Page Nav

TRUE

Left Sidebar

False

تازہ ترین

latest

16 ملازمتیں جو اگلی دو دہائیوں میں ختم ہوجائیں گی

کچھ لوگوں کے لئے نئی ٹیکنالوجی اور امکانات کے باعث مستقبل انوکھا اور دلچسپ ہو سکتا ہے۔  لیکن اکثر کے لئے مستقبل ایسا روشن اور شاندار نہ...


کچھ لوگوں کے لئے نئی ٹیکنالوجی اور امکانات کے باعث مستقبل انوکھا اور دلچسپ ہو سکتا ہے۔  لیکن اکثر کے لئے مستقبل ایسا روشن اور شاندار نہیں ہے۔ آکسفورڈ کی ایک تحقیق کے مطابق آئندہ دس سالوں میں 45 فیصد موجودہ ملازمتیں ختم ہونے جارہی ہیں ۔ انمیں سے اکثر وہ ہیں جو یا تو مکمل طور پر خود کار یا کمپیوٹرائزڈ  ہوجائیں گی یا جزوی طور پر انمیں انسانی عمل دخل برائے نام ہی رہ جائے گا۔  مستقبل کی منصوبہ بندی کرتےہوئے   اسبات کا خیال رکھنا ضروری ہوگا کہ آئندہ یہ ملازمتیں باقی بھی رہیں گی یا نہیں۔  یہ وہ 16 ملازمتیں یا نوکریاں ہیں جو آئندہ دس سے بیس سالوں میں معدوم ہونے جارہی ہیں: 

*1۔ ڈرائیورز:*  گاڑیاں ،کاریں  اور ٹرک وغیرہ خود کار  ہونے جارہے ہیں۔ٹیکسی، ٹرک، اوبرز، کریم اور ڈیلیوری ڈرائیورز وغیرہ کی ملازمتیں اس سے متاثر ہوں گی۔ جرمنی میں سیلف ڈرائیونگ ٹرک ٹیکنالوجی اپنے تکمیلی مراحل میں ہے۔(future truck2025 )۔ ٹیسلو کارز مکمل طور پر خود کار ہونے جارہی ہیں۔ تمام لیڈنگ کارانڈسٹریز   الیکٹرک اور سیلف ڈرائیونگ کارز  بنانے کی جانب تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ 

*2۔ کسان  یا کاشتکار:* یہ شعبہ بھی جلد خودکار automatedہونے جارہا ہے۔ صرف چند افراد ہی اس سارے شعبہ کو کنٹرول کر یں گے۔ اسوقت بھی دنیا میں صرف دس بڑی غذائی کمپنیاں ساری دنیا میں لوگوں کو خوراک و مشروبات اور پانی فراہم کر رہی ہیں۔  یہ نیسلے، پیپسی کو ، ٹائسن، کوکا کولا،  یونی لیور، جنرل ملز، کارلوز، JBS وغیرہ ہیں۔
*3۔ پرنٹرز اور پبلشرز:* اخبارات ختم ہوتے جارہے ہیں۔ انٹرنیٹ پرنٹ میڈیا کو تیزی سے ہضم کرتا جارہا ہے۔ ہر قسم کی انفارمیشن ،انتہائی تیزی سے ڈیجیٹل میڈیا پر منتقل ہورہی ہیں۔ 

*4۔ کیشیئرز:*  ایمازون ایک نئی ٹیکنالوجی متعارف کروانے جارہا ہے جسے amazon go کہا جاتا ہے۔ جس میں دورانِ خریداری کوئی انسانی مداخلت نہ ہوگی۔ خریدی گئی اشیاء پر کریڈٹ کارڈ کے ذریعہ خود کار طور پر کٹوتی ہوجایا کرے گی۔ یہ ایڈوانس شاپنگ کی ایک شکل ہے،جسمیں ai cashier ( آرٹیفیشل اینٹلی جنس ) ٹکنالوجی استعمال کی جارہی ہے۔
*5۔ ٹریول ایجنٹس:* booking.com اور skyscanner جیسی سروسز نے فلائیٹ انڈسٹری پر قبضہ کر لیا ہے۔ بکنگ ڈاٹ کام نے ہوٹل انڈسٹری پر اور airbnb نے ہوٹل بزنس پر بحیثیتِ مجموعی کنٹرول کر لیا ہے۔ اب کسی تیسرے شخص کو  ہوٹل روم یا فلائیٹ بکنگ میں مداخلت کرنے کی ضرورت نہیں رہی ہے۔

*6۔ مینوفکچرنگ یا فیکٹری مزدور:* صنعتی انقلاب (1760-1840) کے بعد مزدور ملازمت کے لئے فیکٹریوں اور انڈسٹریز کا رخ کیا کرتا تھا۔ ہینڈ کرافٹ مشینوں سے خود کار مشینوں تک  بتدریج انسانی سرگرمیاں انتہائی محدود یا ختم ہوتی جارہی ہے۔ اب انسانوں کی جگہ مختلف سافٹ ویئرز  ، روبوٹس Roboticsیا مصنوعی ذہانت لے رہی ہے۔ کہا جارہا ہے کہ ْ مستقبل کی فیکٹریوں میں ایک انسان اور ایک کتا ہوا کرے گا انسان اس کتے کو کھلائے گا اور وہ کتا انسان کو مشینوں میں کسی بھی قسم کی مداخلت کرنے سے روکے گا۔ٗٗ 

*7۔ ڈسپیچرز:* یہ ڈسپےچرز عموماً فیلڈ یا مختلف عملی  میدانوں میں مصروفِ کار افراد سے رابطہ کرنے کا ذریعہ ہوا کرتے ہیں۔ چاہے وہ فائر فایٹر ڈسپیچر ہو ں یا ہوائی جہازوں، ایمبولینسوں ، پولیس یا آرمی پرسنلز سے رابطہ کرنے والے ہوں  یا ٹرانسپورٹیشن کمپنیز کی Uber ، careemوغیرہ کے ڈسپیچرز ہوں، مستقبل قریب میں انکی خدمات یا سروسز کی ضرورت باقی نہ رہے گی۔ 

*8۔ ویٹنگ ٹیبل اور باراٹنڈنگ:* ریستوران اسی جانب بڑھ رہے ہیں کہ ویٹرز اور دیگر ہوٹل خدمت گاروں کی ملازمتیں ختم ہوجائیں گی۔ 

*9۔ بینک ٹیلر:* کیش حاصل کرنے کے لئے بینکس جانے کا رجحان مغربی ممالک کے ساتھ ساتھ ترقی پزیر ملکوں میں بھی ختم ہوتا جارہا ہے۔ اس کےلئے ATM مشینیں موجود ہیں۔ اپنا بیلنس اور ڈپازٹ وغیرہ اسمارٹ فون سے ہی چیک کر لیا جاتا ہے۔ اور پیسوں کی ٹرانزیکشن بآسانی کر لی جاتی ہے۔ اب آن لائن بینکنگ کی عام سہولت موجود ہے۔ 

*10۔ ملٹری پائلٹس اور سولجرز: * کسی بھی ملک کی  افواج  کا  ٹکنالوجی سے بہت گہرا تعلق رہا ہے۔ گزشتہ سالوں میں بڑی آرمی کسی بھی ملک کی طاقت ہوا کرتی تھی اب ٹکنالوجی کا کردار بنیادی ہوتا جارہا ہے۔ گھڑ سوار افواج کی کوئی عملی افادیت باقی نہیں۔ ڈرونز ٹکنالوجی اور طیارے بِنا کسی انسانی جان کو خطرے میں ڈالے اپنے ٹارگٹ کو نشانہ بناسکتے ہیں۔ جبکہ ان  Dronesکو مانیٹر کرنے والا دنیا کے دوسرے کنارے پر بیٹھا بآسانی  دنیا کے کسی بھی کونے میں اپنے مطلوبہ ٹارگٹ کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ 

*11۔ فاسٹ فوڈ ورکرز: * فاسٹ فوڈ کمپنیاں KFC، میکڈونلڈ، Dunkin، برجر کنگ، Pizza Hut، ڈومینو وغیرہ کے ملازمین بھی بتدریج فارغ ہونے والے ہیں۔

*12۔ ٹیلی مارکیٹرز:* ٹیلی فون سے متعلق مختلف سروسز کے اہلکار۔ جنکی تمام ڈیوائسز اور  متعلقہ سازو سامان بھی ختم ہونے جارہا ہے۔ 

*13۔ اکاونٹنٹس اور ٹیکس گوشوارے تیار کرنے والے۔* 

*14۔ اسٹاک ٹریڈرز:* اسٹاک مارکیٹ کے ملازمین۔

*15۔ تعمیراتی مزدور:* بڑی بڑی عمارتوں کی تعمیر میں مزدور کا کردار گھٹتا چلا جارہا ہے۔ 

*16۔مووی اسٹارز:* ہیومن ایکٹرز بہت مہنگے ہوا کرتے ہیں، انکے مزاج ، رکھ رکھاو،ناز نخرے اور انکی زندگیوں کے اتار چڑھاو کے باعث  فلم انڈسٹری متاثر ہوتی ہے۔ ایک پروڈکشن میں ایک فلم اسٹار پر ساری انویسٹمنٹ نہیں کی جاسکتی۔  بڑی فلموں میں انکے اسٹارز مثلاً آئرن مین مووی میں اسکے ہیرو کی کیا حیثیت ثانوی اور محض نمائشی ہے ۔ اسکا Computer Generated Imagery)  CGI) ساتھی اسکے مقابلے میں زیادہ اسکرین پر آتا ہے۔ بہت جلد ایسا ہوگا کہ فلم ایکٹرز کوسیٹ پر ہونے کی ضرورت بھی باقی نہ رہے گی۔