سورہ الغافر آیت نمبر 67 
ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ مِّنۡ تُرَابٍ ثُمَّ مِنۡ نُّطۡفَۃٍ ثُمَّ مِنۡ عَلَقَۃٍ ثُمَّ یُخۡرِجُکُمۡ طِفۡلًا ثُمَّ لِتَبۡلُغُوۡۤا اَشُدَّکُمۡ ثُمَّ لِتَکُوۡنُوۡا شُیُوۡخًا ۚ وَ مِنۡکُمۡ مَّنۡ یُّتَوَفّٰی مِنۡ قَبۡلُ وَ لِتَبۡلُغُوۡۤا اَجَلًا مُّسَمًّی وَّ لَعَلَّکُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۶۷﴾
ترجمہ: وہی ہے جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفے سے، پھر جمے ہوئے خون سے۔ پھر وہ تمہیں بچے کی شکل میں باہر لاتا ہے، پھر (وہ تمہاری پرورش کرتا ہے) تاکہ تم اپنی بھر پور طاقت کو پہنچ جاؤ اور پھر بوڑھے ہوجاؤ اور تم میں سے کچھ وہ بھی ہیں جو اس سے پہلے ہی وفات پا جاتے ہیں اور تاکہ تم ایک مقرر میعاد تک پہنچو اور تاکہ تم عقل سے کام لو (18)
تفسیر: 18: یعنی یہ سمجھو کہ جو ذات انسان کو تخلیق کے ان سارے مراحل سے گزار رہی ہے، اس کو کسی اور شریک کی کیا حاجت ہے ؟ اور اس کے سوا کون ہے جو عبادت کے لائق ہو ؟ نیز جس نے انسان کو اتنے سارے مراحل سے گذارا، کیا وہ اسے ایک اور مرحلے سے گزار کر اسے ایک دوسری زندگی نہیں دے سکتی ؟
آسان ترجمۂ قرآن مفتی محمد تقی عثمانی

Post A Comment: