*مسئلہ #73*
*نجومی کے پاس جانا*
سوال:
کیا نجومی کو ہاتھ دکھانا اسلامی تعلیمات کی روشنی میں صحیح ہے یا نہیں؟ اور کیا اس زمانے میں کوئی شخص نجومی کو ہاتھ دکھا سکتا ہے؟ برائے کرم آپ تفصیل سے اس کے بارے میں بتائیں۔ میں نے سنا ہے کہ جو آج کے دور میں ہاتھ دیکھے چالیس دن تک اس کی کوئی بھی عبادت قبول نہیں ہوتی۔ آپ کے جواب کا منتظر ہوں۔
جواب:
نجومی کو ہاتھ دکھانا شرعاً ناجائز اور حرام ہے اور اس کی بتائی ہوئی بات پر صحت کا عقیدہ رکھنے میں اندیشہ کفر ہے، اس زمانے میں بھی یہی حکم ہے۔
حدیث میں ہے:
من أتی کاہنًا اور عرافًا فصدّقہ بما یقول
فقد کفر بما أنزل علی محمد۔
اور آپ نے جو بات سنی ہے اس کے متعلق صحیح روایت اس طرح ہے:
من أتی عرافًا فسألہ عن شيءٍ لم یقبل لہ صلاة أربعین لیلة۔ رواہ مسلم
(مشکاة شریف)
یعنی جو کوئی کسی کاہن یا نجومی کے پاس آ کر کسی چیز کے متعلق دریافت کرے تو اس کی چالیس دن کی نمازیں مقبول نہیں ہوں گی۔
فقط واللہ اعلم
مفتی ڈاکٹر سلمان صاحب لاہور

Post A Comment: