کل کام کے وقفے کے دوران ہم  چائے کیلئے بیٹھ گئے۔باتوں باتوں میں، میں نے ان سے پوچھا کہ رمضان میں آپ لوگوں کا کام کا کیا طریقہ کار ہوتا ہے۔تو وہ بولا کہ لوگوں کے نزدیک رمضان کا مہینہ برکتوں اور رحمتوں کا مہینہ ہے۔لیکن ہم جیسے غریبوں کیلئے یہ انتہائی مشکل مہینہ ہوتا ہے۔کیونکہ ہم اگر اس سخت گرمی میں مزدوری کرتے ہیں۔تو روزہ نھی رکھ سکتے۔اور اگر روزہ رکھتے ہیں۔تو کام نھی کر سکتے۔
   لیکن مسئلہ یہ ہے۔کہ اگر کام نھی کریں گے۔تو پھر کھائیں گے کیا۔۔؟ کیونکہ بچے تو لازمی دوسروں کے بچوں کی طرح افطاری میں پکوڑے ،کھجوریں اور دوسری چیزوں کی ڈیمانڈ کرتے ہیں۔ان کو کیا پتہ کہ باپ پر کیا گزر رہی ہے۔اور ان کو کرنا بھی چاہیئے۔کیونکہ غریب کے گھر پیدا ہونے میں ان کا تو کوئی قصور نھی ہے۔
   اس کی یہ باتیں واللہ ابھی تک ذہن میں گھوم رہی ہے۔رنگین رنگین دسترخوانوں کی سلیفیاں اپ لوڈ کرنے سے بہتر ہے۔کہ ہم ان نادار لوگوں کی دسترخوان رنگین کرنے کی کوشش کریں۔اللہ ہم سب کو ان لوگوں کی مدد کرنے کی توفیق دے۔آمین

Post A Comment: