​​
کچھ دیر پہلے ایک انڈے بیچنے والی بچی دیکھی۔ عمر ہوگی کوئی 14-15 سال۔ شکل پہ ہی لکھا تھا کہ فاقوں کی ماری بے حال گھرانے سے تعلق رکھتی ہے۔ اپنی ماں کے ساتھ انڈےبیچ رہی تھی۔ میرا دل کیا کہ انکو کچھ نہ کچھ پیسے دوں۔ عجیب بے چینی میں اٹھا باہر نکلا۔ پیسے دینے کی ہمت نہ ہو سکی۔
کہیں انکی خوداری کو ٹھیس نہ پہنچے۔
اس لئے 5 انڈے خرید لئے۔
یہ جو چھوٹے چھوٹے بچے سردیوں میں انڈے بیچتے نظر آتے ہیں۔
ان سے ایک دو انڈے خرید لیا کریں۔ ضرورت نہ بھی ہو تو۔
تاکہ یہ جلد از جلد اپنے گھروں کو جا سکیں۔
اتنی کم عمر میں ساری رات انڈے نہ بکنے کی وجہ سے مارے مارے پھرتے ہیں۔
کیا خبر کوئی وحشی کتا انکو نقصان پہنچانےکا سوچے۔۔
اور اگر کوئی زیادتی کر بھی لے گا تو ان میں اتنی سکت نہیں کہ یہ لڑ سکیں۔
یہ وہ بچے ہوتے ہیں جو کسی سکول میں صبح پڑھ رہے ہوتے ہیں۔


پورا سال کام کر نہیں سکتے کیونکہ پورا سال تو انڈے بکتے نہیں۔
اور نہ ان میں طاقت ہوتی ہے کہ کوئی سخت کام کر سکیں۔
بھیک نہیں مانگتے یہ۔ انڈے بیچتے ہیں۔ تاکہ محنت کی روٹی کھا سکیں اور گھر والوں کو کھلا سکیں۔
ان کی بھی ماں ہوتی ہوگی۔
جس کا دل ہر وقت ان میں اٹکا رہتا ہوگا کہ کب انڈے بکیں اور انکا لا ل گھر آئے۔ سخت سردی میں ٹھٹھرتا لال۔ جو اپنے گھر کا چولہا جلانے کےلئے سخت سردی میں مارا مارا پھر رہا ہوتا ہے۔ یہ وہ بچے ہیں جنکو اگر سردی لگ بھی جائے تو اپنے کولر میں بھرے انڈوں سے ایک انڈہ نہیں کھا پاتے کیونکہ چند انڈے ہی انکی ساری رات کی کمائی ہوتے ہیں۔
اگر ہم یا ہمارا بچہ اسطرح سردی میں ساری رات باہر رہے تو ؟ کیسا لگے گا؟ کیا کیفیت ہوگی ہماری ؟
کہنا تو بہت کچھ چاہتا ہوں لیکن ہمت نہیں ہو رہی۔!!

Post A Comment: