از:حضرت شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم..


☘.... *صبح کے وقت نفس سے ’’معاہدہ‘‘ (مشارطہ)*
امام غزالی رحمۃاللہ علیہ نے اصلاح کا *ایک عجیب و غریب طریقہ تجویز فرمایا ہے،* اگر ہم لوگ اس طریقے پر عمل کرلیں تو وہ *اصلاح کے لئے نسخۂ اکسیر ہے-* *اس سے بہتر کوئی نسخہ ملنا مشکل ہے،* فرماتے ہیں کہ روزانہ چندکام کرلیا کرو، *ایک یہ کہ جب تم صبح کو بیدار ہوئو تو اپنے نفس سے ایک معاہدہ کرلیا کرو* کہ آج کے دن میں صبح سے لے کر رات کو سونے تک کوئی گناہ نہیں کروں گا، اور میرے ذمے جتنے فرائض و واجبات اور سنتیں ہیں ، ان کو بجالاؤں گا، اور جو میرے ذمے حقوق اللہ اور حقوق العباد ہیں ، ان کو پورے طریقے سے ادا کروں گا، اگر غلطی سے اس معاہدہ کے خلاف کوئی عمل ہوا تو اے نفس! اس عمل پر تجھے سزا دوں گا، یہ معاہدہ ایک کام ہوا، جس کانام *’’مشارطہ‘‘* یعنی آپس میں شرط لگانا۔

☘... *معاہدہ کے بعد دعا*
ہمارے *حضرت ڈاکٹر عبدالحئی صاحب رحمۃ اللہ علیہ، امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ* کی اس پہلی بات پر تھوڑا اضافہ فرماتے ہوئے فرمایا کرتے کہ یہ معاہدہ کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ سے کہو کہ یا اللہ! میں نے یہ معاہدہ کرلیا ہے کہ آج کے دن گناہ نہیں کروں گا، اور فرائض و واجبات سب اداکروں گا، شریعت کے مطابق چلوں گا، حقوق اللہ اور حقوق العباد کی پابندی کروں گا، لیکن یا اللہ! آپ کی توفیق کے بغیر میں اس معاہدے پر قائم نہیں رہ سکتا، اس لئے جب میں نے یہ معاہدہ کرلیا ہے تو آپ میرے اس معاہدے کی لاج رکھ لیجئے اور مجھے اس معاہدے پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائیے، اور مجھے عہدشکنی سے بچالیجئے، اور مجھے اس معاہدے پر پوری طرح عمل کرنے کی توفیق عطا فرمادیجئے،


☘... *پورے دن اپنے اعمال کا ’’مراقبہ‘‘*
دعا کرنے کے بعد زندگی کے کاروبار کے لئے نکل جاؤ، اگر ملازمت کرتے ہو تو ملازمت پر چلے جاؤ، اگر تجارت کرتے ہو تو تجارت کے لئے نکل جاؤ، اگر دکان پر بیٹھتے ہوتو وہاں چلے جاؤ، وہاں جاکر یہ کروکہ ہرکام شروع کرنے سے پہلے ذراسوچ لیا کرو کہ یہ کام میرے اس معاہدے کے خلاف تو نہیں ہے، یہ لفظ جو زبان سے نکال رہا ہوں ، یہ اس معاہدے کے خلاف تو نہیں ہے؟ اگر خلاف نظر آئے تو اس سے بچنے کی کوشش کرو، اس کو *’’مراقبہ‘‘ کہا جاتا ہے، یہ دوسرا کام ہے۔*


☘... *سونے سے پہلے ’’محاسبہ‘‘*
تیسرا کام رات کو سونے سے پہلے کیا کرو، وہ ہے *’’محاسبہ‘‘* اپنے نفس سے کہو کہ تم نے صبح یہ معاہدہ کیا تھا کہ کوئی گناہ کا کام نہیں کروں گا، اور ہرکام شریعت کے مطابق کروں گا، تمام حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کروں گا، اب بتائو کہ تم نے کونسا کام اس معاہدے کے مطابق کیا؟ اور کونسا کام اس معاہدے کے خلاف کیا؟ اس طرح اپنے پورے دن کے تمام اعمال کا جائزہ لو، صبح جب میں گھر سے باہر نکلا تھا، تو فلاں آدمی سے کیا بات کہی تھی؟ جب میں ملازمت پر گیا تو وہاں اپنے فرائض میں نے کس طرح اداکئے؟ تجارت میں نے کس طرح کی؟ حلال طریسے سے کی یا حرام طریقے سے کی؟ اورجتنے لوگوں سے ملاقات کی ان کے حقوق کس طرح ادا کئے؟ بیوی بچوں کے حقوق کس طرح ادا کئے؟ *ان سب معاملات کا جائزہ لو، اس کا نام ہے ’’محاسبہ‘‘۔*



☘... *پھر شکر ادا کرو*
اس ’’محاسبہ‘‘ کے نتیجے میں اگر یہ بات سامنے آئے کہ تم نے صبح جو معاہدہ کیا تھا، اس میں کامیاب ہوگئے تو اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو کہ یا اللہ! تیرا شکر ہے کہ تونے اس معاہدے پر قائم رہنے کی توفیق دی: *اَللّٰہُمَّ لَکَ الْحَمْدُ وَلَکَ الشُّکْرُ۔*
اس شکر کا نتیجہ وہ ہوگا جس کا اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں وعدہ فرمایا ہے کہ:
لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ: اگر تم نعمت پر شکر ادا کروگے تو اللہ تعالیٰ وہ نعمت اور زیادہ دیں گے… لہٰذا جب تم نے اس معاہدے پر قائم رہنے کی نعمت پر شکر ادا کیا تو آئندہ اس نعمت میں اور اضافہ ہوگا اور اس پر ثواب ملے گا۔ (سورۂ ابراہیم:۷)


☘... *ورنہ توبہ کرو*
اور اگر اس *’’محاسبہ‘‘* کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئے کہ فلاں موقع پر اس معاہدے کی خلاف ورزی ہوگئی، فلاں موقع پر میں بھٹک گیا اور پھسل گیا اور اپنے اس عہد پر قائم نہ رہ سکا، تو اس وقت فوراً توبہ کرو اور یہ کہو کہ یا اللہ! میں نے یہ معاہدہ تو کیا تھا، لیکن نفس و شیطان کے جال میں آکر میں اس معاہدے پر قائم نہیں رہ سکا، یا اللہ! میں آپ سے معافی مانگتا ہوں ، اور توبہ کرتا ہوں ، آپ مجھے معاف فرمادیجئے۔


☘... *اپنے نفس پر سزا جاری کرو*
توبہ کرنے کے ساتھ (چوتھا کام یہ کہ معاقبہ کرویعنی) اپنے نفس کو کچھ سزا بھی دو، اور اپنے نفس سے کہو کہ تم نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے، لہٰذا تمہیں اب آٹھ رکعت نفل پڑھنی ہوں گی، یہ سزا صبح کو معاہدہ کرتے وقت ہی تجویز کرلو، لہٰذا رات کو اپنے نفس سے کہو تم نے اپنی راحت اور آرم کی خاطر اور تھوڑی سی لذت حاصل کرنے کی خاطر مجھے عہدشکنی کے اندرمبتلا کیا، اس لئے اب تمہیں تھوڑی سزا ملنی چاہئے، لہٰذا تمہاری سزا یہ ہے کہ اب سونے سے پہلے آٹھ رکعت نفل ادا کرو، اس کے بعد سونے کے لئے بستر پر جائو، اس سے پہلے سونا بند۔


☘... *سزا مناسب اور معتدل ہو*
حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایسی سزا مقرر کرو جس میں نفس پر تھوڑی مشقت بھی ہو، نہ بہت زیادہ ہوکہ نفس بدک جائے، اور نہ اتنی کم ہو کہ نفس کو اس سے مشقت ہی نہ ہو، جیسے ہندوستان میں جب سرسیدمرحوم نے علی گڑھ کالج قائم کیا، اس وقت طلبہ پر یہ لازم کردیا تھا کہ تمام طلبا پنج وقتہ نمازیں مسجد میں باجماعت ادا کریں گے، اور جو طالب علم نماز سے غیرحاضر ہوگا اس کوجرمانہ ادا کرنا پڑے گا، اور ایک نماز کاجرمانہ شاید ایک آنہ مقرر کردیا، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جو طلبہ صاحب ثروت تھے، وہ پورے مہینے کی تمام نمازوں کا جرمانہ اکٹھا پہلے جمع کرادیا کرتے تھے کہ یہ جرمانہ ہم سے وصو کرلو، اور نماز کی چھٹی، *حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ* فرماتے ہیں کہ اتنا کم اور معمولی جرمانہ بھی نہ ہو کہ آدمی اِکٹھا ہی جمع کرادے، اور نہ اتنا زیادہ ہوکہ آدمی بھاگ جائے، بلکہ درمیانہ اور معتدل جرمانہ مقرر کرنا چاہئے، مثلاًآٹھ رکعت نفل پڑھنے کی سزا مقرر کرنا ایک مناسب سزا ہے۔


☘... *کچھ ہمت کرنی پڑے گی*
بہرحال! *اگر نفس کی اصلاح کرنی ہے تو تھوڑے بہت ہاتھ پائوں ہلانے پڑیں گے، کچھ نہ کچھ مشقت برداشت کرنی پڑے گی، کچھ نہ کچھ ہمت تو کرنی ہوگی، اور اس کے لئے عزم اورارادہ کرنا ہوگا، ویسے ہی بیٹھے بیٹھے تو نفس کی اصلاح نہیں ہوجائے گی،* لہٰذا یہ طے کرلو کہ جب کبھی نفس غلط راستے پر جائے گا تو اس وقت آٹھ رکعت نفل ضرور پڑھوں گا، جب نفس کو پتہ چلے گا کہ یہ آٹھ رکعت پڑھنے کی ایک نئی مصیبت کھڑی ہوگئی، تو آئندہ کل وہ نفس تمہیں گناہ سے بچانے کی کوشش کرے گا، تاکہ اس آٹھ رکعت نفل سے جان چھوٹ جائے، اس طرح وہ نفس آہستہ آہستہ انشاء اللہ سیدھے راستے پر آجائے گا، اور پھر تمہیں نہیں بہکائے گا۔


☘... *یہ چار کام کرلو*
*امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ* کی نصیحت کا خلاصہ یہ ہے کہ چار کام کرلو:
(1⃣)… *صبح کے وقت مشارطہ یعنی معاہدہ۔*
(2⃣)… *ہرعمل کے وقت مراقبہ۔*
(3⃣)… *رات کو سونے سے پہلے محاسبہ۔*
(4⃣)… *اگر نفس بہک جائے تو سونے سے پہلے معاقبہ یعنی اس کو سزا دینا۔*


... *یہ عمل مسلسل کرنا ہوگا*
ایک بات اور یاد رکھنی چاہئے کہ دوچار روز یہ عمل کرنے کے بعد یہ مت سمجھ لینا کہ بس اب ہم پہنچ گئے، اوربزرگ بن گئے، بلکہ یہ عمل تومسلسل کرنا ہوگا، اور اس میں یہ ہوگا کہ کسی دن تم غالب آجاؤ گے، اور کسی دن شیطان غالب آجائے گا، لیکن ایسا نہ ہوکہ اس کے غالب آنے سے تم گھبرا جاؤ اور یہ عمل چھوڑبیٹھو، اس لئے کہ اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت ہے، انشاء اللہ اس طرح گرتے پڑتے ایک دن منزل مقصود تک پہنچ جاؤگے، اور اگر یہ عمل کرنے کے بعد پہلے دن ہی منزل مقصود پر پہنچ جاؤگے، تواس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ دماغ میں یہ خناس سوار ہوجائے گا کہ میں تو جنید اور شبلی بن گیا، اس لئے کبھی اس عمل کے ذریعہ کامیابی ہوگی، اور کبھی ناکامی ہوگی، *جس دن کامیابی ہوجائے تو اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو، اور جس دن ناکامی ہوجائے اس دن توبہ و استغفار کرو، اور اپنے نفس پر سزا جاری کرو، اور اپنے برے فعل پر ندامت اور شکستگی کا اظہار کرو،* یہ ندامت اور شکستگی انسان کو کہاں سے کہاں پہنچادیتی ہے۔

- کتاب: اصلاحی خطبات،جلد7،صفحہ 280
- مجموعۂ بیانات: حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب

- *طالبِ دعا: ابومعاذ راشدحسین*
-اسے آگے شئیر فرماکر صدقۂ جاریہ کے مستحق بنیں۔*اصلاحِ نفس کیلئے نسخۂ اکسیر:*



To memorize the whole process, remember the word SMART-PER


Self Contract  ’’معاہدہ‘‘
Monitoring  ’’مراقبہ‘‘
Audit ’’محاسبہ‘‘
Repent “توبہ”
Thankfulness ‘‘شکر‘‘
Punish “سزا”
Effort “ہمت”
Repeat “مسلسل”

Post A Comment: