سورہ الصّف آیت نمبر 2
یٰۤاَیُّہَا  الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا  لِمَ  تَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا  تَفۡعَلُوۡنَ ﴿۲﴾
 
ترجمہ:
اے ایمان والو ! تم ایسی بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں ؟ (٢)
 
تفسیر:
2: امام احمد اور امام بغوی نے روایت نقل کی ہے کہ بعض صحابہ کرام نے آپس میں اس قسم کی باتیں کی تھیں کہ اگر ہمیں یہ معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کو کونسا عمل سب سے زیادہ پسند ہے تو ہم اس کے لیے جان تک قربان کردیں۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو بلایا، اور یہ سورت انہیں پڑھ کر سنائی، (تفسیر مظہری اور ابن کثیر) اس میں پہلے تو انہیں یہ ادب سکھایا گیا ہے کہ کوئی ایسی بات زبان سے نہیں نکالنی چاہیے جس میں دعوے کا کوئی پہلو نکلتا ہو کہ میں فلاں کام ضرور کروں گا، کیونکہ عین ممکن ہے کہ کسی وجہ سے وہ کام ہو نہ سکے اور دعویٰ جھوٹا ہوجائے، اور انسان جو کچھ کہہ رہا ہے، وہ کر نہ سکے۔ ہاں اپنے اوپر بھروسہ کرنے کے بجائے عاجزی کے ساتھ کوئی ارادہ ظاہر کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اس کے بعد ان کی خواہش کے مطابق بتا دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کو جہاد کا عمل بہت پسند ہے۔ یہاں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ قرآن و حدیث میں بہت سے اعمال کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند ہیں، اور حقیقت یہ ہے کہ مختلف حالات اور مختلف انسانوں کے لحاظ سے مختلف اعمال کو سب سے زیادہ محبوب قرار دیا گیا ہے، مثلاً کسی وقت جہاد ہو رہا ہو تو اس وقت وہی عمل سب سے زیادہ محبوب ہوگا، کسی وقت کسی کے والدین کو خدمت کی ضرورت ہے تو اس وقت ان کی خدمت ہی سب سے بہتر عمل قرار پائے گا۔

آسان ترجمۂ قرآن مفتی محمد تقی عثمانی
https://goo.gl/2ga2EU

Post A Comment: