جند باپ کی سن کا ڈول اٹھی
اک گڑیا رانی بول اٹھی
میرا بچپن جب سے چھوٹا ہے
تم بابا گم سم رہتے ہو

وہ درد مجھے بھی بتلائو
جو چپکے چپکے سہتے ہو
کل اک زردار کی بیٹی کی
بارات یہاں سے گزری تھی
کیوں آنکھ سے آنسو چھلکے تھے
آواز تیری کیوں ڈوبی تھی

یہ بیٹھی ہے اک مفلس کی
ہاں اس کے شکستہ تن پر بھی
افلاس کا فائر کھلتا ہے 
تذلیل کی گولی چلتی ہے
کبھی رونے سے ڈرتی ہے
کبھی ہنستے ہنستے روتی ہے

اک روز وہ گڑیا رانی یوں
بابا کا درد بٹا بیٹھی

افلاس کے جالوں کو دیکھا
اور زہر کی پڑیا کھا بیٹھی
خود اس کی آنکھیں بند ہوئیں
لوگوں کی آنکھیں کھول گئی
اک لاش لحد میں جا اتری
اور جاتے جاتے بول گئی

تذلیل سہیں گے ہم کب تک
کیوں جینا یہاں آسان نہیں
جو خواب تھا لاکھوں آنکھوں کا
یہ وہ تو پاکستان نہیں

اک طبقہ جس کے کتے بھی
یہاں ناز سے پلتے رہتے ہیں
اک طبقہ جس کے بچے بھی 
یہاں بھوک سے بلتے رہتے ہیں

اک طبقہ ہے جاگیروں میں
اک جکڑا زنجیروں میں
اک طبقہ محل میناروں میں
اک طوفانوں کے دھاروں میں

اک طبقہ چلے تو ساتھ اس کے
لشکر بھی اتارا جاتا ہے
اک طبقہ روز دھماکوں سے
چوکوں میں مارا جاتا ہے

ہم پوچھتے ہیں زر والوں سے
کیا ہم مفلس انسان نہیں
جو خواب تھا لاکھوں آنکھوں کا
یہ وہ تو پاکستان نہیں

Post A Comment: