*مسئلہ #72*
*ملازم کی تنخواہ*
سوال:
ایک ملازم کو مالک نے مہینے کے درمیان میں، 13 تاریخ کو فارغ کر دیا تو ملازم نےکہا: مجھے مہینہ پورا کرنے دو یا میری پوری تنخواہ دے دو تو مالک نے پوری تن خواہ دے دی، آیا ملازم کے لیے پورے مہینے کی تنخواہ لینا جائز ہے؟
جواب:
واضح رہے کہ ملازم اپنی خدمات کی فراہمی پر تنخواہ وصول کرتا ہے۔ پس جب تک خدمات فراہمی کا سلسلہ جاری رہے اتنے عرصہ تک کی تنخواہ وصول کرنا اس کے لیے جائز ہوتا ہے، اور جب یہ سلسلہ باقی نہ رہے تو زائد عرصہ کی تنخواہ کا وہ حق دار نہ ہوگا، لہذا صورتِ مسئولہ میں ملازم 13 تاریخ کے بعد کے عرصہ کی تنخواہ کا مطالبہ کرنے کا حق دار نہ تھا، تاہم اگر مالک نے کام لیے بغیر ہی پورے مہینہ کی تنخواہ رضامندی سے دی ہو تو یہ اس کی طرف سے تبرع و احسان ہوگا اور مذکورہ شخص کے لیے استعمال جائز ہوگا۔ لیکن اگر اس نے رضامندی سے نہ دی ہو اور تقرر کے وقت یا بعد میں ایسا کوئی معاہدہ نہیں ہوا تھا کہ اگر مہینے کے درمیان ملازمت سے فارغ کیا گیا تو ایک مہینے کی پیشگی تن خواہ دی جائے گی تو مذکورہ ملازم کو چاہیے کہ وہ تیرہ دنوں کے علاوہ کی تنخواہ مالک کو واپس کردے۔
فقط واللہ اعلم
مفتی ڈاکٹر سلمان صاحب لاہور

Post A Comment: