Page Nav

TRUE

Left Sidebar

False

تازہ ترین

latest

اقوام کو عزت اسی وقت ملتی ہے جب وہ اپنی عزت خود کریں

آپ کے محلے میں ایک گھر ہے جس کی حالت خستہ ہوچکی، دیواریں شکستہ اور دروازے ٹوٹے ہوئے، اس گھر میں رہنے والوں کے پاس اللہ کا دیا سب ک...


آپ کے محلے میں ایک گھر ہے جس کی حالت خستہ ہوچکی،
دیواریں شکستہ اور دروازے ٹوٹے ہوئے،
اس گھر میں رہنے والوں کے پاس اللہ کا دیا سب کچھ تھا لیکن وہ اپنی ہڈ حرامیوں اور نالائقیوں کے سبب ان سب نعمتوں کو ضائع کرتے رہے اور کنگال ہوگئے
اس گھر میں جوان لڑکے ہیں جنہوں نے نہ تو علم حاصل کیا اور نہ ہی کوئی ہنر۔ کام کاج کرنے کی بجائے سارا دن فارغ رہتے ہیں۔

گھر والے اپنا خرچہ چلانے کیلئے محلے کے دکانداروں سے سودا سلف ادھار لیتے ہیں اور جب وہ مزید ادھار دینے سے انکار کردے تو اپنے گھر کی اشیا گروی رکھوا کر کچھ قرضہ اتار دیتے ہیں اور مزید قرض لے لیتے ہیں۔
گھر والوں کے پاس ادھار کا سب سازو سامان لیکن عیاشیاں یہ کہ قرضہ لے کر قیمتی کپڑے، مہنگا فرنیچر خرید لیتے ہیں جو نہ تو ان کی آمدن سے مطابقت رکھتا ہے اور نہ ہی ان کی اوقات سے۔

گھر کے مرد حضرات کی اکثریت کے پاس دوسرے محلوں میں اپنا اپنا خفیہ گھر بھی ہے، جب بھی یہ لوگ قرضہ لیتے ہیں یا کہیں سے پیسے آتے ہیں تو بجائے اپنے آبائی گھر کی حالت سنوارنے کے، اپنے اپنے خفیہ گھروں پر پیسہ لگا دیتے ہیں۔
اگر ایسا گھر آپ کے محلے میں ہو، تو کیا آپ اس گھر کے لوگوں سے تعلقات رکھنا پسند کریں گے؟ کیا انہیں اپنی اہم  تقریبات میں بلانا پسند کریں گے؟ کیا ان کے ساتھ اپنے بچوں کو کھیلنے دیں گے؟ یقینناً نہیں۔

یہی مثال پاکستان پر بھی فٹ بیٹھتی ہے۔ اللہ نے ہمارے ملک کو کیا کچھ نہیں دیا۔ ہمارے پھلوں کے ذائقے دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک میں دستیاب نہیں، تمام موسم، زمین پہاڑ ریگستان صحرا دریا اور سمندر، معدنیات سے بھرپور خزانے ۔ ۔ ۔
لیکن ہم ایسے حکمران منتخب کرتے آئے جنہوں نے سوائے اپنی تجوریاں بھرنے کے، ملک کیلئے کچھ نہ کیا۔ یہاں سے جو کچھ بھی کرپشن کے ذریعے کمایا، اسے بیرون ملک شفٹ کرکے اپنی اولادوں کو بھی وہیں منتقل کردیا۔ نہ تو اپنا علاج کبھی ملک میں کروایا نہ ہی اپنی اولاد کو تعلیم یہاں سے دلوائی۔

ایسے ملک کے عوام اگر یہ توقع کریں کہ امریکہ جیسا ملک ہمیں سٹیٹ وزٹ کی دعوت دے، ہمارے حکمرانوں کا ائیرپورٹ پر ریڈ کارپٹ کے ساتھ استقبال کرے، 21 توپوں کی سلامی دے، وائٹ ہاؤس کے ساتھ منسلک مہمان خانے میں تین دن اور چار راتیں فل پروٹول کے ساتھ گزارنے کا موقع دے ۔ ۔ ۔ تو پھر آپ کی یہ توقع محض دیوانے کے خواب سے زیادہ کچھ نہیں۔

اقوام کو عزت اسی وقت ملتی ہے جب وہ اپنی عزت خود کریں۔ ایک طرف آپ ماضی میں چوروں کو اپنا حکمران منتخب کرتے آئے، دوسری طرف آپ خود بھی ٹیکس اور بجلی چوری میں ملوث رہے ۔ ۔ ۔ آپ کو آج تک یہ احساس بھی نہ ہوسکا کہ نوازشریف اور زرداری صرف اور صرف اپنی ذات اور اپنی اولاد کیلئے ہی مخلص ہیں، ملک اور آپ کیلئے نہیں، لیکن اس کے باوجود آپ انہیں ووٹ دیتے آئے، ان کیلئے ڈنڈے کھاتے آئے ۔ ۔ ۔ 

آپ کو عزت کون دے اور کیوں دے؟؟؟؟