جب میں پاکستان میں کرولا مہران سٹی سوک کے چھوٹے سے ایکسیڈنٹ کے بعد بدترین حالت دیکھتا ہوں
اور ان کمپنیوں کو مہنگے داموں موت بیچتے دیکھتا ہوں
تو میرے دل میں خیال آتا ہے کیا کوئی بھی شخص پاکستان میں ایسا نہیں ہے جو ان بڑی کمپنیوں پر کیس کرے اور انکو مجبور کرے کہ یہ ہمیں مظبوط گاڑی بنا کر دیں
جنہوں نے اتنی مہنگی گاڑیوں میں کوئی ائیر بیگ نہیں لگائے  فرنٹ سے مظبوطی نہیں بنائی کوئی فرنٹ پر گاڈری نہیں لگائی پلروں کو مظبوط نہیں بنایا
ساری دنیا جیسے کریشنگ ٹیسٹ دیتی ھے اسطرح کوئی کریشنگ ٹیسٹ نہیں دیا
صرف ٹین کی گاڑی تیار کرکے مارکیٹ میں کھڑی کردی
اور راشی افسروں کو پیسے دے کر کر گاڑی پاس کروا کر مارکیٹ میں لاکھوں کی تعداد میں موت بیچ دی
کاش کہ کوئی اٹھے جو پاکستان کو اس حوالے سے بھی حق دلوادے
• معاذ شاہد •

Post A Comment: