تازہ ترین

no image

سورہ الزمر آیت نمبر 10 قُلۡ یٰعِبَادِ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوۡا رَبَّکُمۡ ؕ لِلَّذِیۡنَ اَحۡسَنُوۡا فِیۡ ہٰذِہِ الدُّنۡیَا حَسَنَۃٌ ؕ وَ اَرۡضُ اللّٰہِ وَاسِعَۃٌ ؕ اِنَّمَا یُوَفَّی الصّٰبِرُوۡنَ اَجۡرَہُمۡ بِغَیۡرِ حِسَابٍ

﴿۱۰﴾ ترجمہ: کہہ دو کہ : اے میرے ایمان والے بندو ! اپنے پروردگار کا خوف دل میں رکھو۔ بھلائی انہی کی ہے جنہوں نے اس دنیا میں بھلائی کی ہے، اور اللہ کی زمین بہت وسیع ہے۔ (٦) جو لوگ صبر سے کام لیتے ہیں، ان کا ثواب انہیں بےحساب دیا جائے گا۔

تفسیر: 6: یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ اگر اپنے وطن میں دین پر عمل کرنا ممکن نہ ہو، یا سخت مشکل ہوجائے تو وہاں سے ہجرت کرکے ایسی جگہ چلے جاؤ جہاں دین پر عمل کرنا نسبۃً آسان ہو، اور اگر وطن چھوڑنے سے تکلیف ہو تو اس پر صبر کرو، کیونکہ صبر کا ثواب بےحساب ہے

آسان ترجمۂ قرآن مفتی محمد تقی عثمانی

https://goo.gl/2ga2EU

 
 
میں نے اپنی عمر بتائی اور ان کی پوچھی تو معلوم ہوا ۹۵ برس کے تھے اور ان کی والدہ کا انتقال ۱۰۵ برس کی عمر میں ہوا تھا 
میں نے زرا ہچکچاہٹ سے پوچھا کہ اچھی صحت کا راز تو بتائیں
کہنے لگے بس بیمار نہ پڑو؟
میں نے کہا یہ تو ہمارے بس کی بات نہیں۔
ھنستے ہوئے کہنے لگے بس کی بات ہے
میں نے کہا آپ بتائیں میں ضرور عمل کرونگا
میرے قریب آکر آہستہ سے کہنے لگے منہ میں کبھی کوئی چیز بسم اللّٰہ کے بغیر نہ ڈالنا چاہے  پانی کا قطرہ ہو یا چنے کا دانہ؟
مین خاموش سا ہوگیا
 
پھر کہنے لگے اللّٰہ نے کوئی چیز بے مقصد اور بلاوجہ نہیں بنائی ہر چیز میں ایک حکمت ہے اور اس میں فائدے اور نقصان دونوں پوشیدہ ہیں- جب ہم کوئی بھی چیز بسم اللّٰہ پڑھ کر منہ میں ڈالتے ہیں تو اللّٰہ اس میں سے نقصان نکال دیتا ہے-
 
ہمیشہ بسم اللّٰہ پڑھ کر کھاؤ پیو اور دل میں بار بار خالق کا شکر ادا کرتے رہو اور جب ختم کرلو تو بھی ہاتھ اٹھا کر شکر ادا کرو کبھی بیمار نہ پڑوگے- میری انکھیں تر ہوچکی تھیں ہماری مسجدوں کے ملا اور عالموں سے یہ کتنا بڑا عالم تھا؟
دیر ہورہی تھی میں سلام کرکے اٹھنے لگا تو میرا ہاتھ پکڑ کر کہنے لگے، کھانے کے حوالے سے آخری بات بھی سنتے جاؤ،
میں جی کہہ کر پھر بیٹھ گیا
 
کہنے لگے اگر کسی کے ساتھ بیٹھ کر کھا رہے ہو تو کبھی بھول کے بھی پہل نا کیا کرو چاہے کتنی ہی بھوک لگی ہو پہلے سامنے والی کی پلیٹ میں ڈالو اور وہ جب تک لقمہ اپنے منہ میں نہ رکھ لے تم نہ شروع کیا کرو
 
میری ہمت نہیں پڑ رہی تھی کہ اسکا فائدہ پوچھوں؟
لیکن وہ خود ہی کہنے لگے یہ تمہارے کھانے کا صدقہ ادا ہوگیا اور ساتھ ہی اللّٰہ بھی راضی ہوا کہ تم نے پہلے اس کے بندے کا خیال کیا- یاد رکھو غذا جسم کی اور بسم اللّٰہ روح کی غذا ہے- اب بتاؤ کیا تم ایسے کھانے سے بیمار پڑ سکتے ہو؟

میں بے ساختہ ان کے چہرے پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر تیزی سے جانے کے لئے مڑ گیا کہ دین کی چھوٹی چھوٹی باتوں سے ہمُ اور ہماری اولاد کتنی محروم ہے
عالم ڈائری مورخہ ۶ اپریل ۲۰۱۹  .


Ibn 'Abbas (RA) said, "There are 360 joints and each of them owes sadaqa every single day. Every good word is sadaqa. A man's helping his brother is sadaqa. A drink of water which he gives is sadaqa. Removing something harmful from the road is sadaqa."

(Sahih, Al-Albani, Book 24, Hadith 4)
 
اسلام  خیر خواہی امن اور محبت کا دین ہے اسلام کا حسن حقیقی تو حسن اخلاص اور بھائی چارہ ہے

عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « وَالَّذِى نَفْسِى بِيَدِهِ لاَ يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّى يُحِبَّ لِجَارِهِ - أَوْ قَالَ لأَخِيهِ - مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ » [متفق علیه]


''حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
'' اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! کوئی بندہ مومن نہیں ہوتا یہاں تک کہ اپنے بھائی کےلئے وہی پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔

''
الله پاک قرآن مجید میں فرماتے ہیں
﴿تِلْكَ الدَّارُ الْآخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِينَ لَا يُرِيدُونَ عُلُوًّا فِي الْأَرْضِ وَلَا فَسَادًا وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ﴾[القصص:28/ 83]
'' یہ آخری گھر ہم ان لوگوں کے لئے بناتے ہیں جو زمین میں نہ بلندی کا ارادہ رکھتے ہیں نہ فساد کا اور اچھا انجام پرہیز گاروں کے لئے ہے۔''






"بی بی جی! میں آ جاؤں؟ " پروین نے ٹوکری سے کوڑا اپنی کچرا گاڑی میں منتقل کرتے ہوئے بی بی جان سے پوچھا،
"ہاں ہاں، کیوں نہیں! تم سامنے نل سے ہاتھ دھو کر آؤ، تب تک میں ناشتہ منگواتی ہوں"  بی بی جان نے شفقت بھرے انداز میں پروین کو جواب دیا اور ساتھ ہی اپنی بہوؤں کو آواز دینے لگیں ۔
"اری ثروت! انیلہ! بیٹی جلدی سے پروین کے لیے ناشتہ لے آؤ" ۔
" ایک تو میں اس پروین سے بہت تنگ ہوں، پتہ نہیں کیوں بی بی جان کو اس کے عیسائی ہونے سے فرق نہیں پڑتا۔ پھر وہ کوڑا اٹھانے والی گندی عورت! ہونہہ ثروت بیگم دانت کچکچاتے ہوئے ناشتہ بنانے لگیں" ۔
 ہاں بھابی! مجھے بھی اس گھر میں دو سال تو ہونے کو آئے ہیں، میں بھی یہی دیکھ رہی ہوں کہ پورے "پروٹوکول" کے ساتھ "کوڑا اٹھانے والی" پروین صاحبہ کو ہر صبح ٹرے میں ناشتہ پیش کیا جاتا ہے۔ کچھ کہو تو یہ کہہ کر خاموش کروا دیا جاتا ہے کہ اسلام تلوار سے نہیں اخلاق سے پھیلا ہے انیلہ بیگم بھی برا مناتے ہوئے گویا ہوئیں ۔
"تم دو سال کی بات کر رہی ہو؟ میری شادی کو ساڑھے تین سال ہو چکے ہیں۔ اس سے بھی پہلے پتہ نہیں کب سے یہ سلسلہ پوری آب و تاب سے چل رہا ہے"  ثروت بیگم نےکہا اور بے دلی سے ٹرے سجائی اور مصنوعی مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے لان میں بیٹھی پروین کے سامنے رکھی اور پلٹ گئیں ۔
"لو کھاؤ کھاؤ! اور ہاں دیکھو پیٹ بھر کر کھانا، روٹی اور چاہیے تو لے لینا"۔ ہمارے پیارے نبی صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کا فرمان ہے کہ "بھوک اور تکلف کو ایک جگہ اکٹھا مت کرو "۔ بی بی جان نے اس کے سامنے جگ سے پانی نکال کر رکھتے ہوئے کہا مگر دوسرے ہی لمحے حیران رہ گئیں ۔ پروین نے کھانا کھانے کی بجائے منہ پر ہاتھ رکھ کر رونا شروع کر دیا تیزی سے نکلنے والے آنسو لمحوں میں اس کا چہرہ بھگو چکے تھے ۔
" اری،کیا ہوا؟ پروین! ایسے کیوں رو رہی ہو؟ گھر میں سب ٹھیک تو ہیں نا؟ کوئی مسئلہ تو نہیں؟" بی بی جان نے گھبرا کر ایک ہی سانس میں کئی سوال کر ڈالے اور پروین کی طرف پانی بڑھاتے ہوئے کہا" سب چھوڑو، لو، پہلے پانی پیئو " پروین نے پانی پیا اور کچھ دیر سر جھکا کر بیٹھی رہی۔ اس کی آنسوؤں بھری کچھ سوچتی آنکھیں پل بھر کو بی بی جان پر ٹکیں۔
" بی بی جان! مجھے اپنے نبی کا کلمہ پڑھا دیں میں مسلمان ہونا چاہتی ہوں"۔
" کیا؟۔ ۔ ۔ ک۔ ۔ ک۔ ۔ کیا کہا تم نے ؟" بی بی جان نے بمشکل فقرہ پورا کیا –
" جی بی بی جان! میں باہوش و حواس مسلمان ہونا چاہتی ہوں-" پروین بولی
"تم نے یہ مذہب بدلنے کا اتنا بڑا فیصلہ کس طرح اتنی آسانی سے کر لیا؟"  بی بی جان ابھی تک یقین نہیں کر پا رہی تھیں۔
" آسانی کہاں بی بی جان! چار سال ہو گئے ہیں قطرہ قطرہ چوٹ پڑتے۔ ۔ آپ کو یاد ہے کہ نہیں، مگر مجھے آج بھی وہ دن یاد ھے، جب چار سال پہلے ایک دن بھوک سے تنگ آ کر آپ سے کھانا مانگا تھا تو میرا خیال تھا کہ آپ مجھے کوئی بچی کھچی روٹی شاپر میں ڈال کر دے دیں گی۔ مگر میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب آپ نے صابن سے میرے ہاتھ منہ دھلوا کر ٹرے میں رکھ کر ناشتہ پیش کیا ۔ اور میرے جھجھکنے پر کہا بیٹی! کھا لو۔ ہمارے قرآن میں جگہ جگہ بھوکے کو کھانا کھلانے کا حکم دیا گیا ہے اور یہ حکم صرف کسی مسلمان کے لیے نہیں بلکہ ہر اس شخص کے لئے ہے جو بھوکا ہو ۔ پھر یہ ٹرے میں سجے قیمتی برتن! آپ مجھے عام برتنوں میں دے دیتی میں اسی میں کھا لیتی۔ میرے جھجھکنے پر آپ کا جواب تھا "بیٹی! *یہ کھانا میں تمہیں اللہ کے نام پر کھلا رہی ہوں تو اللہ کے نام پر کھلایا جانے والا کھانا میں کس طرح عام برتنوں میں کھلاؤں؟* میرا دل گوارا نہیں کرے گا " اور پھر اس دن کے بعد سے آج تک میں اس گھر سے پہلے دن کی طرح عزت سے پیٹ بھر کر جاتی ہوں ۔
"مگر یہ تو چار سال سے تمہارا معمول ہے، اب ایسی کیا بات ہوئی کا تم اپنا پیدائشی مذہب چھوڑنے کو تیار ہو گئی ہو؟ " بی بی جان خوشی اور حیرت کی ملی جلی کیفیت میں بولیں ۔
"بی بی جان! آپ میری بات کا یقین کریں یا نہ کریں، میں نے آج رات خواب دیکھا کہ قیامت کا سماں ہے، ہر طرف پریشانی اور خوف کا ڈیرہ ہے، سورج کی تپش ہر چیز پگھلا چکی ہے، ہر طرف شور و غل مچا ہے۔ مجھ ان پڑھ کے پاس وہ الفاظ ہی نہیں جو اس کیفیت کو بتلا سکوں کہ میں چھاؤں کی تلاش میں بھاگتی ہوں، قدموں کے نیچے تپتی زمین پاؤں میں چھالے بنا چکی ہے مگر کہیں پیر رکھنے جتنی بھی ٹھنڈی جگہ نہیں۔ اچانک میں نے کچھ لوگوں کو ایک ٹھنڈی چھاؤں میں دیکھا۔ کیا چھاؤں تھی وہ بی بی جان!! جس میں موجود نہ ہونے کے باوجود اس کی ٹھنڈک کے تصور نے مجھے میرے پاؤں کے چھالے بھی بھلا دئیے اور جب جب۔۔۔ جب میں نے اس چھاؤں تک پہنچنے کی کوشش کی تو مجھے یہ کہہ کر وہاں سے پیچھے ہٹا دیا گیا کہ *یہ اللہ کے عرش کا سایہ ہے اور یہ وہ لوگ ہیں جو اس کے لیے لوگوں سے محبت کرتے ہیں اور اسی کے لیے نفرت* ۔ اور بی بی جان پھر میری آنکھ کھل گئی اور میرے دل نے آپ کے مذہب کے سچا ہونے کی گواہی دی اور میں آپ کے سامنے ہوں۔ مگر آپ کو ایک بات بتاؤں بی بی جان؟ اس چھاؤں میں خوشی سے چمکتا دمکتا چہرہ لئے آپ بھی موجود تھیں۔ میں نے آپ کو خود دیکھا تھا "پروین آنسوؤں کی لڑی میں ہنستے ہوئے خوش ہوکر بولی"۔
حیرت اور مسرت سے بی بی جان کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا اور وہ پروین کو کلمہ پڑھانے کے لیے غسل کرنے کا کہہ کر خود سجدہ شکر ادا کرنے چل پڑیں۔ انہیں کیا خبر تھی کہ چار سال تک *اسم اعظم یعنی اللہ کے نام کا کھانا کھلانے سے جہاں اسے(پروین کو) ہدایت کا نور عطا کیا جائے گا، وہیں خود انہیں(بی بی جان کو) بھی روز ٍ قیامت سایہ عرش کی خوشخبری اسی کے ذریعے پہنچا دی جائے گی* 

۔copied

 

*حضرت مولانا سجاد نعمانی صاحب دامت برکاتہم نے اپنے ماہنامہ ‍‍‍‍‍،، *الفرق‍ان*،، *میں ایک واقعہ لکھا ہے کہ ہماری طالب علمی کے زمانے میں ایک شخص مدرسہ کے گیٹ کے باہر کئی روز سے آتا تھا اور وہ شخص ہاتھ پاؤں سے معزور، اپاہچ تھا چھوٹی سی ریڑی جس پر گھسٹ کر آتا تھا طلبہ نے جب دیکھا کہ روزانہ چھٹی کے وقت یہ یہاں آتا ہے، انہوں نے اپنے اساتذہ سے کہا، استاذ نے فرمایا: کل جب پھر آئے تو مجھے بتانا دوسرے دن وہ شخص پھر گھسٹتے ہوئے گیٹ پر پہنچا تو طلبہ نے اساتذہ کو خبر دے دی جب اس معذور شخص کے قریب پہنچے اور پوچھا آپ یہاں روزانہ آتے ہو اس نے کہا:  جی، تمہیں کھانا چاہئیے، بولا نہیں، کسی کی ضرورت ہے، بولا:  نہیں، حضرت نے پوچھا پھر روز یہاں کیوں آتے ہووہ شخص بولا, میں کئی سال پہلے مولانا یوسف صاحب رح کے ساتھ تین دن جماعت میں لگایا تھا، مولانا یوسف صاحب رح نے فرمایا تھا کہ اگر تم سے کچھ بھی نہ ہوسکے تو علماءکو دیکھ ہی لیا کرو تب سے میں روزانہ یہاں آکر مدرسہ کے ان علماء اور طلباء کو دیکھ کر دل کی پیاس بجھاتا ہوں*


سورہ النور آیت نمبر 31
 
وَ قُلۡ  لِّلۡمُؤۡمِنٰتِ یَغۡضُضۡنَ مِنۡ اَبۡصَارِہِنَّ وَ یَحۡفَظۡنَ فُرُوۡجَہُنَّ وَ لَا یُبۡدِیۡنَ  زِیۡنَتَہُنَّ  اِلَّا مَا ظَہَرَ  مِنۡہَا وَ لۡیَضۡرِبۡنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلٰی جُیُوۡبِہِنَّ ۪ وَ لَا یُبۡدِیۡنَ زِیۡنَتَہُنَّ  اِلَّا  لِبُعُوۡلَتِہِنَّ  اَوۡ اٰبَآئِہِنَّ اَوۡ اٰبَآءِ بُعُوۡلَتِہِنَّ اَوۡ اَبۡنَآئِہِنَّ  اَوۡ اَبۡنَآءِ بُعُوۡلَتِہِنَّ اَوۡ اِخۡوَانِہِنَّ اَوۡ بَنِیۡۤ  اِخۡوَانِہِنَّ اَوۡ بَنِیۡۤ اَخَوٰتِہِنَّ اَوۡ نِسَآئِہِنَّ اَوۡ مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُہُنَّ اَوِ التّٰبِعِیۡنَ غَیۡرِ اُولِی الۡاِرۡبَۃِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفۡلِ الَّذِیۡنَ لَمۡ  یَظۡہَرُوۡا عَلٰی عَوۡرٰتِ النِّسَآءِ ۪ وَ لَا یَضۡرِبۡنَ بِاَرۡجُلِہِنَّ لِیُعۡلَمَ  مَا یُخۡفِیۡنَ مِنۡ زِیۡنَتِہِنَّ ؕ وَ تُوۡبُوۡۤا اِلَی اللّٰہِ جَمِیۡعًا اَیُّہَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ  ﴿۳۱﴾

ترجمہ:
اور مومن عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں، اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، اور اپنی سجاوٹ کو کسی پر ظاہر نہ کریں، سوائے اس کے جو خود ہی ظاہر ہوجائے۔ (١٨) اور اپنی اوڑھنیوں کے آنچل اپنے گریبانوں پر ڈال لیا کریں، اور اپنی سجاوٹ اور کسی پر ظاہر نہ کریں، (١٩) سوائے اپنے شوہروں کے، یا اپنے باپ، یا اپنے شوہروں کے باپ کے، یا اپنے بیٹوں یا اپنے شوہروں کے بیٹوں کے، یا اپنے بھائیوں یا اپنے بھائیوں کے بیٹوں، یا اپنی بہنوں کے بیٹوں کے، یا اپنی عورتوں کے، (٢٠) یا ان کے جو اپنے ہاتھوں کی ملکیت میں ہیں (٢١) یا ان خدمت گزاروں کے جن کے دل میں کوئی (جنسی) تقاضا نہیں ہوتا (٢٢) یا ان بچوں کے جو ابھی عورتوں کے چھپے ہوئے حصوں سے آشنا نہیں ہوئے (٢٣) اور مسلمان عورتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے پاؤں زمین پر اس طرح نہ ماریں کہ انہوں نے جو زینت چھپا رکھی ہے وہ معلوم ہوجائے۔ (٢٤) اور اے مومنو ! تم سب اللہ کے سامنے توبہ کرو، تاکہ تمہیں فلاح نصیب ہو۔

تفسیر:
18: سجاوٹ سے مراد جسم کے وہ حصے ہیں جن پر زیور پہنا جاتا ہے، یا خوشنما کپڑے پہنے جاتے ہیں۔ لہذا اس آیت کریمہ نے عورتوں کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ غیر محرم مردوں کے سامنے اپنا پورا جسم کسی ایسی چادر یا برقع سے چھپائیں جو ان کے سجاوٹ کے مقامات کو چھپالے۔ البتہ ان مقامات میں سے کوئی حصہ کام کاج کے دوران بےاختیار کھل جائے، یا کسی ضرورت کی وجہ سے کھولنا پڑے تو اسے یہ کہہ کر مستثنی کردیا گیا ہے کہ سوائے اس کے جو خود ہی ظاہر ہوجائے۔

تفسیر ابن جریر کے مطابق حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے اس کی تفسیر میں فرمایا کہ اس سے مراد وہ چادر ہے جو عورت نے اوڑھی ہوئی ہو کہ اس کو چھپانا ممکن نہیں ہے۔ اور حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے اس کی تفسیر میں فرمایا کہ ضرورت کے وقت عورت کو اگر اپنا چہرہ اور ہتھیلیوں تک ہاتھ کھولنے پڑیں تو اس آیت نے اس کی بھی اجازت دی ہے۔ لیکن چونکہ چہرہ ہی عورت کے حسن کا اصل مرکز ہوتا ہے۔ اس لیے عام حالات میں اس کو بھی چھپانے کا حکم ہے جیسا کہ سورة احزاب : 59 میں بیان فرمایا گیا ہے البتہ صرف ضرورت کے مواقع پر اسے کھولنے کی اجازت ہے، اور اس حالت میں بھی مردوں کو یہ حکم ہے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں، جیسا کہ پچھلی آیت میں گذرا۔ 19: یہاں سے ان افراد کی فہرست دی جا رہی ہے جن سے عورتوں کو پردہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے 20: بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ اس سے مراد مسلمان عورتیں ہیں، لہذا غیر مسلم عورتوں سے بھی پردہ ضروری ہے، لیکن چونکہ متعدد احادیث سے ثابت ہے کہ غیر مسلم عورتیں ازواج مطہرات کے پاس جایا کرتی تھیں، اس لیے امام رازی اور علامہ آلوسی نے اس بات کو ترجیح دی ہے کہ اپنی عورتوں سے مراد اپنے میل جول کی عورتیں ہیں تو چاہے مسلمان ہوں یا کافر۔ ان سے پردہ واجب نہیں ہے (معارف القرآن) 21: اس سے مراد باندیاں ہیں، چاہے مسلمان ہوں یا غیر مسلم۔ اور بعض فقہاء نے اپنے غلاموں کو بھی اس میں شامل قرار دیا ہے، یعنی ان سے پردہ نہیں ہے۔ 22: قرآن کریم میں اصل لفظ ” تابعین “ استعمال ہوا ہے، اس کے معنی ایسے لوگ ہیں جو کسی دوسرے کے تابع ہوں۔ اکثر مفسرین نے اس کا مطلب یہ بتایا ہے کہ اس زمانے میں کچھ بےعقل قسم کے لوگ ایسے ہوتے تھے جو کسی گھر والے کے اس لیے پیچھے لگ جاتے تھے کہ وہ انہیں کھانا کھلا دے، یا کسی مہمان کے طفیلی بن کر کسی کے گھر میں چلے جاتے تھے اور کھانے کے سوا انہیں کسی سے سروکار نہیں ہوتا تھا، اور نہ ان میں کوئی جنسی خواہش ہوتی تھی۔ البتہ امام شعبی نے فرمایا ہے کہ اس سے مراد وہ نوکر چاکر ہیں جو اتنے بوڑھے ہوچکے ہوں کہ ان کے دل میں عورتوں کی طرف کوئی میلان باقی نہ رہا ہو۔ (تفسیر ابن جریر) 23: یعنی وہ نابالغ بچے جن کو ابھی مرد و عورت کے جنسی تعلقات کا کچھ پتہ ہی نہ ہو۔ 24: یعنی اگر پاؤں میں پازیب پہنی ہوئی ہے تو اس طرح نہ چلیں کہ پازیب کی آواز سنائی دے، یا زیوروں کے ایک دوسرے سے ٹکرا کر بجنے کی آواز غیر محرم مرد سنیں۔
آسان ترجمۂ قرآن مفتی محمد تقی عثمانی
https://goo.gl/2ga2EU


سورہ النور آیت نمبر 32

 وَ اَنۡکِحُوا الۡاَیَامٰی مِنۡکُمۡ وَ الصّٰلِحِیۡنَ مِنۡ عِبَادِکُمۡ وَ اِمَآئِکُمۡ ؕ اِنۡ یَّکُوۡنُوۡا فُقَرَآءَ یُغۡنِہِمُ اللّٰہُ مِنۡ فَضۡلِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۳۲﴾ 

ترجمہ: تم میں سے جن (مردوں یا عورتوں) کا اس وقت نکاح نہ ہو، ان کا بھی نکاح کراؤ، اور تمہارے غلاموں اور باندیوں میں سے جو نکاح کے قابل ہوں، ان کا بھی۔ اگر وہ تنگ دست ہوں تو اللہ اپنے فضل سے انہیں بےنیاز کردے گا۔ (٢٥) اور اللہ بہت وسعت والا ہے، سب کچھ جانتا ہے۔ 

تفسیر: 25: اس سورت میں جہاں بےحیائی اور بدکاری کو روکنے کے لیے مختلف احکام دئیے گئے ہیں، وہاں انسان کی فطرت میں جو جنسی خواہش موجود ہے، اس کو حلال طریقے سے پورا کرنے کی ترغیب بھی دی گئی ہے، چنانچہ اس آیت میں یہ تلقین کی گئی ہے کہ جو بالغ مرد و عورت نکاح کے قابل ہوں، تمام متعلقین کو یہ کوشش کرنی چاہیے کہ ان کا نکاح ہوجائے، اور یہ اندیشہ نہ کرنا چاہیے کہ اگرچہ اس وقت تو وسعت موجود ہے، لیکن نکاح کے نتیجے میں بیوی بچوں کا خرچ زیادہ ہونے کی وجہ سے کہیں مفلسی نہ ہوجائے، بلکہ جب اس وقت نکاح کی وسعت موجود ہے تو اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر نکاح کرلینا چاہیے۔ پاک دامنی کی نیت سے نکاح کیا جائے گا تو اللہ تعالیٰ آئندہ اخراجات کا بھی مناسب انتظام فرما دے گا۔ البتہ اگلی آیت میں ان لوگوں کا ذکر ہے جن کے پاس اس وقت بھی نکاح کی وسعت نہیں ہے۔ ان کو یہ تاکید کی گئی ہے کہ جب تک اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان میں وسعت پیدا کرے، اس وقت تک وہ پاک دامنی کے ساتھ رہیں۔

 آسان ترجمۂ قرآن مفتی محمد تقی عثمانی





سورہ النور آیت نمبر 37 رِجَالٌ ۙ لَّا تُلۡہِیۡہِمۡ تِجَارَۃٌ وَّ لَا بَیۡعٌ عَنۡ ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ اِقَامِ الصَّلٰوۃِ وَ اِیۡتَآءِ الزَّکٰوۃِ ۪ۙ یَخَافُوۡنَ یَوۡمًا تَتَقَلَّبُ فِیۡہِ الۡقُلُوۡبُ وَ الۡاَبۡصَارُ ﴿٭ۙ۳۷﴾ 

ترجمہ: جنہیں کوئی تجارت یا کوئی خریدوفروخت نہ اللہ کی یاد سے غافل کرتی ہے نہ نماز قائم کرنے سے اور نہ زکوٰۃ دینے سے (٣٣) وہ اس دن سے ڈرتے رہتے ہیں جس میں دل اور نگاہیں الٹ پلٹ کر رہ جائیں گی۔ 

تفسیر: 33: پچھلی آیت میں یہ بیان تھا کہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے، نور ہدایت تک پہنچا دیتا ہے۔ اب ان لوگوں کی خصوصیات بیان فرمائی جا رہی ہیں۔ جنہیں اللہ تعالیٰ نے نور ہدایت تک پہنچایا ہے۔ چنانچہ اس آیت میں فرمایا گیا ہے کہ یہ لوگ مسجدوں اور عبادت گاہوں میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے ہیں۔ یہ مسجدیں اور عبادت گا ہیں ایسے گھر ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا حکم یہ ہے کہ ان کو بلند مرتبہ دے کر ان کی تعظیم کی جائے۔ پھر یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ ان عبادت گاہوں میں عبادت کرنے والے دنیا کو بالکل چھوڑ کر نہیں بیٹھتے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق معاشی کاروبار میں حصہ لے کر تجارت اور خریدو فروخت بھی کرتے ہیں، لیکن یہ تجارتی سرگرمیاں ان کو اللہ تعالیٰ کی یاد اور اس کے احکام کی اطاعت سے غافل نہیں کرتیں۔ چنانچہ وہ اپنے وقت پر نماز بھی قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ بھی دیتے ہیں، اور کسی وقت اس حقیقت سے بےپرواہ نہیں ہوتے کہ ایک ایسا دن آنے والا ہے جس میں سارے اعمال کا حساب دینا ہوگا اور وہ دن اتنا ہولناک ہوگا کہ اس میں لوگوں اور خاص طور پر نافرمانوں کے دل الٹ جائیں گے، اور آنکھیں پلٹ کر رہ جائیں گی۔

 آسان ترجمۂ قرآن مفتی محمد تقی عثمانی 

*سورۃ الکہف*
حضرت شیخ ذوالفقار دامت برکاتہم فرماتے ہیں کہ میں  نے دو سال لگائے سورہ الکہف کو سمجھنے میں اور ۱۲۰ تفاسیر کا مطالعہ کیا جن میں اردو اور عربی کی تفاسیر کا مطالعہ کیا اس کے علاوہ ایک فارسی تفسیر بھی تھی۔
ہم اس سورت کو صرف غار والوں کا واقعہ سمجھتے ہیں مگر اصل مدعا جو ہے اس کی طرف کسی کی نظر ہی نہیں گئی۔
تو اس سورت کامقصود/ لب لباب یا سینٹرل آئیڈیا کہہ لیں یہ ہے کہ اللہ اس دنیا میں لوگوں کو آٹھ طرح کے حالات سے آزماتے ہیں، عزت، ذلت، صحت، بیماری، نفع، نقصان، خوشی ، غمی۔

ہر بندہ ہر وقت ان میں سے کسی ایک حال میں ہوتا ہے۔ ان آٹھ کو اگر تقسیم کریں تو دو دو حالات میں تقسیم ہو ں گے۔ تو یا تو اچھے حالات ہوں گے یا برے۔ یعنی یا تو بندہ عزت میں ہوگا یا ذلت میں۔ یا صحت ہو گی یا بیماری۔ تو اللہ دو حالات میں آزماتے ہیں یا تو اچھے یا برے۔ کہ یہ بندہ اچھے حالات میں شکر کرتا ہے یا نہیں اور برے حالات میں صبر کرتا ہے یا نہیں۔
تو دو پیپر بنے ایک شکر کا پیپر اور دوسرا صبرکا پیپر۔ اب اگر بندے نے اچھے حالات میں شکر کیا تو اس نے پیپر کو پاس کیا اور اگر ناشکری کی تو اس پیپر کو فیل کیا ۔ اور اگر صبر کے پیپر میں صبر کیا تو پاس ہوا اور بے صبری کی تو فیل ہوگیا۔



یہ زندگی دار الامتحان ہے جہاں ہم نے دو پیپر دینے ہیں ایک صبر کا دوسراشکر کا۔
اللہ نے جب حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور ان کو بھی ان دو پیپرز میں آزمایا۔ پہلا شکر کا تھا جو کہ جنت کی نعمتیں تھیں، دوسرا درخت کا پھل تھا جو کھانے سے منع کیا گیا تھا تو یہ صبر کا پیپر تھا جس میں شیطان نے ان کو کامیاب نہ ہونے دیا۔



سورہ کہف میں پانچ واقعات ہیں۔



*حضرت آدم علیہ اسلام کاواقعہ۔
یہ قلب ہے اس سورت کا۔ آیتیں تھوڑی ہیں اس لیے پڑھنے والوں کی توجہ ہی نہیں جاتی۔
آدم علیہ السلام کے واقعہ سے پہلے دو واقعات عام الناس کے ہیں جن میں سے ایک اصحاب کہف تھے یہ عام نوجوان تھے اور انہوں نے صبر کا امتحان دیا اور اس پیپر میں پاس ہو کر مقبول بندوں میں شامل ہو گئے، دوسرا واقعہ دو باغوں والے شخص کا تھا یہ بھی عام شخص تھا جس کو مال و دولت دی گئی تھی اس کا پیپر شکر کا تھا کہ تم نے نعمتوں پر شکر کرنا ہے تو یہ فیل ہو گیا۔ اس کے بعد آدم علیہ السلام کا واقعہ اور پھر دو واقعات ہیں خواص کے۔ ایک موسٰی علیہ السلام کا کہ ان سے بھی صبر کا پیپر لیا گیا اور سکندر ذوالقرنین کا شکر کا پیپر تھا اور انہوں نے غرور و تکبر نہیں کیا اور شکر کا پیپر پاس کیا۔ اسی طرح اللہ اولاد آدم سے بھی صبر اور شکر کےپیپر لیتے ہیں۔

کچھ نکات
※ اللہ نے اس سورت کی شروعات میں اپنی الوہیت کا ذکر کیا اور ختم اپنی ربویت کے تذکرے پر کیا۔
※ شروع سورت میں اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عبدیت کا تذکرہ کیا اور اختتام ان کی بشریت پر کیا۔
※ انسان کے لیئے دنیا میں سب سے بڑی بلندی عبدیت ہے۔ اسی لیئے انسان ذکر کرتا ہے تاکہ اللہ کی محبت اس کے دل میں آ جائے۔ اب صرف محبت کا آ جانا مقصود نہیں ہے ، جب محبت آ جائے تو پھر محب ہمیشہ محبوب کو راضی کرنے کی فکر میں رہتا ہے۔ اور رضا کیا ہے اللہ کی تقدیر پر راضی رہنا، اگر اللہ اچھے حالات بھیجے تو شکر کرنا اور برے حالات میں صبر کرنا۔
جب بندے کو یہ مقامِ رضا حاصل ہو جائے تو پھر اس کو مقام عبدیت حاصل ہو جاتا ہے۔
※ عبد کا لفظ اللہ نے اپنے حبیب کے لیئے استعمال کیا۔
مفسرین کی نظر میں عبد وہ ہوتا ہے جس کو اپنے آقا کے سوا کچھ نظر نہ آئے۔ بعض کے نزدیک عبد وہ ہوتا ہے جو اپنے آقا سے کسی بات میں اختلاف نہیں کرتا ، ہر حال میں راضی رہتا ہے، شکوہ نہیں کرتا۔
※ چونکہ اس سورہ کو دجال سے حفاظت کے لیے پڑھنے کا ذکر احادیث میں آتا ہے۔ اس لیےکہ یہ ہمیں اس سے بچاتی ہے۔
※ پہلے دجال کے معنی کو سمجھیں کہ یہ دجل سے نکلا ہے دجل فریب کو کہتے ہیں اور ملمع سازی کرنے کو کہتے ہیں جس طرح تانبے پر سونے کا پانی چڑھا دیا جائے تو وہ اوپر سے کچھ ہو گا اور اندر سے کچھ ،اسی طرح دجال بھی اندر سے کچھ اور ہوگا اور باہر سے کچھ اور۔
آج کے دور میں اسی طرح دجالی تہذیب ہے کہ اوپر سے تو خوش نما نظر آتی ہے مگر اندر سے کچھ اور ہے۔ آج کے دور میں ایمان اور مادیت کی ایک جنگ چل رہی ہے۔ اب اس دور میں اگر اپنا ایمان بچانا ہے تو ہمیں بھی کہف میں گھسنا ہونا ہوگا۔ جی ہاں کہف میں!



※ آج کے زمانے میں پانچ کہف ہیں۔ اگر انسان ان میں داخل ہو جائے تو وہ دجال کے فتنے سے بچ سکتا ہے۔
※ ان میں پہلا کہف ہے مدارس
ان میں جو داخل ہو جائے وہ اپنا ایمان بچانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔



※ دوسرا اللہ والوں کے حلقے اور مجلسیں ہیں
جو لوگ اللہ والوں سے جڑ جاتے ہیں تو وہ لوگ زمانے کے فتنے اور فساد سے محفوظ ہو جاتے ہیں۔



※ تیسرا دعوت و تبلیغ کا کام
یہ بھی کہف کی مانند ہے۔ جو نوجوان صرف سہہ روزہ یا چلہ لگالیتے ہیں وہ نہ صرف اپنا بلکہ اپنے گھر والوں کا دین بھی محفوظ کر لیتے ہیں۔



※ چوتھا قرآن مجید
جو قرآن کے ساتھ نتھی ہو جاتا ہے اس کو پڑھنا ،سیکھنا ،سمجھنا شروع کر دیتا ہے تو وہ بھی اپنا دین بچا لیتا ہے اور قرآن اس کے لئیے کہف بن جاتا ہے۔



※ پانچواں مکہ اور مدینہ
یہ پانچواں کہف ہے۔ احادیث کے مطابق جو بھی ان میں داخل ہو جائے وہ بھی دجال سے محفوظ رہے گا۔

تو یہ پانچ کہف ہیں جن میں داخل ہونے سے انسان اپنے ایمان کو بچا لیتا ہے اور دجال سے محفوظ ہو جاتا ہے۔
اس سورت کا ہر واقعہ ہمیں ایک سبق سکھاتا ہے کہ کس طرح ہم نے خود کو دجال سے بچانا ہے۔

※ اصحاب کہف کے قصے سے یہ سبق ملا کہ ہم کو اپنے ایمان کی حفاظت کے لئیے کسی نہ کسی کہف میں پناہ لینی ہے تاکہ ہم اپنا ایمان بچا لیں اور دجال سے محفوظ رہیں۔
اور ان پانچ کہف کا ذکر اوپر ہو چکا ہے۔
※ صاحب جنتین کے قصے سے یہ سبق ملا
کہ اللہ نے جو مال دیا اس کو اپنی طرف منسوب نہ کرے جیسا کہ اس باغ والے نے کیا اور پکڑ میں آ گیا اور اس نعمت سے محروم کر دیا گیا۔
※ حضرت آدم علیہ السلام کے واقعے سے یہ سبق ملا کہ یہ دنیا ہمارے لیئےدار اقامت ہے  ہمارا اصلی وطن جنت ہے دنیا میں رہ کر دنیا کو اپنا اصلی وطن سمجھ لینا اور ساری محنتیں اور ساری امیدیں دنیا پر لگا دینا بےوقوفی کی بات ہے۔   شیطان بدبخت نے ہمیں چھوٹی قسمیں کھا کھا کر اصلی وطن سے نکالا تھا اب یہاں بھی یہ ہمارا دشمن ہے اور ہم سے گناہ کرواتا ہے تاکہ دوبارہ جنت میں جانے کے قابل نہ رہیں۔ اللہ شر سے بچائے اور ہمارے اصلی گھر جنت میں پہنچا دے۔ آمین
※ موسٰی علیہ السلام کے واقعے سے یہ سبق ملتا ہے کہ ہم دنیا میں جتنا بھی علم حاصل کر لیں ،دنیا میں کوئی نا کوئی ہم سے بھی بڑھ کر جاننے والا ہوگا۔
انسان کبھی بھی اشیاء کی حقیقت کا احاطہ نہیں کر سکتا۔
جب ہم یہ سمجھیں گے کہ ہم سب کچھ جانتے ہیں تو پھر ہم دجال فتنے میں پھنس جائیں گے اس لیے اللہ نے موسی علیہ السلام  کا واقعہ بیان کر دیا تاکہ ہم لوگ یہ نہ سمجھیں کہ ہمیں سب پتا ہے بلکہ یہ کہیں کہ اللہ ہی حقیقت حال کو جانتے ہیں۔
علم اوربھی اس سے کہیں زیادہ  ہے جو ہمارے پاس نہیں ہے، اسی لیئے سورہ کہف   انسان کو دجال کے فتنے سے محفوظ رکھتی ہے اور اس کی ذہن سازی کرتی ہے اور ایسا ذہن بناتی ہے کہ بندہ کا ذہن محفوظ ہو جاتا ہے۔ 
※ حضرت ذوالقرنین کے واقعے سےسبق ملا
حضرت ذوالقرنین جہاں گئے وہ ان کے کوئی دوست  رشتے دار نہیں تھے یا کوئی جاننے والے نہیں تھے کیوں کہ وہ تو ان کی زبان تک نہیں جانتے تھے لیکن پھر بھی انہوں نے ان لوگوں کی مدد کی کیوں کہ وہ اللہ کی رضا کے لیئے اللہ کے بندوں کے بندوں کو نفع پہنچاتے تھے۔ ان سے کوئی پیسہ وغیرہ نہیں مانگتے تھے بلکہ جب انہوں نے کہا کہ ہم آپ کو اس کے لیئے پیسے دیں گے تو انہوں نے انکار کر دیا۔ دوسرا یہ کہ وہ اللہ کی زمین پراللہ کا قانون نافذ کرتے تھے۔ جب ان کو اختیار دیا گیا کہ آپ اس قوم کے ساتھ جو سلوک چاہیں کریں  مطلب چاہیں تو سزا دیں یا اچھا سلوک کریں تو انہوں نے اس قوم کو اللہ کی طرف بلایا تھا اور اپنے اختیار/ طاقت کو  اللہ کے قانون کے نفاذ میں استعمال کیا۔
※ سورہ کہف میں پہلے پانچ واقعات بیان کر کے بندے کے ذہن سازی کی گئی اور اب آخری آیات میں اس ساری سورت کا نچوڑ بیان کی جا رہا ہے جو کہ تین باتیں ہیں :۔
1-جو لوگ دنیا ہی کو بنانے میں لگے رہتے ہیں درحقیقت وہی لوگ خسارہ پانے والے ہیں۔ ہر وقت دنیا اور اس کی لذات کو پانے کی فکر میں رہنا ہے دجالی فتنہ ہےلہذا فقط دنیا ہی کی فکر میں نا رہیں بلکہ آخرت کی بھی سوچیں۔
2-اس کے بعد اللہ نے اپنی صفات کو بیان فرمایا کہ اگر تم اہنے رب کی تعریفوں کو بیان کرو اور سمندر سیاہی بن جائیں اور دوسرا سمندر بھی اس میں ڈال دیا جائے تو تم پھر بھی اپنے رب کی تعریف بیان نہ کرسکو گے۔
3- آخر میں بتایا کہ جو اپنے رب کا دیدار کرنا چاہے، جو کہ سب سے بڑی اور سب سے بڑھ کر نعمت ہے، اس کا کیا طریقہ بتایا کہ وہ شخص دو کام کرے ایک نیک عمل اور دوسرا اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائے اور جو ایسا کرے گا اللہ اس کو اپنا دیدار عطا کریں گے۔
اللہ ہمیں بھی اپنا دیدار عطا فرمائے۔ آمین
سر طور ہو سر حشر ہو ہمیں انتظار  قبول ہے،
وہ کبھی ملیں، کہیں ملیں، وہ کبھی سہی وہ کہیں سہی۔