Page Nav

TRUE

Left Sidebar

False

تازہ ترین

latest

مختلف رنگ کےشربت

حضرت شیخ الحدیث کاندھلوی نوراللہ مرقدہ، نے آپ بیتی* میں اپنی ذات سےمتعلق ایک بڑا دلچسپ واقعہ ذکر کیاہے۔ فرماتےہیں: ایک مرتبہ سف...


حضرت شیخ الحدیث کاندھلوی نوراللہ مرقدہ، نے آپ بیتی* میں اپنی ذات سےمتعلق ایک بڑا دلچسپ واقعہ ذکر کیاہے۔
فرماتےہیں: ایک مرتبہ سفر سےواپسی پر جب میں ریل گاڑی سے اترا تو سخت پیاس محسوس ہوئی سخت گرمی کا موسم تھا لہذا پیاس کافی شدید تھی، پلیٹ فارم کےکنارے ایک سکھ کی دکان تھی جسمیں مختلف رنگ کےشربت تھے۔ میں دوکان پر گیا اور ایک بوتل کی طرف اشارہ کرتےہوۓکہا کہ مجھےوہ فلاں شربت دےدو، سکھ نےمجھے اوپر سےنیچےتک بڑی غور سےدیکھا اور سخت انداز میں بولا جاؤ یہاں سے کوئی شربت وربت نہیں ملےگا، مجھے بڑا غصہ آیا کہ پیسے دیکر لےرہاہوں کوئی پھری کا تھوڑی مانگ رہا یہ سکھ بڑا حاسد قسم کا ہے، اس زمانےمیں انگریزوں نےجو مسلم اور غیر مسلم میں نفرت کرائی تھی ، میں نےسمجھا اسکا ہی کچھ اثر ہے ،

چنانچہ میں باہر آگیا، جو صاحب مجھے لینےآۓتھے میں نے یہ واقعہ انسےنقل کیا کہ وہ سکھ تو بڑا حاسد ہے مجھے پیاس لگی ہےاور اسنےشربت دینےسےانکار کردیا،  وہ صاحب مسکراۓ اور کہا حضرت وہ شربت کی دوکان نہیں شراب کی دوکان تھی، یہ سن کر میں نےآسمان کی طرف چہرا کیا اور کہا الحمدللہ یا میرےاللہ تونےمجھےآج بچا لیا ورنہ اگر ایک گھونٹ بھی پی لیتا تو میرا کیا ہوتا؟ اور دل ہی دل میں اس سکھ بےچارےکا بہت شکر ادا کیا کہ اس نےمجھے شریف آدمی سمجھ کر دینےسےانکار کردیا،
حضرت یہ واقعہ نقل کرنےکےبعد فرماتےہیں :
میرےپیارو تم اگر متقیوں کی سی شکل ہی اختیار کرلو تو بہت سارےخرافات سے بچ جاؤگے،
*منقول از آپ بیتی*
*ترےعشق کی کرامت یہ اگر نہیں تو کیا ہے؟*
*کبھی بےادب نہ گزرا مرےپاس سےزمانہ*
              (استاد جگرؔمردآبادی)