so look after yourself, protect it, nurture it...and don't give life's events more than what they are really worth...Be certain that when you break no one will heal you except you, and when you are defeated no one will give you victory except your determination...your ability to stand up again and carry on is your responsibility...Do not look for your self ​-​worth in the eyes of people; look for your worth from within your conscious...if your conscious is at peace then you will ascend high...and if you truly know yourself then what is said about you won't harm you.

Do not carry the worries of this life... because this is for ​God​...and do not carry the worries of sustenance because it is from ​God​...and do not carry the anxiety for the future because it is in the
​control​ of God...
Carry one thing: How to Please God​. Because if you please Him, He Pleases you, fulfils you and enriches you. Do not weep from a life that made your heart weep...just say "oh ​God​...compensate me with good in this life and the hereafter".

Sadness departs with a sajdah...happiness comes with a sincere du'a...Allah Does Not forget the good you do...nor Doe He Forget the good you did to others and the pain you relieved them from...Nor Will He Forget the eye which was about to cry but you made it laugh...

​​Live your life with this principle: Be good even if you don't receive good...not because of other's sake but because Allah Loves the good doers".
Subhanallah!

غور سے پڑھئے...!!
دﻭﺩﮪ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﯽ
ﺷﮩﺪ ﻣﯿﮟ ﺷﯿﺮﮦ
ﮔﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﻤﯿﮑﻞ
ﻣﺮﻏﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﻧﺘﮍﯾﺎﮞ
ﮨﻠﺪﯼ ﻣﯿﮟ ﻣﺼﻨﻮﻋﯽ ﺭﻧﮓ
ﺳﺮﺥ ﻣﺮﭺ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﻨﭩﻮﮞ ﮐﺎ ﺑُﻮﺭﺍ
ﮐﺎﻟﯽ ﻣﺮﭺ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻮﮌﮮ ﮐﺎ ﺩﺍﻧﮧ اور پپیتے کے بیج
ﺟﻮﺱ ﻣﯿﮟ ﺟﻌﻠﯽ ﺭﻧﮓ ﺍﻭﺭ ﻓﻠﯿﻮﺭﺯ
چائے کی پتی میں چنے کے چھلکے
آٹے میں ریتی
چنے کے آٹے میں لکڑی کا بھوسہ
پھلوں میں میٹھے انجکشن
سبزیوں پر کلر
پیٹرول میں ایرانی تیل
بچوں کی چیزوں میں زہر آلود مٹیریل
ﺑﮑﺮﮮ ﮐﮯ ﮔﻮﺷﺖ ﮐﻮ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﺍﻧﺠﮑﺸﻦ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﻭﺯﻥ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮐﺮﻧﺎ
بھینس کو دودھ بڑھانے کے ٹیکے لگانا
ﺷﻮﺍﺭﻣﮯ ﮐﮯ ﮔﻮﺷﺖ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﺘﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﻠﯿﺎﮞ
ﺷﺎﺩﯾﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﯼ ﮨﻮﺋﯽ ﻣﺮﻏﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﮔﻮﺷﺖ
ﻣﻨﺮﻝ ﻭﺍﭨﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﻠﮑﮯ ﮐﺎ ﭘﺎﻧﯽ
ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﻣﺎﺭﮐﯿﭧ ﻣﯿﮟ ﺟﻌﻠﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﭘﯽ ﻓﻮﻥ
ﺟﻌﻠﯽ ﺻﺎﺑﻦ، ﺟﻌﻠﯽ ﺳﺮﻑ، ﺟﻌﻠﯽ ﺷﯿﻤﭙﻮ ﻣﮕﺮ ﺳﺐ ﺍﻭﺭﯾﺠﻨﻞ ﭨﯿﮕﺰ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ
ﺩﻭ ﻧﻤﺒﺮ ﺍﺩﻭﯾﺎﺕ ﺍﺻﻠﯽ ﭘﯿﮑﻨﮓ ﻣﯿﮟ
ہسپتالوں میں جعلی ڈاکٹرز
مساجد کے منبروں پر بے عمل عالم
سیرت مصطفیٰ کریم ﷺ بیان کرنے کی اجرت
ثناخوانی کرنے کا ہدیہ
بازاروں میں بدنگاہی اور جھگڑے
ﺍﻣﺘﺤﺎﻧﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﻧﻘﻞ
اسکولوں میں مخلوط تعلیمی نظام
ﻧﺎﭖ ﺗﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﮐﻤﯽ
ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﻣﻨﺎﻓﻘﺖ
ﻧﻮﮐﺮﯼ ﻣﯿﮟ ناجائز ﺳﻔﺎﺭﺵ ﻭﺭﺷﻮﺕ
ﺑﺠﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﮨﯿﺮﺍ ﭘﮭﯿﺮﯼ
بے ریش چہرے
بے نمازی پیشانیاں
عبایوں میں فیشن
ﺷﺎﺩﯼ ﺑﯿﺎﮦ ﭘﺮ  ﻣﺠﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﻓﺎﺋﺮﻧﮓ
پڑوسیوں سے بدسلوکی
استادوں سے بدتمیزی
بغیر عمل کا علم
مساجد ویران...سینما گھر آباد
میاں بیوی میں نفرت
بچوں پر سختی
ﻋﺒﺎﺩﺕ ﻣﯿﮟ ﺭﯾﺎﮐﺎﺭﯼ اور تکبر
اخلاقی طور پر دیوالیہ قوم سے کچھ بھی بعید نہیں، حتی کہ کچھ روپے کی خاطر  قتل بھی.
من حیث القوم تو ہم کب کے مرچکے،،،
ایک بے سمت ہجوم...!!
ایک ایسا ریوڑ جو سات عشروں میں بھی اپنی درست سمت کا تعین نہ کرسکا.
ان تمام باتوں کے بعد حیرت زدہ و حیرت کدہ ہیں کہ ﮨﻢ صرف ﺣﮑﻤﺮﺍﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﻏﻠﻂ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ کبھی اپنے بارے سوچا...؟
سوچیے  گا ضرور ۔۔۔