داؤد بن قیس نے ہمیں عامر بن کریز کے آزاد کردہ غلام ابو سعید سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
 
" ایک دوسرے سے حسد نہ کرو،  ایک دوسرے کے لئے دھوکے سے قیمتیں نہ بڑھاؤ، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے منہ نہ پھیرو۔ تم میں سے کوئی  دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے اور اللہ تعالیٰ  کے بندے بن جاؤ جو آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ مسلمان (دوسرے )مسلمان کا بھائی ہے۔ نہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے اور نہ اس کی تحقیر کرتا ہے۔ تقویٰ یہاں ہے۔" اور آپ ﷺ نے اپنے سینہ مبارک کی جانب تین مرتبہ اشارہ فرمایا۔(پھر فرمایا) " کسی آدمی کے بُرے ہونے کے لئے  یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی تحقیر کرے۔ ہر مسلمان پر (دوسرے) مسلمان کا خون اور  مال اور  عزت حرام ہیں۔"
صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ والادب،  باب تحریم ظلم المسلم، و خذلہ واحتقارہ  و دمہ و عرضہ و مالہ، حدیث:2564(6541)
 
فوائد و مسائل: اس حدیث مبارکہ میں فصیح و بلیغ اور جامع انداز میں ایسے اصول بیان فرمائے گئے ہیں کہ اگر مسلم معاشرہ ان اصولوں پر من و عن عمل شروع کر دے تو تمام معاشرتی مسائل ختم ہو جائیں۔

حدیث شریف میں مسلمانوں کو حسد سے منع فرمایا گیا ہے۔ بلا شبہ یہ ایک ایسی برائی ہے جو نیکیوں کو کھا جاتی ہے اور حاسد دن رات خود ہی جلتا رہتا ہے۔ حسد کی وجہ سے اللہ تعالیٰ پر توکل اور خود محنت کرکے کمائی کرنے کا جزبہ ختم ہو جاتا ہے اور حاسد دن رات دوسرے لوگوں کی آسائشوں کو دیکھ کر کڑھتا رہتا ہے، نیز اس کے حسد کی وجہ سے لوگوں کے دل میں اس کے لئے تلخی پیدا ہو جاتی ہے۔

لوگوں کے لئے اشیاء کو ان کی قیمتوں سے زائد بتا کر فروخت کرکے ناجائز منافع کمانا ایک قبیح امر ہے اور اس سے عام لوگوں کے لئے اشیائے ضرورت کا حصول انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ 'تناجش' کے معنی  ہیں " دھوکہ دینے اور بھاؤ بڑھانے کے لئے زیادہ بولی لگانا۔" اس میں یہ ہوتا ہے کہ بعض اوقات دکان دار اپنا مال زیادہ قیمت پر فروخت کرنے اور خریداروں کو دھوکہ دینے کے لئے اپنے ساتھ کچھ لوگ رکھتے ہیں جو اس کے فرضی خریدار ہوتے ہیں۔ جب کوئی گاہک آتا ہے اور کسی چیز کی قیمت لگاتا ہے تو یہ فرضی خریدار آگے بڑھ کر اس چیز کی زیادہ قیمت لگا دیتے ہیں۔ خریدار یہ سمجھتا ہے کہ اس چیز کی قیمت واقعی زیادہ ہے، جبھی دوسرے خریدار زیادہ قیمت لگا رہے ہیں۔ رسولِ کریم ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے کہ یہ ناجائز اور حرام ہے۔

دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف نفرت اور بغض کے جزبات رکھنے سے ایک تو زندگی انتہائی مشکل ہو جاتی ہے، پھر اس سے دوریاں اور تلخیاں بھی پیدا ہوتی ہیں اور بسا اوقات یہ سلسلہ برسوں تک چلتا رہتا  ہے۔ نفرت کی وجہ سے ہی انسان دوسرے بندے کو دیکھ کر منہ پھیر لیتا ہے اور یہ بھی ایک ناپسندیدہ امر ہے۔

دوسرے کے سودے پر سودا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک بندے نے کسی  چیزکی قیمت   گاہک کو بتائی اور گاہک سے سودا  طے کر  رہا ہے تو کوئی دوسرا شخص دخل اندازی کر کے اس کی مقرر کردہ قیمت سے کم قیمت بتا  کروہ چیز گاہک کو فروخت کرنے کی کوشش کرے۔ اس عمل سے منع فرمایا گیا ہے ۔

مثلاً ایک آدمی کپڑا خرید رہا ہے اور دکان دار اسے 100 روپے میں فروخت کر رہا ہے۔ اگر ایک دوسرا دکان دار اس گاہک کو کہے کہ یہی کپڑا میں تمہیں 90 روپے میں فروخت کرتا ہوں۔ یہ کام ناجائز اور حرام ہے کیوں کہ اس میں دوسرے مسلمان بھائی کی روزی اور رزق کو نقصان پہنچانے کی نیت ہے۔

اسلامی اخوت کا یہ اصول اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان فرمایا  ہے کہ تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں اور اس کا مطلب یہ ہے کہ  جو برتاؤ انسان اپنے حقیقی بھائی سے کرتا ہے، بالکل ویسا ہی برتاؤ دوسرے مسلمانوں کے ساتھ بھی روا رکھے اور انہیں بھی اپنا بھائی سمجھے۔

تقویٰ دل میں ہونے کا مفہوم یہ ہے کہ تقویٰ صرف ظاہری طور پر ہی نہیں ہونا چاہیئے کہ انسان اپنے ظاہر کو تو  دین دار بنا لے لیکن اس کے دل میں تمام اخلاقی برائیاں اور رذائل موجود ہوں، بلکہ تقویٰ یہ ہے کہ انسان ظاہر کے ساتھ ساتھ اپنے دل کی بیب صفائی کرے  اور اس کا تزکیہ کر کے تمام گناہوں اور برے اعمال سے اسے پاک و صاف کر لے اور  اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا مطیع اور اطاعت گزار بندہ بنا کر رکھے۔

اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھنا اور اس کی تحقیر و تذلیل کرنا انتہائی قبیح فعل ہے اور اس  سے ہمیں منع فرمایا گیا ہے۔ ایسا عموماً دولت ، اثر و رسوخ یا بزعم خود تقویٰ و پرہیز گاری کے دعویٰ کی وجہ سے ہوتا ہے جب انسان اپنے آپ کو متقی، پرہیز گار اور جنتی سمجھے اور اپنے مسلمان بھائی کو گناہ گار تصور کرے۔ اپنے اثر و رسوخ کے تکبر میں اپنے مسلمان بھائی کو ذلیل کرے اور اپنی دولت کے زعم میں اپنے غریب بھائی کی توہین کرے۔

واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم

Post A Comment: