موبائیل اخلاقیات سیکھنا بھی لازم ہے

- اگر آپ کو کسی ذریعے سے کسی کا موبائیل نمبر مل گیا ہے تو اب متعلقہ بندے سے رابطہ کرنے کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ آپ اسے ایک مرتبہ کال کرکے دیکھ لیں، اگر وہ فون اٹھا لے تو ٹھیک ورنہ اسے میسیج بھیج دیں کہ میں فلاں ہوں اور فلاں سے آپ کا نمبر ملا یا لیا ہے اور فلاں مقصد کے لئے بات کرنا ہے، برائے مہربانی کال کے لئے فراغت کے کسی وقت کا بتا دیں یا کسی فرصت میں فون کال کرلیں"۔ زیادہ مناسب طریقہ یہ ہے کہ فون کرنے سے پہلے میسیج بھیجیں اور تھوڑی دیر بعد کال کریں۔ اس کے برعکس بعض لوگوں کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ انہیں اگر کہیں سے کسی کا نمبر مل جائے تو لگاتار یا وقفے وقفے سے فون کی گھنٹی بجاتے رہتے ہیں جو میرے حساب سے بدتمیزی ہے۔ بعض لوگ بوجوہ انجان نمبرز کی کال نہیں اٹھاتے اور میں بھی بالعموم ایسا ہی کیا کرتا ہوں۔ 

- اسی طرح کسی کو کال کرتے وقت گھڑی پر وقت دیکھ لینا چاہئے، یہ نہیں کہ کسی کا نمبر کہیں سے مل گیا ہے تو رات کے گیارہ بجے اسے کال ملالو۔

- بعض لوگوں کو یہ شوق ہوتا ہے کہ انہیں کسی کا نمبر مل جائے توویٹس ایپ پر تصاویر، ویڈیوز، اقوال زریں، دینی باتیں وغیرہ شئیر کرنا شروع کردیتے ہیں۔ اس سے بچنا چاہئے، کسی بھی شخص کو بلا وجہ میسیج فاورڈ نہیں کرنا چاہئے، الا یہ کہ آپ کا ٹیلی فون نمبر کے علاوہ بھی اس سے کوئی رابطہ و ملنا ملانا ہو۔ لوگ اپنی طرف سے "اچھے اچھے میسجز" متاثر کرنے کی خاطر بھیجتے ہیں لیکن ان سے کوئی متاثر نہیں ہوتا، میں تو انجان نمبروں کے ایسے ویٹس ایپ میسیجز پڑھے بغیر ہی ڈیلیٹ کردیتا ہوں کیونکہ ان سے موبائیل کی میموری ختم ہوجاتی ہے اور جو بار بار یہ کام کرے اسے بلاک کردیتا ہوں۔ موبائیل کی گھنٹی کا بار بار بجنا بذات خود ایک کوفت ہے جو جتنی کم بجے اتنا اچھا ہوتا ہے۔ 

- ایک آخری اہم بات، اگر آپ کسی کے ساتھ ہم کلام ہیں یا میٹنگ میں بیٹھے ہیں اور کسی کی کال آجائے تو جس سے بات ہورہی ہے پہلے اس سے معذرت کرکے پھر فون اٹھائیں۔ کیا سامنے بیٹھا ہوا شخص ایسا ہی فارغ ہے کہ اس کے ساتھ بات یونہی ختم کرکے فون والے سے بات کرنا شروع کردی جائے؟ اگر آپ سامنے بیٹھے ہوئے شخص کو فون والے کے لئے انتظار کروا سکتے ہیں تو فون والے کا فون نہ اٹھا کر اسے بھی تو انتظار کرواسکتے تھے۔ پھر یہ بھی لازم ہے کہ آپ سامنے بیٹھے ہوئے شخص کو انتظار میں بٹھا کر لمبی کال نہ سننا شروع کردیں۔
چنانچہ ان امور کا خیال رکھنا چاہئے۔
زاہد مغل

Post A Comment: